<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:36:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 08:36:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ بینک کے صدر کے دورے کیلئے ایجنڈا حتمی مراحل میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281822/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا  کی پانچ روزہ دورہ پاکستان (31 جنوری تا 4 فروری 2026) سے قبل حکومتی اور عالمی ادارے کے درمیان ایجنڈے کی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ دورے کے دوران عالمی بینک کے صدر اور ان کی ٹیم 2 فروری کو وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک، اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے ساتھ مشترکہ اجلاس کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن نے وزارت توانائی، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ورلڈ بینک کے صدر کے لیے ہر ایک پریزنٹیشن آٹھ منٹ کی تیار کریں۔ اس سلسلے میں ورلڈ بینک کے وفد نے پیر کو وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے ملاقات کی، جس کی قیادت عثمان ڈیون نے کی، جو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے کے نائب صدر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران وزیر توانائی نے اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر (آپریشنز) ڈاکٹر رامی احمد سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے توانائی شعبے میں پائیداری اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر توانائی نے ورلڈ بینک کے وفد کا خیرمقدم کیا اور ترقیاتی منصوبوں میں تاریخی تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی بتایا کہ ان کا حالیہ دورہ ورلڈ بینک ہیڈکوارٹرز میں توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں ورلڈ بینک کی ٹیم نے قابل اعتماد اور سستی توانائی نظام کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر رامی احمد نے پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کے مواقع بیان کیے۔ وزیر توانائی نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے موجودہ منصوبوں کی تفصیل پیش کی۔ ان منصوبوں میں 8,000 میگاواٹ کی مہنگی بجلی پیدا کرنے والی پلانٹس کو آئی جی سی ای پی سے خارج کرنا شامل ہے، جس سے صارفین کے مستقبل کے اخراجات میں تقریباً 17 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید اقدامات میں تقسیم کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری، سرکلر قرضہ میں 780 ارب روپے کی کمی، درآمد شدہ کوئلہ پلانٹس کا تھر کے مقامی کوئلے پر منتقل ہونا، اور ٹرانسمیشن میں رکاوٹوں کا ازالہ شامل ہے۔ صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے ٹیرف مراعات، کیپٹیو پاور کی قومی گرڈ میں شمولیت، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ترغیبی اقدامات، اور نیٹ میٹرنگ ضوابط میں اصلاحات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ اور گورننس اصلاحات کے تحت ہول سیل مارکیٹ کو آزاد کر کے مسابقت کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور پانچ سالہ قومی بجلی منصوبہ نافذ کر کے کلیدی اداروں کی تنظیم نو کی جا رہی ہے۔ وزارت کی تکنیکی یونٹ پی پی ایم سی اصلاحات کی نگرانی اور تجزیاتی مدد فراہم کر رہی ہے، جبکہ آئی ٹی ٹولز صارفین کی سہولت اور نگرانی کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ وزیر توانائی نے طویل مدتی توانائی کی حفاظت اور اقتصادی خوشحالی کے لیے صاف توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان ڈیون اور ڈاکٹر رامی احمد نے پاکستان کی توانائی شعبے میں اصلاحات کی کوششوں کو سراہا اور وزارت توانائی کی مضبوط وابستگی کی تعریف کی۔ انہوں نے اصلاحات کے عملی اور بروقت نفاذ پر اطمینان کا اظہار کیا اور یقین ظاہر کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کے توانائی نظام کو مضبوط کریں گے، سرمایہ کار اعتماد بڑھائیں گے اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو فروغ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا  کی پانچ روزہ دورہ پاکستان (31 جنوری تا 4 فروری 2026) سے قبل حکومتی اور عالمی ادارے کے درمیان ایجنڈے کی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ دورے کے دوران عالمی بینک کے صدر اور ان کی ٹیم 2 فروری کو وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک، اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے ساتھ مشترکہ اجلاس کریں گے۔</strong></p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن نے وزارت توانائی، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ورلڈ بینک کے صدر کے لیے ہر ایک پریزنٹیشن آٹھ منٹ کی تیار کریں۔ اس سلسلے میں ورلڈ بینک کے وفد نے پیر کو وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے ملاقات کی، جس کی قیادت عثمان ڈیون نے کی، جو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے کے نائب صدر ہیں۔</p>
<p>اسی دوران وزیر توانائی نے اسلامی ترقیاتی بینک کے نائب صدر (آپریشنز) ڈاکٹر رامی احمد سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے توانائی شعبے میں پائیداری اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر توانائی نے ورلڈ بینک کے وفد کا خیرمقدم کیا اور ترقیاتی منصوبوں میں تاریخی تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی بتایا کہ ان کا حالیہ دورہ ورلڈ بینک ہیڈکوارٹرز میں توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>ملاقات میں ورلڈ بینک کی ٹیم نے قابل اعتماد اور سستی توانائی نظام کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر رامی احمد نے پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کے مواقع بیان کیے۔ وزیر توانائی نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے موجودہ منصوبوں کی تفصیل پیش کی۔ ان منصوبوں میں 8,000 میگاواٹ کی مہنگی بجلی پیدا کرنے والی پلانٹس کو آئی جی سی ای پی سے خارج کرنا شامل ہے، جس سے صارفین کے مستقبل کے اخراجات میں تقریباً 17 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔</p>
<p>مزید اقدامات میں تقسیم کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری، سرکلر قرضہ میں 780 ارب روپے کی کمی، درآمد شدہ کوئلہ پلانٹس کا تھر کے مقامی کوئلے پر منتقل ہونا، اور ٹرانسمیشن میں رکاوٹوں کا ازالہ شامل ہے۔ صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے ٹیرف مراعات، کیپٹیو پاور کی قومی گرڈ میں شمولیت، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ترغیبی اقدامات، اور نیٹ میٹرنگ ضوابط میں اصلاحات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>مارکیٹ اور گورننس اصلاحات کے تحت ہول سیل مارکیٹ کو آزاد کر کے مسابقت کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور پانچ سالہ قومی بجلی منصوبہ نافذ کر کے کلیدی اداروں کی تنظیم نو کی جا رہی ہے۔ وزارت کی تکنیکی یونٹ پی پی ایم سی اصلاحات کی نگرانی اور تجزیاتی مدد فراہم کر رہی ہے، جبکہ آئی ٹی ٹولز صارفین کی سہولت اور نگرانی کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ وزیر توانائی نے طویل مدتی توانائی کی حفاظت اور اقتصادی خوشحالی کے لیے صاف توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی پر زور دیا۔</p>
<p>عثمان ڈیون اور ڈاکٹر رامی احمد نے پاکستان کی توانائی شعبے میں اصلاحات کی کوششوں کو سراہا اور وزارت توانائی کی مضبوط وابستگی کی تعریف کی۔ انہوں نے اصلاحات کے عملی اور بروقت نفاذ پر اطمینان کا اظہار کیا اور یقین ظاہر کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کے توانائی نظام کو مضبوط کریں گے، سرمایہ کار اعتماد بڑھائیں گے اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو فروغ دیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281822</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Jan 2026 09:57:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2009564769163b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2009564769163b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
