<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکامی پر وزیرِ اعظم کی افغانستان پر کڑی تنقید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281861/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہبازشریف نے افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی میں ناکامی پر کابل حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے نتیجے میں پاکستان کے پاس اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ تمام تر تجارت معطل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک افغان سرحد اکتوبر 2025 سے پرتشدد جھڑپوں کے باعث تجارت کے لیے بند ہے جبکہ ترکیہ اور قطر کی جانب سے ثالثی کی متعدد کوششوں کے باوجود تاحال انسدادِ دہشت گردی کے فریم ورک پر اتفاق نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا سے متعلق قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاک افغان تجارت مکمل طور پر بند ہے جو نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن انہوں نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری افغان حکومت کی جانب سے امن و استحکام کو نظر انداز کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان فیصلہ کرے کہ آیا وہ واقعی امن چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں پاکستان کے ساتھ امن کی پرواہ نہیں ہے تو انہیں کم از کم اپنے لوگوں پر رحم کرنا چاہیے اور ان پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو افغانستان کے لیے بہتر ہے وہی پاکستان کے لیے بہتر ہے، اور اسی طرح اس کے برعکس بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں قوموں کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس مایوسی کا اظہار کیا کہ ماضی اور حال کی افغان حکومتیں پاکستان کی حمایت اور تعاون کی قدر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 40 لاکھ پناہ گزینوں کی میزبانی کر کے افغانستان پر کوئی احسان نہیں کیا مگر اس کے بدلے میں ہمیں جس رویے کا سامنا کرنا پڑا وہ انتہائی دل آزاری کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 2020 کے دوحہ معاہدے کا بھی تذکرہ کیا، جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے افغانستان کے وعدوں کی وضاحت کی گئی تھی۔ انہوں نے افغان حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ بالکل واضح تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اپنی سرزمین پر متحرک دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کریں، چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، بی ایل اے ہو یا بھارت کی پشت پناہی حاصل کرنے والے گروہ۔ بدقسمتی سے، انہوں نے (افغان حکومت نے) کوئی سنجیدہ عزم ظاہر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کے حوصلے اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ افغان تنازع نے پاکستان کو بالخصوص قیمتی انسانی جانوں اور بے مثال قربانیوں کی صورت میں بھاری نقصان پہنچایا۔ افغان جنگ کے اثرات بالکل واضح ہیں۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور انہیں خاندان کی طرح خوش آمدید کہا، مگر بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ انہوں نے دہشت گردی کے باعث ہزاروں پاکستانیوں کی شہادتوں کا حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ 2018 تک پاکستان نے اپنی سکیورٹی فورسز کی کوششوں اور عوام کی قربانیوں کے باعث دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا۔ 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد اچھے اور برے طالبان کی کوئی تفریق نہیں رہی تھی۔ مگر 2018 کے بعد دہشت گردی دوبارہ کیوں بڑھی؟ اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ملک میں تشدد کی نئی لہر کی وجہ سوات سے متعدد دہشت گردوں کی رہائی اور افغانستان سے لوگوں کی پاکستان آمد کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی بنیادی وجہ تھی کہ ملک میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھانے لگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جاری بدامنی آج بھی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو بدنام کرنے کی ایک منظم اور مذموم کوشش کی جا رہی ہے، جس میں آن لائن گروہ سرحد پار پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل تو فراہم کیے گئے مگر کچھ علاقوں، جن میں خیبرپختونخوا بھی شامل ہے وہاں ترقی نظر نہیں آتی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہبازشریف نے افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی میں ناکامی پر کابل حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے نتیجے میں پاکستان کے پاس اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ تمام تر تجارت معطل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔</strong></p>
<p>پاک افغان سرحد اکتوبر 2025 سے پرتشدد جھڑپوں کے باعث تجارت کے لیے بند ہے جبکہ ترکیہ اور قطر کی جانب سے ثالثی کی متعدد کوششوں کے باوجود تاحال انسدادِ دہشت گردی کے فریم ورک پر اتفاق نہیں ہو سکا۔</p>
<p>خیبرپختونخوا سے متعلق قومی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاک افغان تجارت مکمل طور پر بند ہے جو نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن انہوں نے ہمیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔</p>
<p>عبوری افغان حکومت کی جانب سے امن و استحکام کو نظر انداز کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان فیصلہ کرے کہ آیا وہ واقعی امن چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں پاکستان کے ساتھ امن کی پرواہ نہیں ہے تو انہیں کم از کم اپنے لوگوں پر رحم کرنا چاہیے اور ان پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو افغانستان کے لیے بہتر ہے وہی پاکستان کے لیے بہتر ہے، اور اسی طرح اس کے برعکس بھی۔</p>
<p>دونوں قوموں کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس مایوسی کا اظہار کیا کہ ماضی اور حال کی افغان حکومتیں پاکستان کی حمایت اور تعاون کی قدر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 40 لاکھ پناہ گزینوں کی میزبانی کر کے افغانستان پر کوئی احسان نہیں کیا مگر اس کے بدلے میں ہمیں جس رویے کا سامنا کرنا پڑا وہ انتہائی دل آزاری کا باعث ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 2020 کے دوحہ معاہدے کا بھی تذکرہ کیا، جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے افغانستان کے وعدوں کی وضاحت کی گئی تھی۔ انہوں نے افغان حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ بالکل واضح تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اپنی سرزمین پر متحرک دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کریں، چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو، بی ایل اے ہو یا بھارت کی پشت پناہی حاصل کرنے والے گروہ۔ بدقسمتی سے، انہوں نے (افغان حکومت نے) کوئی سنجیدہ عزم ظاہر نہیں کیا۔</p>
<p>انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کے حوصلے اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ افغان تنازع نے پاکستان کو بالخصوص قیمتی انسانی جانوں اور بے مثال قربانیوں کی صورت میں بھاری نقصان پہنچایا۔ افغان جنگ کے اثرات بالکل واضح ہیں۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور انہیں خاندان کی طرح خوش آمدید کہا، مگر بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ انہوں نے دہشت گردی کے باعث ہزاروں پاکستانیوں کی شہادتوں کا حوالہ دیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ 2018 تک پاکستان نے اپنی سکیورٹی فورسز کی کوششوں اور عوام کی قربانیوں کے باعث دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا۔ 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد اچھے اور برے طالبان کی کوئی تفریق نہیں رہی تھی۔ مگر 2018 کے بعد دہشت گردی دوبارہ کیوں بڑھی؟ اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں۔‘</p>
<p>انہوں نے ملک میں تشدد کی نئی لہر کی وجہ سوات سے متعدد دہشت گردوں کی رہائی اور افغانستان سے لوگوں کی پاکستان آمد کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی بنیادی وجہ تھی کہ ملک میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھانے لگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جاری بدامنی آج بھی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو بدنام کرنے کی ایک منظم اور مذموم کوشش کی جا رہی ہے، جس میں آن لائن گروہ سرحد پار پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل تو فراہم کیے گئے مگر کچھ علاقوں، جن میں خیبرپختونخوا بھی شامل ہے وہاں ترقی نظر نہیں آتی۔‘</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281861</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Jan 2026 09:53:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/21093820fbfcee9.webp" type="image/webp" medium="image" height="550" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/21093820fbfcee9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
