<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:48:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 22:48:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی20 ورلڈکپ: آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281897/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت سے منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے فروری سے شروع ہونے والے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے میچز کا شیڈول برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچ بھارت میں ہی کھیلے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش کے گروپ مرحلے کے چار میچز کولکتہ اور ممبئی میں شیڈول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی)نے متعدد بار بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار کیا ہے جبکہ ڈھاکا حکومت نے منگل کو واضح کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر کسی دباؤ میں آ کر اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق تمام دستیاب سیکیورٹی اسیسمنٹس، بشمول آزاد اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ بھارت میں ٹورنامنٹ کے کسی بھی مقام پر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں، آفیشلز، میڈیا نمائندوں اور شائقین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ اجلاس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ٹورنامنٹ کے اتنے قریب شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں اور کسی قابلِ تصدیق سیکیورٹی خطرے کے بغیر ایسی تبدیلی مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس کے لیے ایک مثال قائم کر سکتی ہے جو عالمی گورننگ باڈی کی غیر جانبداری اور ایونٹس کی ساکھ کو متاثر کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ بی سی بی نے اپنی شرکت کو ایک کھلاڑی کے ڈومیسٹک لیگ سے متعلق ایک غیر متعلقہ معاملے سے جوڑے رکھا جس کا ٹورنامنٹ کی سیکیورٹی یا شرائطِ شرکت سے کوئی تعلق نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے اعلان کے بعد ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش کی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں آئی سی سی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کے تحت بھارت میں ہونے والے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنےکا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب آئی پی ایل کی ٹیم کلکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بھارتی ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد لیگ سے باہر کر دیا تھا جس کے بعد دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ہنگامی اجلاس بلاتے ہوئے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت سے منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے ۔</strong></p>
<p>آئی سی سی نے فروری سے شروع ہونے والے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے میچز کا شیڈول برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچ بھارت میں ہی کھیلے جائیں گے۔</p>
<p>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش کے گروپ مرحلے کے چار میچز کولکتہ اور ممبئی میں شیڈول ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی)نے متعدد بار بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار کیا ہے جبکہ ڈھاکا حکومت نے منگل کو واضح کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر کسی دباؤ میں آ کر اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرے گی۔</p>
<p>آئی سی سی کے مطابق تمام دستیاب سیکیورٹی اسیسمنٹس، بشمول آزاد اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ بھارت میں ٹورنامنٹ کے کسی بھی مقام پر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں، آفیشلز، میڈیا نمائندوں اور شائقین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔</p>
<p>بورڈ اجلاس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ٹورنامنٹ کے اتنے قریب شیڈول میں تبدیلی ممکن نہیں اور کسی قابلِ تصدیق سیکیورٹی خطرے کے بغیر ایسی تبدیلی مستقبل کے آئی سی سی ایونٹس کے لیے ایک مثال قائم کر سکتی ہے جو عالمی گورننگ باڈی کی غیر جانبداری اور ایونٹس کی ساکھ کو متاثر کرے گی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ بی سی بی نے اپنی شرکت کو ایک کھلاڑی کے ڈومیسٹک لیگ سے متعلق ایک غیر متعلقہ معاملے سے جوڑے رکھا جس کا ٹورنامنٹ کی سیکیورٹی یا شرائطِ شرکت سے کوئی تعلق نہیں۔</p>
<p>آئی سی سی کے اعلان کے بعد ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش کی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔</p>
<p>قبل ازیں آئی سی سی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کے تحت بھارت میں ہونے والے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنےکا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب آئی پی ایل کی ٹیم کلکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو بھارتی ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد لیگ سے باہر کر دیا تھا جس کے بعد دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ہنگامی اجلاس بلاتے ہوئے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281897</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jan 2026 13:47:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/22001346d0bbc9a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/22001346d0bbc9a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
