<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل برقرار، 100 انڈیکس میں تقریباً 900 پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281826/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خریداری کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس منگل کے روز سود کی شرح میں کمی کی توقعات کے دورام  188,000 سے زائد پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے ابتدائی سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 187,192.01 پوائنٹس تک گرگیا۔ بعد ازاں زبردست تیزی کی واپسی ہوئی اور انڈیکس 188,958.37 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 860.09 پوائنٹس یا 0.46 فیصد اضافے سے 188,621.78 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز بازار میں یہ تیزی 26 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرحِ سود میں کمی کی بڑھتی ہوئی توقعات کے باعث دیکھی جارہی ہے۔ ان توقعات کو حال ہی میں ہونے والی ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی سے تقویت ملی ہے، جو زری پالیسی میں مزید نرمی کے اشارے دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کے تخمینے میں کمی کرتے ہوئے رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا اندازہ 3.6 فیصد سے کم کرکے 3.2 فیصد کر دیا ہے جو اکتوبر 2025 کے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں 2025 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 3 فیصد قرار دی ہے جبکہ جاری مالی سال 2026 میں اس کے 3.2 فیصد اور 2027 میں 4.1 فیصد تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا سلسلہ برقرار رہا اور مارکیٹ ایک نئی تاریخی بلند سطح پر بند ہوئی۔ سرمایہ کاروں کی بھرپور خریداری، توقعات سے بہتر کارپوریٹ مالی نتائج پر خوش بینی اور آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اجلاس میں پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی کی توقعات نے مارکیٹ کے جذبات کو تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,662.86 پوائنٹس یا 1.44 فیصد کے نمایاں اضافے سے 187,761.69 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی جبکہ ڈالر دباؤ کا شکار رہا اور امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار چار ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ تجارتی جنگ سے متعلق خدشات کے دوبارہ ابھرنے سے رسک سینٹیمنٹ متاثر ہوا اور امریکی اثاثوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے ذریعے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش جو یورپ کے ساتھ تجارتی کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اس صورتحال کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوئے، جن میں سوئس فرانک اور سونا نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کشیدگیوں کے باعث گزشتہ اپریل میں نافذ کیے گئے وسیع تر ’’لبریشن ڈے‘‘ لیویز کے بعد سامنے آنے والی ’سیل امریکا‘ ٹریڈ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئی ہے، جس کے تحت سرمایہ کار امریکی اسٹاکس، ڈالر اور ٹریژریز فروخت کرتے ہیں۔ منگل کو ایشیائی اوقاتِ کار میں اس رجحان میں تیزی کے آثار دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی کاروبار میں نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 1 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ امریکی ڈالر دباؤ کا شکار رہا اور 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار بڑھ کر 4.265 فیصد تک پہنچ گئی، جو ستمبر کے اوائل کے بعد بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.44 فیصد کم رہا اور گزشتہ ہفتے قائم ہونے والی ریکارڈ بلند سطحوں سے مزید دور ہوتا چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.91 پر بند ہوئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر حجم 1,198.65 ملین سے بڑھ کر 1,225.81 ملین ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم شیئرز کی مجموعی مالیت 63.80 ارب روپے سے کم ہو کر 63.90 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیسکول پیٹرول حجم میں سرِ فہرست رہا جس کے 113.00 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 70.45 ملین شیئرز اور ٹریٹ کارپوریشن کے 58.61 ملین شیئرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز مجموعی طور پر 240 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 240 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہوا، 213 کے حصص میں کمی اور 34 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/201907269a36f55.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/201907269a36f55.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خریداری کا رجحان برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس منگل کے روز سود کی شرح میں کمی کی توقعات کے دورام  188,000 سے زائد پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے ابتدائی سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 187,192.01 پوائنٹس تک گرگیا۔ بعد ازاں زبردست تیزی کی واپسی ہوئی اور انڈیکس 188,958.37 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 860.09 پوائنٹس یا 0.46 فیصد اضافے سے 188,621.78 پر بند ہوا۔</p>
<p>شیئرز بازار میں یہ تیزی 26 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرحِ سود میں کمی کی بڑھتی ہوئی توقعات کے باعث دیکھی جارہی ہے۔ ان توقعات کو حال ہی میں ہونے والی ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی سے تقویت ملی ہے، جو زری پالیسی میں مزید نرمی کے اشارے دے رہے ہیں۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کے تخمینے میں کمی کرتے ہوئے رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا اندازہ 3.6 فیصد سے کم کرکے 3.2 فیصد کر دیا ہے جو اکتوبر 2025 کے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں دیا گیا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں 2025 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 3 فیصد قرار دی ہے جبکہ جاری مالی سال 2026 میں اس کے 3.2 فیصد اور 2027 میں 4.1 فیصد تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا سلسلہ برقرار رہا اور مارکیٹ ایک نئی تاریخی بلند سطح پر بند ہوئی۔ سرمایہ کاروں کی بھرپور خریداری، توقعات سے بہتر کارپوریٹ مالی نتائج پر خوش بینی اور آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اجلاس میں پالیسی ریٹ میں ممکنہ کمی کی توقعات نے مارکیٹ کے جذبات کو تقویت دی۔</p>
<p>پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,662.86 پوائنٹس یا 1.44 فیصد کے نمایاں اضافے سے 187,761.69 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی جبکہ ڈالر دباؤ کا شکار رہا اور امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار چار ماہ سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ تجارتی جنگ سے متعلق خدشات کے دوبارہ ابھرنے سے رسک سینٹیمنٹ متاثر ہوا اور امریکی اثاثوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے ذریعے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش جو یورپ کے ساتھ تجارتی کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اس صورتحال کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوئے، جن میں سوئس فرانک اور سونا نمایاں رہے۔</p>
<p>ان کشیدگیوں کے باعث گزشتہ اپریل میں نافذ کیے گئے وسیع تر ’’لبریشن ڈے‘‘ لیویز کے بعد سامنے آنے والی ’سیل امریکا‘ ٹریڈ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئی ہے، جس کے تحت سرمایہ کار امریکی اسٹاکس، ڈالر اور ٹریژریز فروخت کرتے ہیں۔ منگل کو ایشیائی اوقاتِ کار میں اس رجحان میں تیزی کے آثار دکھائی دیے۔</p>
<p>ابتدائی کاروبار میں نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 1 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ امریکی ڈالر دباؤ کا شکار رہا اور 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار بڑھ کر 4.265 فیصد تک پہنچ گئی، جو ستمبر کے اوائل کے بعد بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.44 فیصد کم رہا اور گزشتہ ہفتے قائم ہونے والی ریکارڈ بلند سطحوں سے مزید دور ہوتا چلا گیا۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.91 پر بند ہوئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر حجم 1,198.65 ملین سے بڑھ کر 1,225.81 ملین ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم شیئرز کی مجموعی مالیت 63.80 ارب روپے سے کم ہو کر 63.90 ارب روپے رہی۔</p>
<p>حیسکول پیٹرول حجم میں سرِ فہرست رہا جس کے 113.00 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 70.45 ملین شیئرز اور ٹریٹ کارپوریشن کے 58.61 ملین شیئرز شامل ہیں۔</p>
<p>منگل کے روز مجموعی طور پر 240 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 240 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہوا، 213 کے حصص میں کمی اور 34 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت برقرار رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/201907269a36f55.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/201907269a36f55.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281826</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Jan 2026 19:39:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/201049310b6589f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/201049310b6589f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
