<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان 4 سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کے لئے تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281849/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ کا رخ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو کہ چند سال قبل آخری لمحات میں ڈیفالٹ (دیوالیہ ہونے) سے بچنے کے بعد ملک کی معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی میڈیا ادارے کو بتایا کہ پاکستان آنے والے ہفتوں میں ایڈوائزرز (مشیروں) کے لیے تجویز (پروپوزل) جاری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ جو کہ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس 2026 میں شرکت کے لیے ڈیووس میں موجود ہیں، نے بتایا کہ حکومت ابھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ڈالر، یورو یا سکوک بانڈ جاری کیا جائے جب کہ ساتھ ہی چند ہفتوں کے اندر ملک کا پہلا پانڈا بانڈ لانچ کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بلومبرگ کو بتایا کہ ہم نے میکرو اکنامک استحکام کے حوالے سے حاصل ہونے والے ثمرات کو مزید مستحکم کرلیا ہے، اگر آپ ہر کلیدی اشاریے جیسے کہ مہنگائی، شرحِ سود، مالیاتی صورتحال اور کرنٹ اکاؤنٹ کو دیکھیں، تو ان کی سمتِ میں واضح بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے 2022 سے بانڈ مارکیٹ کے دروازے عملی طور پر بند تھے لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بیل آؤٹ پروگراموں کے تحت محتاط مالیاتی اقدامات اپنانے کے بعد اب ملک نے دوبارہ اپنے قدم جما لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ پاکستان کی مہنگائی، جو تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب ایک ہندسہ پر آ گئی ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں، بشمول موڈیز، ایس اینڈ پی اور فِچ، نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد  اورنگزیب نے کہا کہ توقع ہے کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال تک زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے برابر (امپورٹ کور) پہنچ جائیں گے، جو کہ ایک ایسا درجہ ہے جسے عالمی سطح پر ایک معیار تسلیم کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ روپے پر فی الحال  دباؤ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام طویل عرصے سے ملتوی ساختی اصلاحات کے ساتھ ساتھ آیا ہے، جن میں سرکاری ملکیت والی کمپنیوں کی فروخت اور ٹیکس نیٹ کی توسیع شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی کامیاب نجکاری کے بعد، حکومت اب نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل میں حصہ فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا۔ یہی واحد طریقہ ہے جس سے پائیدار نمو کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ کا رخ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو کہ چند سال قبل آخری لمحات میں ڈیفالٹ (دیوالیہ ہونے) سے بچنے کے بعد ملک کی معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی میڈیا ادارے کو بتایا کہ پاکستان آنے والے ہفتوں میں ایڈوائزرز (مشیروں) کے لیے تجویز (پروپوزل) جاری کرے گا۔</p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ جو کہ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس 2026 میں شرکت کے لیے ڈیووس میں موجود ہیں، نے بتایا کہ حکومت ابھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ڈالر، یورو یا سکوک بانڈ جاری کیا جائے جب کہ ساتھ ہی چند ہفتوں کے اندر ملک کا پہلا پانڈا بانڈ لانچ کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بلومبرگ کو بتایا کہ ہم نے میکرو اکنامک استحکام کے حوالے سے حاصل ہونے والے ثمرات کو مزید مستحکم کرلیا ہے، اگر آپ ہر کلیدی اشاریے جیسے کہ مہنگائی، شرحِ سود، مالیاتی صورتحال اور کرنٹ اکاؤنٹ کو دیکھیں، تو ان کی سمتِ میں واضح بہتری آئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے 2022 سے بانڈ مارکیٹ کے دروازے عملی طور پر بند تھے لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بیل آؤٹ پروگراموں کے تحت محتاط مالیاتی اقدامات اپنانے کے بعد اب ملک نے دوبارہ اپنے قدم جما لیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ پاکستان کی مہنگائی، جو تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب ایک ہندسہ پر آ گئی ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں، بشمول موڈیز، ایس اینڈ پی اور فِچ، نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی ہے۔</p>
<p>محمد  اورنگزیب نے کہا کہ توقع ہے کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال تک زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے برابر (امپورٹ کور) پہنچ جائیں گے، جو کہ ایک ایسا درجہ ہے جسے عالمی سطح پر ایک معیار تسلیم کیا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ روپے پر فی الحال  دباؤ نہیں ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام طویل عرصے سے ملتوی ساختی اصلاحات کے ساتھ ساتھ آیا ہے، جن میں سرکاری ملکیت والی کمپنیوں کی فروخت اور ٹیکس نیٹ کی توسیع شامل ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی کامیاب نجکاری کے بعد، حکومت اب نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل میں حصہ فروخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا۔ یہی واحد طریقہ ہے جس سے پائیدار نمو کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281849</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Jan 2026 15:49:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/20143815466305d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/20143815466305d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
