<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ، جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل نے فلسطینی خاندانوں کو جبری انخلا کا حکم دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281852/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی افواج نے درجنوں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں سے نکلنے کا حکم دے دیا ہے، جو اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد پہلا جبری انخلا قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی رہائشیوں اور حماس کے مطابق یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیلی فوج اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو مزید وسعت دے رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خان یونس کے مشرق میں واقع قصبے بنی سہیلہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ پیر کے روز فوج کی جانب سے پمفلٹس گرائے گئے، جن میں العرقیب محلے کے خیمہ بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پمفلٹس عربی، عبرانی اور انگریزی زبان میں تھے، جن میں کہا گیا کہ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اور فوری انخلا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی سے قبل، اسرائیلی فوج ایسے پمفلٹس ان علاقوں میں گراتی تھی جن پر بعد میں حملے یا چھاپے مارے جاتے تھے، جس کے باعث کئی خاندانوں کو بار بار نقل مکانی کرنا پڑی۔ رہائشیوں اور حماس کے ایک ذریعے کے مطابق جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دوبارہ ایسے انتباہی پمفلٹس گرائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کا عمل تاحال پہلے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکا، جس کے تحت بڑی لڑائی رک گئی، اسرائیل نے غزہ کے نصف سے بھی کم حصے سے انخلا کیا اور حماس نے یرغمالیوں  کو رہا کردیا۔ اس کے باوجود غزہ کی دو ملین سے زائد آبادی کا بیشتر حصہ اب بھی ایک تہائی علاقے تک محدود ہے، جہاں لوگ خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنی سہیلہ کے ایک رہائشی محمود کے مطابق انخلا کے احکامات کم از کم 70 خاندانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج گزشتہ ایک ماہ میں کئی بار پیلی لکیر کو آگے بڑھا چکی ہے، جس سے فلسطینی علاقوں کا مزید حصہ اس کے کنٹرول میں جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی حکومتی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتی نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد مشرقی خان یونس میں اسرائیلی کنٹرول پانچ بار بڑھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق تازہ اقدام سے تقریباً 3 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں، جس سے پہلے سے موجود انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان افراد پر فائرنگ کرتی ہے جنہیں وہ خطرہ سمجھتی ہے، جبکہ اس نے غزہ میں فضائی حملے اور محدود کارروائیاں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جنگ بندی کے بعد اب تک 460 سے زائد فلسطینی شہید  جبکہ تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 71 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی افواج نے درجنوں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں سے نکلنے کا حکم دے دیا ہے، جو اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد پہلا جبری انخلا قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی رہائشیوں اور حماس کے مطابق یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیلی فوج اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو مزید وسعت دے رہی ہے۔</strong></p>
<p>خان یونس کے مشرق میں واقع قصبے بنی سہیلہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ پیر کے روز فوج کی جانب سے پمفلٹس گرائے گئے، جن میں العرقیب محلے کے خیمہ بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پمفلٹس عربی، عبرانی اور انگریزی زبان میں تھے، جن میں کہا گیا کہ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اور فوری انخلا ضروری ہے۔</p>
<p>اکتوبر میں امریکہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی سے قبل، اسرائیلی فوج ایسے پمفلٹس ان علاقوں میں گراتی تھی جن پر بعد میں حملے یا چھاپے مارے جاتے تھے، جس کے باعث کئی خاندانوں کو بار بار نقل مکانی کرنا پڑی۔ رہائشیوں اور حماس کے ایک ذریعے کے مطابق جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دوبارہ ایسے انتباہی پمفلٹس گرائے گئے ہیں۔</p>
<p>جنگ بندی کا عمل تاحال پہلے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکا، جس کے تحت بڑی لڑائی رک گئی، اسرائیل نے غزہ کے نصف سے بھی کم حصے سے انخلا کیا اور حماس نے یرغمالیوں  کو رہا کردیا۔ اس کے باوجود غزہ کی دو ملین سے زائد آبادی کا بیشتر حصہ اب بھی ایک تہائی علاقے تک محدود ہے، جہاں لوگ خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>بنی سہیلہ کے ایک رہائشی محمود کے مطابق انخلا کے احکامات کم از کم 70 خاندانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج گزشتہ ایک ماہ میں کئی بار پیلی لکیر کو آگے بڑھا چکی ہے، جس سے فلسطینی علاقوں کا مزید حصہ اس کے کنٹرول میں جا رہا ہے۔</p>
<p>غزہ کی حکومتی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتی نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد مشرقی خان یونس میں اسرائیلی کنٹرول پانچ بار بڑھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق تازہ اقدام سے تقریباً 3 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں، جس سے پہلے سے موجود انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان افراد پر فائرنگ کرتی ہے جنہیں وہ خطرہ سمجھتی ہے، جبکہ اس نے غزہ میں فضائی حملے اور محدود کارروائیاں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جنگ بندی کے بعد اب تک 460 سے زائد فلسطینی شہید  جبکہ تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 71 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281852</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Jan 2026 16:25:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/20162332bf817e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/20162332bf817e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
