<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈنمارک گرین لینڈ سے روسی خطرہ ختم کرنے میں ناکام رہا، ہم کرکے رہینگے، ٹرمپ کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281799/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک تازہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈنمارک گزشتہ دو دہائیوں سے گرین لینڈ کے گرد بڑھتے ہوئے روسی خطرے کو کم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کا فیصلہ کن حل نکالا جائے اور یہ کام ہو کر رہے گا۔ ٹرمپ نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہی، جسے وہ خود ہی چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق نیٹو گزشتہ بیس سال سے کوپن ہیگن کو تنبیہ کرتا آ رہا ہے کہ گرین لینڈ کے آس پاس روسی اثر و رسوخ کا خاتمہ ضروری ہے مگر ڈنمارک اس حوالے سے کوئی مؤثر اقدام اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے بیان پر وائٹ ہاؤس اور ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر کوئی ردعمل دینے سے گریز کیا۔ تاہم ماضی میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کی سیاسی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ یہ جزیرہ نہ صرف فروخت کے لیے دستیاب نہیں بلکہ اسے امریکہ کا حصہ بننے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ گرین لینڈ ڈنمارک کی خود مختار سرزمین ہے اور دونوں حکومتیں اسے اپنی ملکی وحدت کا اہم عنصر قرار دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک تقریر میں دھمکی دی تھی کہ اگر امریکہ کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت نہ ملی تو یورپی اتحادی ممالک پر بتدریج بڑھتے ہوئے ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ روس اور چین کا بڑھتا ہوا اثر گرین لینڈ کو واشنگٹن کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس ڈنمارک اور یورپی حکام کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ پہلے ہی نیٹو کے اجتماعی دفاعی نظام کا حصہ ہے اور کسی ممکنہ خارجی خطرے کی صورت میں اتحاد کی مشترکہ ذمہ داری موجود ہے۔ اس نئی بیان بازی نے امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان ایک اور سفارتی تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک تازہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈنمارک گزشتہ دو دہائیوں سے گرین لینڈ کے گرد بڑھتے ہوئے روسی خطرے کو کم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کا فیصلہ کن حل نکالا جائے اور یہ کام ہو کر رہے گا۔ ٹرمپ نے یہ بات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہی، جسے وہ خود ہی چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق نیٹو گزشتہ بیس سال سے کوپن ہیگن کو تنبیہ کرتا آ رہا ہے کہ گرین لینڈ کے آس پاس روسی اثر و رسوخ کا خاتمہ ضروری ہے مگر ڈنمارک اس حوالے سے کوئی مؤثر اقدام اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کے بیان پر وائٹ ہاؤس اور ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر کوئی ردعمل دینے سے گریز کیا۔ تاہم ماضی میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کی سیاسی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ یہ جزیرہ نہ صرف فروخت کے لیے دستیاب نہیں بلکہ اسے امریکہ کا حصہ بننے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ گرین لینڈ ڈنمارک کی خود مختار سرزمین ہے اور دونوں حکومتیں اسے اپنی ملکی وحدت کا اہم عنصر قرار دیتی ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک تقریر میں دھمکی دی تھی کہ اگر امریکہ کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت نہ ملی تو یورپی اتحادی ممالک پر بتدریج بڑھتے ہوئے ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ روس اور چین کا بڑھتا ہوا اثر گرین لینڈ کو واشنگٹن کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس ڈنمارک اور یورپی حکام کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ پہلے ہی نیٹو کے اجتماعی دفاعی نظام کا حصہ ہے اور کسی ممکنہ خارجی خطرے کی صورت میں اتحاد کی مشترکہ ذمہ داری موجود ہے۔ اس نئی بیان بازی نے امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان ایک اور سفارتی تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281799</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 13:54:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/19135137f2b50a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/19135137f2b50a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
