<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور انڈونیشیا کا تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق، چاول کا شعبہ ترجیحات میں شامل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور انڈونیشیا نے منگل کو ادارہ جاتی روابط کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں جوائنٹ ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کمیٹی اور تجارتی فورمز کے اجلاس جلد بلانا شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق یہ اتفاقِ رائے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسنینتو سوکوٹجو کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وفاقی وزیر نے سفیر کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی تجارتی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا، جس میں بالخصوص چاول کی برآمدات پر توجہ مرکوز کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے مالی اور تجارتی میکانزم پر فعال طریقے سے کام کررہی ہے جس سے معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر قیمتوں میں مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے، اس اقدام کا مقصد پاکستان اپنی مارکیٹ شیئر کو برقرار رکھنے کے ساتھ اس میں اضافہ بھی کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر چاول کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے اور بین الاقوامی معیار کی تسلیم شدہ کوالٹی فراہم کرتا ہے، تاہم انہوں نے اس امر کا بھی اعتراف کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا سخت مقابلہ بالخصوص بڑے پیداواری ممالک کی حالیہ مداخلتوں کے بعد برآمد کنندگان کے لیے چیلنجز پیدا کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ 2015 میں چاول کی تجارت کے حوالے سے طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مدت 2019 میں ختم ہو گئی تھی، جس کے تحت حکومتوں کے درمیان (جی ٹو جی) سالانہ 10 لاکھ میٹرک ٹن تک چاول کی خریداری کی گنجائش موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے نظرثانی شدہ مسودہ پہلے ہی انڈونیشیا کو فراہم کر دیا ہے اور امید ظاہر کی کہ اسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی، تاکہ اس بنیادی اجناس میں طویل المدتی تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران وزیرِ تجارت نے زرعی برآمدات، بالخصوص کنو کو درپیش مسائل بھی اٹھائے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان انڈونیشیا کی جانب سے امپورٹ کوٹہ (درآمدی کوٹے) کے اجراء کا منتظر ہے تاکہ موسم کے مطابق بلا تعطل برآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس میں تاخیر کے نتیجے میں کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ کے مطابق  پاکستانی کنو کے لیے خوراک اور زراعت سے متعلق ٹیسٹنگ کی شرائط میں حالیہ اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جنہیں 8 سے بڑھا کر 24 کردیا گیا ہے۔ اس اقدام سے برآمدی لاگت اور پروسیسنگ کے وقت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ اس معاملے کے حل کے لئے  ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن پہلے ہی اپنے انڈونیشی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کے سفیر نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطح رابطوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اٹھائے گئے مسائل بالخصوص چاول کے شعبے میں تعاون، زرعی مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی سہولیات غوروخوض کے لیے جکارتہ (انڈونیشیا کے دارالحکومت) پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے خوراک کے تحفظ (فوڈ سیکیورٹی)، درآمدات کے ذرائع میں تنوع اور مسابقتی قیمتوں میں انڈونیشیا کی گہری دلچسپی کا بھی تذکرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے ادارہ جاتی روابط کو تیز کرنے پر اتفاق کیا جس میں جوائنٹ ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیٹی اور تجارتی فورمز کے جلد انعقاد کے ساتھ ساتھ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے آن لائن (ورچوئل) مشاورت بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو منظم مذاکرات، بروقت فیصلوں اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور انڈونیشیا نے منگل کو ادارہ جاتی روابط کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں جوائنٹ ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کمیٹی اور تجارتی فورمز کے اجلاس جلد بلانا شامل ہے۔</strong></p>
<p>بیان کے مطابق یہ اتفاقِ رائے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسنینتو سوکوٹجو کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔</p>
<p>ملاقات میں وفاقی وزیر نے سفیر کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی تجارتی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا، جس میں بالخصوص چاول کی برآمدات پر توجہ مرکوز کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے مالی اور تجارتی میکانزم پر فعال طریقے سے کام کررہی ہے جس سے معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر قیمتوں میں مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے، اس اقدام کا مقصد پاکستان اپنی مارکیٹ شیئر کو برقرار رکھنے کے ساتھ اس میں اضافہ بھی کرسکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر چاول کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے اور بین الاقوامی معیار کی تسلیم شدہ کوالٹی فراہم کرتا ہے، تاہم انہوں نے اس امر کا بھی اعتراف کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا سخت مقابلہ بالخصوص بڑے پیداواری ممالک کی حالیہ مداخلتوں کے بعد برآمد کنندگان کے لیے چیلنجز پیدا کررہا ہے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ 2015 میں چاول کی تجارت کے حوالے سے طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مدت 2019 میں ختم ہو گئی تھی، جس کے تحت حکومتوں کے درمیان (جی ٹو جی) سالانہ 10 لاکھ میٹرک ٹن تک چاول کی خریداری کی گنجائش موجود تھی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے نظرثانی شدہ مسودہ پہلے ہی انڈونیشیا کو فراہم کر دیا ہے اور امید ظاہر کی کہ اسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی، تاکہ اس بنیادی اجناس میں طویل المدتی تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی جاسکے۔</p>
<p>اسی دوران وزیرِ تجارت نے زرعی برآمدات، بالخصوص کنو کو درپیش مسائل بھی اٹھائے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان انڈونیشیا کی جانب سے امپورٹ کوٹہ (درآمدی کوٹے) کے اجراء کا منتظر ہے تاکہ موسم کے مطابق بلا تعطل برآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس میں تاخیر کے نتیجے میں کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>اعلامیہ کے مطابق  پاکستانی کنو کے لیے خوراک اور زراعت سے متعلق ٹیسٹنگ کی شرائط میں حالیہ اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جنہیں 8 سے بڑھا کر 24 کردیا گیا ہے۔ اس اقدام سے برآمدی لاگت اور پروسیسنگ کے وقت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ اس معاملے کے حل کے لئے  ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن پہلے ہی اپنے انڈونیشی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔</p>
<p>انڈونیشیا کے سفیر نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطح رابطوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اٹھائے گئے مسائل بالخصوص چاول کے شعبے میں تعاون، زرعی مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی سہولیات غوروخوض کے لیے جکارتہ (انڈونیشیا کے دارالحکومت) پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے خوراک کے تحفظ (فوڈ سیکیورٹی)، درآمدات کے ذرائع میں تنوع اور مسابقتی قیمتوں میں انڈونیشیا کی گہری دلچسپی کا بھی تذکرہ کیا۔</p>
<p>دونوں فریقین نے ادارہ جاتی روابط کو تیز کرنے پر اتفاق کیا جس میں جوائنٹ ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیٹی اور تجارتی فورمز کے جلد انعقاد کے ساتھ ساتھ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے آن لائن (ورچوئل) مشاورت بھی شامل ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو منظم مذاکرات، بروقت فیصلوں اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281827</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Jan 2026 11:58:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/20110407d704984.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/20110407d704984.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
