<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام، کرد فورسز کا سب سے بڑی آئل فیلڈ سے انخلا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281804/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کُردوں کی قیادت میں لڑنے والی فورسز نے اتوار کے روز شام کے سب سے بڑے آئل فیلڈ سے انخلا کر لیا، جس کے بعد حکومت نے شمال اور مشرقی علاقوں میں اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے،۔ یہ پیش رفت صدر احمد الشرا کی جانب سے کردوں کو سرکاری حیثیت دینے کے اعلان کے بعد سامنے آئی، تاہم کُرد انتظامیہ نے اسے ناکافی قرار دیا ہے جبکہ انضمام کے معاہدے پر عملدرآمد بدستور رکا ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق، کرد قیادت والی شامی جمہوری فورسز نے دیرالزور کے دیہی علاقوں سے اچانک پسپائی اختیار کی، جس میں العالمار اور تاناک آئل فیلڈز بھی شامل ہیں۔ مقامی قبائل اور حکومتی فوج کے تعاون سے یہ علاقے اب عملاً شامی ریاست کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آلمار آئل فیلڈ، جہاں کبھی امریکا کا سب سے بڑا بیس موجود تھا، 2017 سے ایس ڈی ایف کے کنٹرول میں تھا۔ حکومت اس سے قبل رقا میں سفیان اور الثروہ کے آئل فیلڈ بھی واپس لے چکی ہے۔ توانائی وزیر محمد البشیر نے کہا کہ قدرتی وسائل کی واپسی سے تعمیر نو اور معاشی سرگرمیوں کے دروازے کھلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی فوج نے پچھلے ہفتے حلب کے دو علاقوں اور تبقا کے گردونواح پر بھی قبضہ کر لیا۔ شہر میں فوجی گاڑیاں تعینات ہیں جبکہ وقفے وقفے سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ بعض علاقوں میں دکانیں بند ہیں اور شہری گھروں تک محدود ہیں۔ ادھر قاشملی میں سینکڑوں کرد شہریوں نے احتجاج کیا اور نعرے لگائے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کُردوں کی قیادت میں لڑنے والی فورسز نے اتوار کے روز شام کے سب سے بڑے آئل فیلڈ سے انخلا کر لیا، جس کے بعد حکومت نے شمال اور مشرقی علاقوں میں اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے،۔ یہ پیش رفت صدر احمد الشرا کی جانب سے کردوں کو سرکاری حیثیت دینے کے اعلان کے بعد سامنے آئی، تاہم کُرد انتظامیہ نے اسے ناکافی قرار دیا ہے جبکہ انضمام کے معاہدے پر عملدرآمد بدستور رکا ہوا ہے۔</strong></p>
<p>شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق، کرد قیادت والی شامی جمہوری فورسز نے دیرالزور کے دیہی علاقوں سے اچانک پسپائی اختیار کی، جس میں العالمار اور تاناک آئل فیلڈز بھی شامل ہیں۔ مقامی قبائل اور حکومتی فوج کے تعاون سے یہ علاقے اب عملاً شامی ریاست کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔</p>
<p>آلمار آئل فیلڈ، جہاں کبھی امریکا کا سب سے بڑا بیس موجود تھا، 2017 سے ایس ڈی ایف کے کنٹرول میں تھا۔ حکومت اس سے قبل رقا میں سفیان اور الثروہ کے آئل فیلڈ بھی واپس لے چکی ہے۔ توانائی وزیر محمد البشیر نے کہا کہ قدرتی وسائل کی واپسی سے تعمیر نو اور معاشی سرگرمیوں کے دروازے کھلیں گے۔</p>
<p>حکومتی فوج نے پچھلے ہفتے حلب کے دو علاقوں اور تبقا کے گردونواح پر بھی قبضہ کر لیا۔ شہر میں فوجی گاڑیاں تعینات ہیں جبکہ وقفے وقفے سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ بعض علاقوں میں دکانیں بند ہیں اور شہری گھروں تک محدود ہیں۔ ادھر قاشملی میں سینکڑوں کرد شہریوں نے احتجاج کیا اور نعرے لگائے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281804</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 14:24:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/191423107142002.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/191423107142002.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
