<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 15:48:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 15:48:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان مارکیٹ کی بندش کے باوجود ڈیڑھ ماہ میں 40 ملین ڈالر کا کنو برآمد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281793/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغان مارکیٹ کی بندش کے باوجود پاکستان کی کنو کی برآمدات میں مضبوط نمو (ترقی) کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں صرف 45 دنوں کے مختصر عرصے میں تقریباً 40 ملین امریکی ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ اس دورانیے میں دسمبر اور جنوری کا پہلا نصف حصہ شامل ہے، جو کہ برآمدات کے لحاظ سے مصروف ترین  سیزن سمجھا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری کردہ  پریس ریلیز میں وزارتِ تجارت نے کہا کہ ایک روایتی طور پر اہم برآمدی منڈی (افغانستان) کے تعطل کے باوجود وزارت نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ذریعے برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے اور برآمدی کھیپوں کا رخ متبادل بین الاقوامی منڈیوں کی جانب موڑنے کیلئے تیزی سے اقدامات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق ان اقدامات نے ترسیلات کے تسلسل کو یقینی بنایا اور کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت کا مزید کہنا ہے کہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دسمبر میں برآمدات کی رفتار مستحکم رہی جس کے بعد جنوری کے پہلے 15 دنوں میں بھی یہی تیزی برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کی ٹیم، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ)، بیرونِ ملک مقیم پاکستان کے تجارتی مشنز، برآمد کنندگان، کاشتکاروں اور لاجسٹکس پارٹنرز کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ شاندار کارکردگی قریبی ہم آہنگی اور مشترکہ عزم کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغان مارکیٹ کی بندش کے اثرات پر قابو پانے کے لیےحکومت اور متعلقہ شعبے کے مشترکہ اقدامات کی ضرورت تھی۔ انہوں نے ان افسران اور اسٹیک ہولڈرز کی لگن کو سراہا جنہوں نے برآمدی چینلز کو کھلا اور مسابقتی رکھنے کے لیے انتھک محنت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اس کارکردگی کا سہرا مخصوص مارکیٹوں تک رسائی ، تجارتی سہولتوں میں بہتری اور برآمد کنندگان کے ساتھ قریبی رابطوں کے سر باندھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر غیر روایتی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کو ترجیح دی گئی جبکہ اس دوران معیار اور نباتیاتی صحت  کے بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ٹڈاپ نے مخصوص مارکیٹوں میں برآمدات کے فروغ، بیرونِ ملک مقیم تجارتی مشنز کے ساتھ ہم آہنگی اور لاجسٹکس و دستاویزی کارروائی میں برآمد کنندگان کو مسلسل مدد فراہم کر کے ان کوششوں کو تقویت بخشی۔ وفاقی حکام اور نجی شعبے کے درمیان بہتر ہم آہنگی نے شپمنٹ کے نظام کو شیڈول کے مطابق رکھنے اور ایک قابلِ بھروسہ سٹرس (ترشاوہ پھل) سپلائر کے طور پر پاکستان کی ساکھ برقرار رکھنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات کی مسلسل بہتر کارکردگی نے نہ صرف اہم زرمبادلہ فراہم کیا بلکہ کنو کی ویلیو چین سے وابستہ تمام افراد، بشمول کسانوں، پروسیسرز، پیکرز اور برآمد کنندگان کے اعتماد کو بھی تقویت بخشی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک ہولڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی چیلنجز کے باوجود یہ مثبت رجحان، پاکستان کی زرعی برآمدات کی مضبوطی اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تجارتی سہولتوں کی تاثیر کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا  کہ کنو کی برآمدات میں اس مسلسل تیزی کو مجموعی زرعی برآمدی شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جارہا ہے جو برآمدات پر مبنی ترقی اور منڈیوں میں تنوع لانے کے حکومتی عزم کی توثیق کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغان مارکیٹ کی بندش کے باوجود پاکستان کی کنو کی برآمدات میں مضبوط نمو (ترقی) کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں صرف 45 دنوں کے مختصر عرصے میں تقریباً 40 ملین امریکی ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ اس دورانیے میں دسمبر اور جنوری کا پہلا نصف حصہ شامل ہے، جو کہ برآمدات کے لحاظ سے مصروف ترین  سیزن سمجھا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>پیر کو جاری کردہ  پریس ریلیز میں وزارتِ تجارت نے کہا کہ ایک روایتی طور پر اہم برآمدی منڈی (افغانستان) کے تعطل کے باوجود وزارت نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ذریعے برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے اور برآمدی کھیپوں کا رخ متبادل بین الاقوامی منڈیوں کی جانب موڑنے کیلئے تیزی سے اقدامات کیے۔</p>
<p>وزارت کے مطابق ان اقدامات نے ترسیلات کے تسلسل کو یقینی بنایا اور کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا۔</p>
<p>وزارتِ تجارت کا مزید کہنا ہے کہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ دسمبر میں برآمدات کی رفتار مستحکم رہی جس کے بعد جنوری کے پہلے 15 دنوں میں بھی یہی تیزی برقرار رہی۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کی ٹیم، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ)، بیرونِ ملک مقیم پاکستان کے تجارتی مشنز، برآمد کنندگان، کاشتکاروں اور لاجسٹکس پارٹنرز کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ شاندار کارکردگی قریبی ہم آہنگی اور مشترکہ عزم کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغان مارکیٹ کی بندش کے اثرات پر قابو پانے کے لیےحکومت اور متعلقہ شعبے کے مشترکہ اقدامات کی ضرورت تھی۔ انہوں نے ان افسران اور اسٹیک ہولڈرز کی لگن کو سراہا جنہوں نے برآمدی چینلز کو کھلا اور مسابقتی رکھنے کے لیے انتھک محنت کی۔</p>
<p>حکام نے اس کارکردگی کا سہرا مخصوص مارکیٹوں تک رسائی ، تجارتی سہولتوں میں بہتری اور برآمد کنندگان کے ساتھ قریبی رابطوں کے سر باندھا۔</p>
<p>وزارتِ تجارت کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر غیر روایتی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کو ترجیح دی گئی جبکہ اس دوران معیار اور نباتیاتی صحت  کے بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا گیا۔</p>
<p>دریں اثنا ٹڈاپ نے مخصوص مارکیٹوں میں برآمدات کے فروغ، بیرونِ ملک مقیم تجارتی مشنز کے ساتھ ہم آہنگی اور لاجسٹکس و دستاویزی کارروائی میں برآمد کنندگان کو مسلسل مدد فراہم کر کے ان کوششوں کو تقویت بخشی۔ وفاقی حکام اور نجی شعبے کے درمیان بہتر ہم آہنگی نے شپمنٹ کے نظام کو شیڈول کے مطابق رکھنے اور ایک قابلِ بھروسہ سٹرس (ترشاوہ پھل) سپلائر کے طور پر پاکستان کی ساکھ برقرار رکھنے میں مدد دی۔</p>
<p>برآمدات کی مسلسل بہتر کارکردگی نے نہ صرف اہم زرمبادلہ فراہم کیا بلکہ کنو کی ویلیو چین سے وابستہ تمام افراد، بشمول کسانوں، پروسیسرز، پیکرز اور برآمد کنندگان کے اعتماد کو بھی تقویت بخشی ہے۔</p>
<p>اسٹیک ہولڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی چیلنجز کے باوجود یہ مثبت رجحان، پاکستان کی زرعی برآمدات کی مضبوطی اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تجارتی سہولتوں کی تاثیر کا عکاس ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا  کہ کنو کی برآمدات میں اس مسلسل تیزی کو مجموعی زرعی برآمدی شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جارہا ہے جو برآمدات پر مبنی ترقی اور منڈیوں میں تنوع لانے کے حکومتی عزم کی توثیق کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281793</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 13:03:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1912454987f76c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1912454987f76c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
