<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شپنگ لائنز سرکاری شرحِ مبادلہ کے مطابق چارجز وصول کر رہی ہیں، ایف بی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281837/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ شپنگ لائنز اب اپنی فیسیں مکمل طور پر اپنے متعلقہ مجاز کمرشل بینکوں کے فراہم کردہ شرحِ مبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کی بنیاد پر وصول کر رہی ہیں، جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے ضوابط کے عین مطابق ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان کسٹمز نے شپنگ چارجز کے لیے سرکاری بینک ریٹ کا نفاذ یقینی بنا کر ایک تاریخی اور صنعت گیر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس اقدام سے بین الاقوامی شپنگ لائنز کی جانب سے من مانی اور اضافی بلنگ کی دیرینہ روایت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن(اے پی ایس اے) نے  مراسلے کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ تمام ممبر شپنگ لائنز اب اسٹیٹ بینک کے قوانین کے مطابق صرف بینک ریٹ کی بنیاد پر فیس چارج کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ کن پیش رفت پاکستان کسٹمز کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطح کی  کمیٹی کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے، جس نے شپنگ ایجنٹس، ٹرمینل آپریٹرز، تجارتی اداروں اور بین الاقوامی شپنگ لائنز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں ایک اہم سنگ میل اس وقت عبور ہوا جب پاکستان میں تقریباً 26 فیصد کارگو ہینڈل کرنے والی سب سے بڑی کمپنی  مرسک  نے سرکاری بینک ریٹ لاگو کرنا شروع کیے، جس سے باقی صنعت کے لیے ایک مثال قائم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرسک کے علاوہ دیگر بڑی بین الاقوامی شپنگ لائنز اور ان کے مقامی ایجنٹس جن میں سی ایم اے ،سی او ایس سی او ، ایچ اے پی اے جی ،ایل ایل او وائی ڈی ،ون ودیگرایجنسیز شامل ہیں نے تعمیل کی تحریری تصدیق جمع کروا دی ہے۔ اس طرح پوری صنعت میں اسٹیٹ بینک کے ریٹ پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی سال سے تاجر اور برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) شپنگ لائنز کی جانب سے ڈالر کے من مانے اور مہنگے ریٹس لگانے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے تھے جو اکثر اسٹیٹ بینک کے نرخوں سے کہیں زیادہ ہوتے تھے۔ اس عمل سے کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہو رہا تھا، برآمدات پر منفی اثر پڑ رہے تھے اور شپنگ چارجز میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب توقع ہے کہ اس اقدام سے تاجروں اور برآمد کنندگان پر لاگت کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہوگا، چارجز میں شفافیت  اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوگا۔ یہ کامیابی جائز تجارت کے تحفظ، کاروبار میں آسانی  اور پاکستان کی برآمدی معاشی ترقی کے لیے ایف بی آر کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ شپنگ لائنز اب اپنی فیسیں مکمل طور پر اپنے متعلقہ مجاز کمرشل بینکوں کے فراہم کردہ شرحِ مبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کی بنیاد پر وصول کر رہی ہیں، جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے ضوابط کے عین مطابق ہے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان کسٹمز نے شپنگ چارجز کے لیے سرکاری بینک ریٹ کا نفاذ یقینی بنا کر ایک تاریخی اور صنعت گیر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس اقدام سے بین الاقوامی شپنگ لائنز کی جانب سے من مانی اور اضافی بلنگ کی دیرینہ روایت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن(اے پی ایس اے) نے  مراسلے کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ تمام ممبر شپنگ لائنز اب اسٹیٹ بینک کے قوانین کے مطابق صرف بینک ریٹ کی بنیاد پر فیس چارج کر رہی ہیں۔</p>
<p>یہ فیصلہ کن پیش رفت پاکستان کسٹمز کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطح کی  کمیٹی کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے، جس نے شپنگ ایجنٹس، ٹرمینل آپریٹرز، تجارتی اداروں اور بین الاقوامی شپنگ لائنز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔</p>
<p>اس سلسلے میں ایک اہم سنگ میل اس وقت عبور ہوا جب پاکستان میں تقریباً 26 فیصد کارگو ہینڈل کرنے والی سب سے بڑی کمپنی  مرسک  نے سرکاری بینک ریٹ لاگو کرنا شروع کیے، جس سے باقی صنعت کے لیے ایک مثال قائم ہوئی۔</p>
<p>مرسک کے علاوہ دیگر بڑی بین الاقوامی شپنگ لائنز اور ان کے مقامی ایجنٹس جن میں سی ایم اے ،سی او ایس سی او ، ایچ اے پی اے جی ،ایل ایل او وائی ڈی ،ون ودیگرایجنسیز شامل ہیں نے تعمیل کی تحریری تصدیق جمع کروا دی ہے۔ اس طرح پوری صنعت میں اسٹیٹ بینک کے ریٹ پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔</p>
<p>کئی سال سے تاجر اور برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) شپنگ لائنز کی جانب سے ڈالر کے من مانے اور مہنگے ریٹس لگانے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے تھے جو اکثر اسٹیٹ بینک کے نرخوں سے کہیں زیادہ ہوتے تھے۔ اس عمل سے کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہو رہا تھا، برآمدات پر منفی اثر پڑ رہے تھے اور شپنگ چارجز میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی تھی۔</p>
<p>اب توقع ہے کہ اس اقدام سے تاجروں اور برآمد کنندگان پر لاگت کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہوگا، چارجز میں شفافیت  اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوگا۔ یہ کامیابی جائز تجارت کے تحفظ، کاروبار میں آسانی  اور پاکستان کی برآمدی معاشی ترقی کے لیے ایف بی آر کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281837</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Jan 2026 13:08:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/20130111ca81bc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="899" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/20130111ca81bc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
