<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:22:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:22:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل، سام سنگ اور گوگل : استعمال شدہ فونز کی نئی کسٹمز ویلیوز مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281888/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیویشن کراچی نے 62 مختلف اقسام کے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ موبائل فونز کی درآمد پر نئی کسٹمز ویلیوز مقرر کر دیں اور اس سلسلے میں پیر کو ویلیویشن رولنگ نمبر 2035 جاری کر دی گئی ہے۔ ان نئی قیمتوں کا اطلاق تجارتی بنیادوں پر بغیر کسی پیکنگ اور لوازمات کے درآمد کیے جانے والے ایپل، سام سنگ اور گوگل پکسل جیسے برانڈز کے استعمال شدہ فونز پر ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ سابقہ رولنگ ڈیڑھ سال سے زائد پرانی ہو چکی تھی اور اس میں طے شدہ قیمتیں اب بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال کی عکاسی نہیں کر رہی تھیں، اس کے علاوہ آئی فون کے کئی نئے ماڈلز کو شامل کرنا اور پرانے ماڈلز کی قیمتوں میں کمی (ڈپریشن) پر غور کرنا بھی ضروری ہو گیا تھا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 25 اور 25 اے کے تحت درآمدی ڈیٹا اور مارکیٹ کے رجحانات کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے بعد قیمتوں کے ازسرِ نو تعین کی مشق شروع کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طے شدہ قیمتیں تجارتی بنیاد پر درآمد کیے جانے والے فونز پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے حساب کتاب کے لیے بنیادی حیثیت رکھیں گی، خواہ فون کی ظاہری حالت یا گریڈ کچھ بھی ہو۔ نئی رولنگ میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ پرانے فونز پاکستان برآمد کیے جانے سے کم از کم چھ ماہ قبل ایکٹیویٹ ہو چکے ہوں اور درآمد کنندہ کو اس کی مدت کا اعلان کرنا ہوگا جس کی تصدیق کسٹمز افسران کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی ایسا برانڈ یا ماڈل درآمد کیا جاتا ہے جو اس فہرست میں درج نہیں تو کسٹمز حکام قانون کے مطابق اس کی قدر کا تعین خود کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس عمل کے دوران متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ متعدد میٹنگز کی گئیں اور ان کا موقف سننے کے ساتھ ساتھ گزشتہ 90 دنوں کے درآمدی ڈیٹا کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے واضح کیا کہ درآمد کنندگان کی جانب سے ڈکلیئر کی گئی قیمتیں مارکیٹ کی اصل قیمتوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں، اسی لیے ٹرانزیکشن ویلیو اور دیگر قانونی طریقوں کو ناکافی پاتے ہوئے آخر کار کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 25(7) کے تحت مارکیٹ انکوائری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انکوائری کے دوران مختلف مارکیٹوں کا دورہ کر کے اصل قیمتِ فروخت حاصل کی گئی اور پھر اس میں سے منافع اور دیگر اخراجات کی کٹوتی کے بعد حتمی سی اینڈ ایف قیمتیں مقرر کر دی گئیں ، تاکہ ٹیکسوں کی درست وصولی یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیویشن کراچی نے 62 مختلف اقسام کے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ موبائل فونز کی درآمد پر نئی کسٹمز ویلیوز مقرر کر دیں اور اس سلسلے میں پیر کو ویلیویشن رولنگ نمبر 2035 جاری کر دی گئی ہے۔ ان نئی قیمتوں کا اطلاق تجارتی بنیادوں پر بغیر کسی پیکنگ اور لوازمات کے درآمد کیے جانے والے ایپل، سام سنگ اور گوگل پکسل جیسے برانڈز کے استعمال شدہ فونز پر ہوگا۔</strong></p>
<p>ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ سابقہ رولنگ ڈیڑھ سال سے زائد پرانی ہو چکی تھی اور اس میں طے شدہ قیمتیں اب بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال کی عکاسی نہیں کر رہی تھیں، اس کے علاوہ آئی فون کے کئی نئے ماڈلز کو شامل کرنا اور پرانے ماڈلز کی قیمتوں میں کمی (ڈپریشن) پر غور کرنا بھی ضروری ہو گیا تھا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 25 اور 25 اے کے تحت درآمدی ڈیٹا اور مارکیٹ کے رجحانات کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے بعد قیمتوں کے ازسرِ نو تعین کی مشق شروع کی گئی۔</p>
<p>یہ طے شدہ قیمتیں تجارتی بنیاد پر درآمد کیے جانے والے فونز پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے حساب کتاب کے لیے بنیادی حیثیت رکھیں گی، خواہ فون کی ظاہری حالت یا گریڈ کچھ بھی ہو۔ نئی رولنگ میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ پرانے فونز پاکستان برآمد کیے جانے سے کم از کم چھ ماہ قبل ایکٹیویٹ ہو چکے ہوں اور درآمد کنندہ کو اس کی مدت کا اعلان کرنا ہوگا جس کی تصدیق کسٹمز افسران کریں گے۔</p>
<p>اگر کوئی ایسا برانڈ یا ماڈل درآمد کیا جاتا ہے جو اس فہرست میں درج نہیں تو کسٹمز حکام قانون کے مطابق اس کی قدر کا تعین خود کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس عمل کے دوران متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ متعدد میٹنگز کی گئیں اور ان کا موقف سننے کے ساتھ ساتھ گزشتہ 90 دنوں کے درآمدی ڈیٹا کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔</p>
<p>حکام نے واضح کیا کہ درآمد کنندگان کی جانب سے ڈکلیئر کی گئی قیمتیں مارکیٹ کی اصل قیمتوں سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں، اسی لیے ٹرانزیکشن ویلیو اور دیگر قانونی طریقوں کو ناکافی پاتے ہوئے آخر کار کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 25(7) کے تحت مارکیٹ انکوائری کی گئی۔</p>
<p>اس انکوائری کے دوران مختلف مارکیٹوں کا دورہ کر کے اصل قیمتِ فروخت حاصل کی گئی اور پھر اس میں سے منافع اور دیگر اخراجات کی کٹوتی کے بعد حتمی سی اینڈ ایف قیمتیں مقرر کر دی گئیں ، تاکہ ٹیکسوں کی درست وصولی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281888</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Jan 2026 16:46:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/21160937425d402.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/21160937425d402.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
