<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکوں کی اپیلیں مسترد، سی سی پی کی جانب سے عائد 20 کروڑ 50 لاکھ روپے کے جرمانے برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281884/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمپٹیشن ایپلیٹ ٹربیونل(سی اے ٹی) نے متعدد بینکوں اور پاکستان بینکرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی جانب سے دائر کردہ طویل عرصے سے زیرِ التواء دس اپیلوں کو خارج کر دیا۔ ٹربیونل نے  سی سی پی کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں کارٹیلائزیشن (گٹھ جوڑ) کے الزامات پر مجموعی طور پر تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ  روپے کے جرمانے عائد کیے گئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کے بیان کے مطابق ان اپیلوں میں کمیشن کے اپریل 2008 اور جون 2009 کے احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا، جن میں پی بی اے اور سات بڑے بینکوں کو  انہانسڈ سیونگز اکاؤنٹ(ای ایس اے) کے آغاز میں ملی بھگت کا مرتکب پایا گیا تھا۔ کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس مشترکہ اقدام نے مقابلے کی فضا کو متاثر کیا اور چھوٹے کھاتہ داروں کے لیے غیر منصفانہ حالات پیدا کیے، جو کہ کمپٹیشن آرڈیننس 2007 کی خلاف ورزی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے پی بی اے پر 30 ملین روپے جبکہ حبیب بینک، الائیڈ بینک، ایم سی بی بینک، یونائیٹڈ بینک، سعودی پاک بینک، اٹلس بینک اور نیشنل بینک پر 25، 25 ملین روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ ٹربیونل نے طویل بحث کے بعد مختصر فیصلے میں تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے جرمانوں کی توثیق کر دی ہے،جس کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ انصاف میں تاخیر تو ہو سکتی ہے، مگر اس سے بچا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ادارہ غیر مسابقتی طرزِ عمل پر احتساب سے ہمیشہ کے لیے نہیں بچ سکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمپٹیشن ایپلیٹ ٹربیونل(سی اے ٹی) نے متعدد بینکوں اور پاکستان بینکرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی جانب سے دائر کردہ طویل عرصے سے زیرِ التواء دس اپیلوں کو خارج کر دیا۔ ٹربیونل نے  سی سی پی کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں کارٹیلائزیشن (گٹھ جوڑ) کے الزامات پر مجموعی طور پر تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ  روپے کے جرمانے عائد کیے گئے تھے۔</strong></p>
<p>سی سی پی کے بیان کے مطابق ان اپیلوں میں کمیشن کے اپریل 2008 اور جون 2009 کے احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا، جن میں پی بی اے اور سات بڑے بینکوں کو  انہانسڈ سیونگز اکاؤنٹ(ای ایس اے) کے آغاز میں ملی بھگت کا مرتکب پایا گیا تھا۔ کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس مشترکہ اقدام نے مقابلے کی فضا کو متاثر کیا اور چھوٹے کھاتہ داروں کے لیے غیر منصفانہ حالات پیدا کیے، جو کہ کمپٹیشن آرڈیننس 2007 کی خلاف ورزی تھی۔</p>
<p>سی سی پی نے پی بی اے پر 30 ملین روپے جبکہ حبیب بینک، الائیڈ بینک، ایم سی بی بینک، یونائیٹڈ بینک، سعودی پاک بینک، اٹلس بینک اور نیشنل بینک پر 25، 25 ملین روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ ٹربیونل نے طویل بحث کے بعد مختصر فیصلے میں تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے جرمانوں کی توثیق کر دی ہے،جس کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔</p>
<p>سی سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ انصاف میں تاخیر تو ہو سکتی ہے، مگر اس سے بچا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ادارہ غیر مسابقتی طرزِ عمل پر احتساب سے ہمیشہ کے لیے نہیں بچ سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281884</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Jan 2026 15:22:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/21150955755f8bb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/21150955755f8bb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
