<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے اور چاندی کی قیمتیں مختلف عوامل سے متاثر ہوں گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281808/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مہنگائی میں کمی کے آثار اور صارفین کے اخراجات میں نسبتاً بہتر رفتار سے اضافے کے ساتھ امریکی معیشت کی مسلسل پیش رفت کے اشارے مضبوط ہوئے ہیں۔ گھروں کی فروخت میں مسلسل چوتھے ماہ اضافہ بھی اعتماد میں مزید بہتری کا باعث بنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے معاشی اعداد و شمار نے معیشت کی متوازن تصویر پیش کی ہے، جس کی توثیق بیج بک نے بھی کی ہے، جس میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے، لیبر مارکیٹ کے استحکام اور افراطِ زر کے مستحکم رہنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جمعرات کو ابتدائی بے روزگاری دعووں میں توقع سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ امریکی ریٹیل سیلز توقعات کے برعکس مضبوط رہیں اور 0.2 فیصد کے متوقع اضافے کے مقابلے میں 0.6 فیصد بڑھ گئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو جارحانہ شرحِ سود میں کٹوتی سے گریز کر سکتا ہے اور امکان ہے کہ رواں ماہ کوئی اقدام نہ کرے، تاہم مارکیٹ آنے والے مہینوں میں شرحِ سود میں کٹوتی کو درست طور پر قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر حالیہ پیش رفت کو مدنظر رکھنا بھی اہم ہے۔ سیاسی، مالیاتی اور تجارتی نوعیت کے مختلف مسائل مسلسل عالمی معاشی نظام میں خلل ڈال رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی معیشتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک حالات پیدا ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بار بار ہونے والے خلل نے ساختی، مالیاتی اور مانیٹری نظاموں کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے اور قائم شدہ اصولوں کی نفی کی ہے، جس میں اکثر جیوپولیٹیکل عوامل ذمہ دار ہیں۔ فی الوقت اس بات کے کوئی آثار نہیں کہ یہ مسائل قلیل یا درمیانی مدت میں حل ہو سکیں، کیونکہ معاشی عمل میں سیاسی مداخلت اس بحران کی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک یہ غیر یقینی کیفیت برقرار رہے گی، عالمی معیشتوں میں معاشی نمو اور افراطِ زر کے حوالے سے منظرنامہ غیر متوقع اور غیر یقینی ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بعض معیشتوں کو عارضی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم دیگر کو منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور مجموعی استحکام ایک مثالی مگر غیر یقینی نتیجہ ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر کے مستقبل کے حوالے سے، مارکیٹ آنے والے مہینوں میں شرحِ سود میں کٹوتی کی توقع کر رہی ہے، جو کرنسی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اگر آئندہ ہفتوں میں امریکی افراطِ زر توقعات سے زیادہ بڑھتا ہے تو یہ فیڈ کے لیے شرحِ سود کم کرنے کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے، جس سے ڈالر توقع سے زیادہ عرصے تک مضبوط رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میری رائے میں اس وقت مالیاتی شعبے کو درپیش دو بنیادی خدشات ہیں۔ پہلا، ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے کی قانونی حیثیت پر امریکی عدالت کا زیرِ التوا فیصلہ ہے، جس کے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم مسئلہ امریکی انتظامیہ اور فیڈرل ریزرو کے درمیان کشیدگی ہے، جو مالیاتی صنعت کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ یہ تناؤ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ مانیٹری پالیسی کو سیاسی اثرات سے آزاد رکھتے ہوئے قیمتوں کے استحکام اور روزگار کے فروغ پر توجہ دینا فیڈ کی ذمہ داری ہے۔ یہ صورتحال ممکنہ طور پر اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک نیا چیئرمین باضابطہ طور پر عہدہ سنبھال نہیں لیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر متوقع مارکیٹ حالات کے تناظر میں سونے اور چاندی کی قیمتیں مختلف عوامل سے متاثر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باعث نئی بلند سطحیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، تاہم کسی بھی مثبت پیش رفت کی صورت میں تیز گراوٹ کا امکان بھی موجود رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات واضح ہے کہ مارکیٹ میں استحکام آسانی سے نہیں آئے گا۔ یہ ایک طویل اور مشکل عمل ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کے مستقبل کے حوالے سے عموماً مارکیٹ میں بے چینی کا ذکر کیا جاتا ہے، خاص طور پر حالیہ برسوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں، جسے بہت سے لوگ کسی بڑی اصلاح کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، جب بھی مارکیٹ حالات میں بہتری آتی ہے، خریدار دھڑا دھڑ سونا خریدنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیوپولیٹیکل خدشات کے علاوہ دو مزید عوامل بھی ایسے ہیں جو سونے کی طلب کو برقرار رکھ سکتے ہیں، جن میں مرکزی بینکوں کی خریداری اور امریکی ڈالر کی کمزوری شامل ہیں۔ دیگر سرمایہ کاری کے متبادل یا تو حد سے زیادہ پرخطر دکھائی دیتے ہیں یا سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے مطلوبہ لیکویڈیٹی فراہم نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران میری تشویش یہ ہے کہ 1971 میں گولڈ اسٹینڈرڈ کے خاتمے کے بعد امریکی ڈالر کا کسی ٹھوس اثاثے سے تعلق باقی نہیں رہا۔ کوانٹیٹیٹو ایزنگ ( کیو ای ) اور بڑے پیمانے پر نوٹ چھاپنے کے عمل نے مہنگائی کے ذریعے قوتِ خرید کو کمزور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتحال میں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سرمایہ کار کرپٹو کرنسیز پر کیوں اعتماد کریں، جو ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، کسی جسمانی اثاثے سے منسلک نہیں، اور نہ ہی انہیں حکومتوں یا ریگولیٹرز کی مکمل حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، توقع ہے کہ سونا اور چاندی جیسی فزیکل کموڈیٹیز بدستور نمایاں حیثیت برقرار رکھیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار آؤٹ لک — 19 تا 24 جنوری&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی اونس سونے کی عالمی قیمت 4,595 امریکی ڈال — اتار چڑھاؤ نمایاں عنصر کے طور پر برقرار رہنے کا امکان ہے اور سونے کی قیمتیں وسیع تر رینج میں حرکت کر سکتی ہیں۔ قیمتوں میں کمی کی صورت میں نئی خریداری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اہم سپورٹ لیولز 4,510 امریکی ڈالر اور امریکی ڈالر 4,425 کے آس پاس ہیں۔ اوپر کی جانب، اگر قیمت 4,695 امریکی ڈالر سے تجاوز کرتی ہے تو 4,725 امریکی ڈالر تک مزید اضافہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورو 1.1600&lt;/strong&gt; — معمولی کمی یورو کو سپورٹ لیول 1.1510 تک لے جا سکتی ہے، جس کے بعد بحالی کا امکان ہے۔ تاہم، اگر 1.1745 عبور ہو جاتا ہے تو ہدف 1.1820 ہو سکتا ہے۔ سپورٹ ٹوٹنے کی صورت میں 1.1475 پر نظر رکھنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاؤنڈ 1.3383&lt;/strong&gt; — پاؤنڈ اسٹرلنگ میں معمولی اضافہ ممکن ہے، تاہم مزید مضبوطی کے لیے 1.3475 سے اوپر جانا ضروری ہوگا۔ اگر قیمت 1.3305 سے نیچے آتی ہے تو کیبل 1.3240 تک گر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ین 158.12&lt;/strong&gt; — ڈالر/ین وسیع تر رینج میں حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 157.10 ایک اہم سطح ہے۔ اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے تو قیمت 156.50 تک آ سکتی ہے، جس کے بعد دوبارہ بحالی ممکن ہے۔ دوسری جانب، اگر 159.40 سے اوپر جاتا ہے تو 160 تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مہنگائی میں کمی کے آثار اور صارفین کے اخراجات میں نسبتاً بہتر رفتار سے اضافے کے ساتھ امریکی معیشت کی مسلسل پیش رفت کے اشارے مضبوط ہوئے ہیں۔ گھروں کی فروخت میں مسلسل چوتھے ماہ اضافہ بھی اعتماد میں مزید بہتری کا باعث بنا ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ ہفتے کے معاشی اعداد و شمار نے معیشت کی متوازن تصویر پیش کی ہے، جس کی توثیق بیج بک نے بھی کی ہے، جس میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے، لیبر مارکیٹ کے استحکام اور افراطِ زر کے مستحکم رہنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جمعرات کو ابتدائی بے روزگاری دعووں میں توقع سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس کے علاوہ امریکی ریٹیل سیلز توقعات کے برعکس مضبوط رہیں اور 0.2 فیصد کے متوقع اضافے کے مقابلے میں 0.6 فیصد بڑھ گئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو جارحانہ شرحِ سود میں کٹوتی سے گریز کر سکتا ہے اور امکان ہے کہ رواں ماہ کوئی اقدام نہ کرے، تاہم مارکیٹ آنے والے مہینوں میں شرحِ سود میں کٹوتی کو درست طور پر قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر حالیہ پیش رفت کو مدنظر رکھنا بھی اہم ہے۔ سیاسی، مالیاتی اور تجارتی نوعیت کے مختلف مسائل مسلسل عالمی معاشی نظام میں خلل ڈال رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی معیشتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک حالات پیدا ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ان بار بار ہونے والے خلل نے ساختی، مالیاتی اور مانیٹری نظاموں کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے اور قائم شدہ اصولوں کی نفی کی ہے، جس میں اکثر جیوپولیٹیکل عوامل ذمہ دار ہیں۔ فی الوقت اس بات کے کوئی آثار نہیں کہ یہ مسائل قلیل یا درمیانی مدت میں حل ہو سکیں، کیونکہ معاشی عمل میں سیاسی مداخلت اس بحران کی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔</p>
<p>جب تک یہ غیر یقینی کیفیت برقرار رہے گی، عالمی معیشتوں میں معاشی نمو اور افراطِ زر کے حوالے سے منظرنامہ غیر متوقع اور غیر یقینی ہی رہے گا۔</p>
<p>اگرچہ بعض معیشتوں کو عارضی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم دیگر کو منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور مجموعی استحکام ایک مثالی مگر غیر یقینی نتیجہ ہی رہے گا۔</p>
<p>امریکی ڈالر کے مستقبل کے حوالے سے، مارکیٹ آنے والے مہینوں میں شرحِ سود میں کٹوتی کی توقع کر رہی ہے، جو کرنسی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم، اگر آئندہ ہفتوں میں امریکی افراطِ زر توقعات سے زیادہ بڑھتا ہے تو یہ فیڈ کے لیے شرحِ سود کم کرنے کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے، جس سے ڈالر توقع سے زیادہ عرصے تک مضبوط رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>میری رائے میں اس وقت مالیاتی شعبے کو درپیش دو بنیادی خدشات ہیں۔ پہلا، ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے کی قانونی حیثیت پر امریکی عدالت کا زیرِ التوا فیصلہ ہے، جس کے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>دوسرا اہم مسئلہ امریکی انتظامیہ اور فیڈرل ریزرو کے درمیان کشیدگی ہے، جو مالیاتی صنعت کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ یہ تناؤ اس لیے پیدا ہوا ہے کہ مانیٹری پالیسی کو سیاسی اثرات سے آزاد رکھتے ہوئے قیمتوں کے استحکام اور روزگار کے فروغ پر توجہ دینا فیڈ کی ذمہ داری ہے۔ یہ صورتحال ممکنہ طور پر اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک نیا چیئرمین باضابطہ طور پر عہدہ سنبھال نہیں لیتا۔</p>
<p>غیر متوقع مارکیٹ حالات کے تناظر میں سونے اور چاندی کی قیمتیں مختلف عوامل سے متاثر ہوں گی۔</p>
<p>جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باعث نئی بلند سطحیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، تاہم کسی بھی مثبت پیش رفت کی صورت میں تیز گراوٹ کا امکان بھی موجود رہے گا۔</p>
<p>تاہم یہ بات واضح ہے کہ مارکیٹ میں استحکام آسانی سے نہیں آئے گا۔ یہ ایک طویل اور مشکل عمل ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سونے کے مستقبل کے حوالے سے عموماً مارکیٹ میں بے چینی کا ذکر کیا جاتا ہے، خاص طور پر حالیہ برسوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں، جسے بہت سے لوگ کسی بڑی اصلاح کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود، جب بھی مارکیٹ حالات میں بہتری آتی ہے، خریدار دھڑا دھڑ سونا خریدنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>جیوپولیٹیکل خدشات کے علاوہ دو مزید عوامل بھی ایسے ہیں جو سونے کی طلب کو برقرار رکھ سکتے ہیں، جن میں مرکزی بینکوں کی خریداری اور امریکی ڈالر کی کمزوری شامل ہیں۔ دیگر سرمایہ کاری کے متبادل یا تو حد سے زیادہ پرخطر دکھائی دیتے ہیں یا سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے مطلوبہ لیکویڈیٹی فراہم نہیں کرتے۔</p>
<p>اسی دوران میری تشویش یہ ہے کہ 1971 میں گولڈ اسٹینڈرڈ کے خاتمے کے بعد امریکی ڈالر کا کسی ٹھوس اثاثے سے تعلق باقی نہیں رہا۔ کوانٹیٹیٹو ایزنگ ( کیو ای ) اور بڑے پیمانے پر نوٹ چھاپنے کے عمل نے مہنگائی کے ذریعے قوتِ خرید کو کمزور کیا ہے۔</p>
<p>ایسی صورتحال میں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سرمایہ کار کرپٹو کرنسیز پر کیوں اعتماد کریں، جو ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، کسی جسمانی اثاثے سے منسلک نہیں، اور نہ ہی انہیں حکومتوں یا ریگولیٹرز کی مکمل حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>نتیجتاً، توقع ہے کہ سونا اور چاندی جیسی فزیکل کموڈیٹیز بدستور نمایاں حیثیت برقرار رکھیں گی۔</p>
<p>ہفتہ وار آؤٹ لک — 19 تا 24 جنوری</p>
<p>فی اونس سونے کی عالمی قیمت 4,595 امریکی ڈال — اتار چڑھاؤ نمایاں عنصر کے طور پر برقرار رہنے کا امکان ہے اور سونے کی قیمتیں وسیع تر رینج میں حرکت کر سکتی ہیں۔ قیمتوں میں کمی کی صورت میں نئی خریداری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اہم سپورٹ لیولز 4,510 امریکی ڈالر اور امریکی ڈالر 4,425 کے آس پاس ہیں۔ اوپر کی جانب، اگر قیمت 4,695 امریکی ڈالر سے تجاوز کرتی ہے تو 4,725 امریکی ڈالر تک مزید اضافہ ممکن ہے۔</p>
<p><strong>یورو 1.1600</strong> — معمولی کمی یورو کو سپورٹ لیول 1.1510 تک لے جا سکتی ہے، جس کے بعد بحالی کا امکان ہے۔ تاہم، اگر 1.1745 عبور ہو جاتا ہے تو ہدف 1.1820 ہو سکتا ہے۔ سپورٹ ٹوٹنے کی صورت میں 1.1475 پر نظر رکھنا ہوگی۔</p>
<p><strong>پاؤنڈ 1.3383</strong> — پاؤنڈ اسٹرلنگ میں معمولی اضافہ ممکن ہے، تاہم مزید مضبوطی کے لیے 1.3475 سے اوپر جانا ضروری ہوگا۔ اگر قیمت 1.3305 سے نیچے آتی ہے تو کیبل 1.3240 تک گر سکتی ہے۔</p>
<p><strong>ین 158.12</strong> — ڈالر/ین وسیع تر رینج میں حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 157.10 ایک اہم سطح ہے۔ اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے تو قیمت 156.50 تک آ سکتی ہے، جس کے بعد دوبارہ بحالی ممکن ہے۔ دوسری جانب، اگر 159.40 سے اوپر جاتا ہے تو 160 تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281808</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 16:25:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسد رضوی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/19162414c864458.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/19162414c864458.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
