<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:43:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:43:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور یو اے ای کا اقتصادی تعلقات کا جائزہ، ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سرمایہ کاری کیلئے تعاون پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281856/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یواے ای) نے دونوں ممالک میں باہمی اقتصادی روابط کا جائزہ لیا اور ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر ہونے والی  ملاقات میں سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور یو اے ای کے وزیر مملکت برائے مالیاتی امور محمد الحسینی کے درمیان ڈیووس میں ہونے والی ملاقات میں زیرِ بحث آئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات، علاقائی صورتحال اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی شراکت داری کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کے مطابق اماراتی وزیر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے معاملات پرآگاہی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے انہیں آئی ایم ایف پروگرام کے تسلسل بشمول ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے جاری جائزے اور  کلائمیٹ ریزیلینس  (موسمیاتی لچک) پروگرام کے پہلے جائزے کے بارے میں بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے دوطرفہ ڈپازٹس اور ٹرانزیکشنز سمیت مسلسل مالی تعاون پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے لیے روایتی امداد کو طویل مدتی سرمایہ کاری کی شراکت داری میں بدلنے کا خواہشمند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد الحسینی نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے زور دیا کہ اقتصادی استحکام اور طویل مدتی ترقی کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی تعاون انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کو سراہا، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد کی صورتحال کی ستائش کی۔ محمد الحسینی نے عوامی سطح پر مضبوط روابط کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے حالیہ اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں ٹوکنائزیشن پر توجہ مرکوز کرنے والی  خصوصی اتھارٹی کا قیام شامل ہے اور اماراتی مالیاتی اداروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) روابط اور آف شورنگ سرگرمیوں میں حوصلہ افزا رجحانات کا ذکر کیا، جسے یو اے ای کی جانب سے سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی اور علاقائی اقتصادی منظر نامے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے  اماراتی وزیر نے بہتر ہوتے ہوئے امکانات پر امید کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت کا سال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال کے دوران اہم مالیاتی لین دین کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جو مارکیٹ کے بہتر اعتماد اور بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے افراطِ زر (مہنگائی) میں نمایاں کمی اور میکرو اکنامک استحکام میں بہتری کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد الحسینی نے اصلاحاتی پروگرام کے آغاز سے پاکستان کی معاشی حالت میں بہتری کا اعتراف کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلسل ترقی کے لیے پالیسی کا تسلسل ضروری ہے۔ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کی قیادت میں اصلاحات کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور اماراتی وفد کو نجکاری کے اقدامات سمیت جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد الحسینی نے کارکردگی اور مسابقت بڑھانے میں نجکاری کی اہمیت پر زور دیا اور نجی شعبے کی شرکت سے چلنے والی متحدہ عرب امارات کی اقتصادی تبدیلی کا تجربہ بھی شیئر کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اقتصادی تعاون کو مستحکم کرنے اور پاکستان اور یو اے ای کے درمیان باہمی طور پر فائدہ مند اقدامات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یواے ای) نے دونوں ممالک میں باہمی اقتصادی روابط کا جائزہ لیا اور ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر ہونے والی  ملاقات میں سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔</strong></p>
<p>یہ بات وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور یو اے ای کے وزیر مملکت برائے مالیاتی امور محمد الحسینی کے درمیان ڈیووس میں ہونے والی ملاقات میں زیرِ بحث آئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات، علاقائی صورتحال اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی شراکت داری کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کے مطابق اماراتی وزیر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کے معاملات پرآگاہی حاصل کی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے انہیں آئی ایم ایف پروگرام کے تسلسل بشمول ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے جاری جائزے اور  کلائمیٹ ریزیلینس  (موسمیاتی لچک) پروگرام کے پہلے جائزے کے بارے میں بریفنگ دی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے دوطرفہ ڈپازٹس اور ٹرانزیکشنز سمیت مسلسل مالی تعاون پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے لیے روایتی امداد کو طویل مدتی سرمایہ کاری کی شراکت داری میں بدلنے کا خواہشمند ہے۔</p>
<p>محمد الحسینی نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے زور دیا کہ اقتصادی استحکام اور طویل مدتی ترقی کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی تعاون انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کو سراہا، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد کی صورتحال کی ستائش کی۔ محمد الحسینی نے عوامی سطح پر مضبوط روابط کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے حالیہ اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں ٹوکنائزیشن پر توجہ مرکوز کرنے والی  خصوصی اتھارٹی کا قیام شامل ہے اور اماراتی مالیاتی اداروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کی نشاندہی کی۔</p>
<p>انہوں نے بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) روابط اور آف شورنگ سرگرمیوں میں حوصلہ افزا رجحانات کا ذکر کیا، جسے یو اے ای کی جانب سے سراہا گیا۔</p>
<p>عالمی اور علاقائی اقتصادی منظر نامے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے  اماراتی وزیر نے بہتر ہوتے ہوئے امکانات پر امید کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت کا سال رہا ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال کے دوران اہم مالیاتی لین دین کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جو مارکیٹ کے بہتر اعتماد اور بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے افراطِ زر (مہنگائی) میں نمایاں کمی اور میکرو اکنامک استحکام میں بہتری کو بھی اجاگر کیا۔</p>
<p>محمد الحسینی نے اصلاحاتی پروگرام کے آغاز سے پاکستان کی معاشی حالت میں بہتری کا اعتراف کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلسل ترقی کے لیے پالیسی کا تسلسل ضروری ہے۔ محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کی قیادت میں اصلاحات کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور اماراتی وفد کو نجکاری کے اقدامات سمیت جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر بریفنگ دی۔</p>
<p>محمد الحسینی نے کارکردگی اور مسابقت بڑھانے میں نجکاری کی اہمیت پر زور دیا اور نجی شعبے کی شرکت سے چلنے والی متحدہ عرب امارات کی اقتصادی تبدیلی کا تجربہ بھی شیئر کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اقتصادی تعاون کو مستحکم کرنے اور پاکستان اور یو اے ای کے درمیان باہمی طور پر فائدہ مند اقدامات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281856</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Jan 2026 19:58:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/201948294bc7434.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/201948294bc7434.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
