<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک افغان تجارت کی معطلی پر تاجر برادری کا شدید اظہار تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281792/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور سے تعلق رکھنے والے پاکستان اور افغانستان کے تاجروں نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار تجارت کی گزشتہ تین ماہ سے بندش کو علاقائی معیشت کے لیے انتہائی تباہ کن قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس (پی اے جے سی سی آئی) اور سرحد چیمبر آف کامرس (ایس سی سی آئی) کے عہدیداران نے ایک مشترکہ بیان میں حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کریں ،تاکہ لاکھوں متاثرہ افراد کے روزگار کو بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں کے مطابق اس بندش سے نہ صرف معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے بلکہ خطے کے کروڑوں غریب لوگوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تجارت کو سیاست سے الگ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تعطل کی وجہ سے بے شمار خاندان اپنے بچوں کے لیے خوراک اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے 10,000 سے زائد کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ وسطی ایشیا سے آنے والے پاکستانی ٹرانزٹ کارگو کے ہزاروں ٹرک افغانستان میں رکے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی افغانستان کو سالانہ برآمدات کا حجم 1.5 ارب ڈالر ہے اور گزشتہ تین ماہ کی بندش سے پاکستانی برآمد کنندگان کو 375 ملین ڈالر کا براہ راست نقصان ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح وسطی ایشیا کے لیے 900 ملین ڈالر کی برآمدی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے مزید 225 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔ پاکستان کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں بھی اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان درآمد کنندگان کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے، جنہیں پاکستان میں پھنسے ہوئے کنٹینرز پر روزانہ 120 ڈالر فی کنٹینر کے حساب سے تقریباً 1.2 ملین ڈالر یومیہ جرمانہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں یہ مجموعی جرمانہ 108 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی پاکستان اور بھارت (واہگہ کے ذریعے) ہونے والی برآمدات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس سے افغان برآمد کنندگان کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر برادری نے دونوں ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا سخت موقف ترک کریں اور پھنسے ہوئے کارگو کے لیے تجارتی راستے فوری طور پر کھولیں، کیونکہ ٹرانزٹ مال کی واپسی ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے جو کاروبار کو مزید تباہ کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور سے تعلق رکھنے والے پاکستان اور افغانستان کے تاجروں نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار تجارت کی گزشتہ تین ماہ سے بندش کو علاقائی معیشت کے لیے انتہائی تباہ کن قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس (پی اے جے سی سی آئی) اور سرحد چیمبر آف کامرس (ایس سی سی آئی) کے عہدیداران نے ایک مشترکہ بیان میں حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کریں ،تاکہ لاکھوں متاثرہ افراد کے روزگار کو بچایا جا سکے۔</p>
<p>تاجروں کے مطابق اس بندش سے نہ صرف معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے بلکہ خطے کے کروڑوں غریب لوگوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تجارت کو سیاست سے الگ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تعطل کی وجہ سے بے شمار خاندان اپنے بچوں کے لیے خوراک اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے 10,000 سے زائد کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ وسطی ایشیا سے آنے والے پاکستانی ٹرانزٹ کارگو کے ہزاروں ٹرک افغانستان میں رکے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی افغانستان کو سالانہ برآمدات کا حجم 1.5 ارب ڈالر ہے اور گزشتہ تین ماہ کی بندش سے پاکستانی برآمد کنندگان کو 375 ملین ڈالر کا براہ راست نقصان ہو چکا ہے۔</p>
<p>اسی طرح وسطی ایشیا کے لیے 900 ملین ڈالر کی برآمدی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے مزید 225 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا ہے۔ پاکستان کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں بھی اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>افغان درآمد کنندگان کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے، جنہیں پاکستان میں پھنسے ہوئے کنٹینرز پر روزانہ 120 ڈالر فی کنٹینر کے حساب سے تقریباً 1.2 ملین ڈالر یومیہ جرمانہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں یہ مجموعی جرمانہ 108 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی پاکستان اور بھارت (واہگہ کے ذریعے) ہونے والی برآمدات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس سے افغان برآمد کنندگان کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔</p>
<p>تاجر برادری نے دونوں ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا سخت موقف ترک کریں اور پھنسے ہوئے کارگو کے لیے تجارتی راستے فوری طور پر کھولیں، کیونکہ ٹرانزٹ مال کی واپسی ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے جو کاروبار کو مزید تباہ کر دے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281792</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 13:19:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/19124428bbfc1ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/19124428bbfc1ad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
