<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش میں اسلام پسند جماعت کی مقبولیت میں اضافہ، اعتدال پسند فکر مند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281879/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت جسے طویل عرصے تک آزادی کی مخالفت پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک انتخابی سیاست سے باہر رکھا گیا، اب اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل خود کو نئے سرے سے منظم کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد  جماعتِ اسلامی اپنی کرپشن مخالف ساکھ اور فلاحی کاموں کے ذریعے نئی حمایت حاصل کر رہی ہے، جس نے اعتدال پسندوں اور اقلیتی برادریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ادارے  انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ مقبول جماعت قرار دیا گیا ہے، جو 12 فروری کے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے لیے سخت حریف ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ ردِعمل کے بجائے فلاحی سیاست کر رہے ہیں۔اگرچہ جماعت نے پہلی بار ایک ہندو امیدوار بھی نامزد کیا ہے اور خواتین کو مساوی حقوق کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن حقوقِ نسواں کی کارکنان اسے محض ایک انتخابی چال قرار دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حسینہ واجد کے جانے کے بعد سے اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں نے ملک میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے، جس پر عبوری حکومت نے سخت کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جماعتِ اسلامی اقتدار میں آتی ہے تو بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور وہ پاکستان کے مزید قریب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت جسے طویل عرصے تک آزادی کی مخالفت پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک انتخابی سیاست سے باہر رکھا گیا، اب اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل خود کو نئے سرے سے منظم کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد  جماعتِ اسلامی اپنی کرپشن مخالف ساکھ اور فلاحی کاموں کے ذریعے نئی حمایت حاصل کر رہی ہے، جس نے اعتدال پسندوں اور اقلیتی برادریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔</p>
<p>امریکی ادارے  انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ مقبول جماعت قرار دیا گیا ہے، جو 12 فروری کے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے لیے سخت حریف ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ ردِعمل کے بجائے فلاحی سیاست کر رہے ہیں۔اگرچہ جماعت نے پہلی بار ایک ہندو امیدوار بھی نامزد کیا ہے اور خواتین کو مساوی حقوق کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن حقوقِ نسواں کی کارکنان اسے محض ایک انتخابی چال قرار دے رہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب حسینہ واجد کے جانے کے بعد سے اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں نے ملک میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے، جس پر عبوری حکومت نے سخت کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جماعتِ اسلامی اقتدار میں آتی ہے تو بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور وہ پاکستان کے مزید قریب ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281879</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Jan 2026 13:24:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/211310374c6c8c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/211310374c6c8c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
