<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دسمبر 2025 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 244 ملین ڈالر خسارے کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281787/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق دسمبر 2025 کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 244 ملین ڈالر کے خسارے میں رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خسارہ (دسمبر 2025 کا 244 ملین ڈالر خسارہ) نومبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 98 ملین ڈالر کے سرپلس (بچت) کے بعد سامنے آیا ہے جسے ابتدائی طور پر 100 ملین ڈالر رپورٹ کیا گیا تھا جب کہ اس کے برعکس دسمبر 2024 میں 454 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکاؤنٹ میں یہ خسارہ اس مہینے کے دوران درآمدی بل میں ہونے والے نمایاں اضافے کے باعث سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 کے دوران ملک کی اشیاء اور خدمات کی مجموعی برآمدات 3.69 ارب ڈالر رہیں جو کہ پچھلے مہینے کی 3.08 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2025 میں مجموعی درآمدات 7.04 ارب ڈالر رہیں جو کہ نومبر 2025 کی 5.69 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 کے دوران پاکستان کو موصول ہونے والی ورکرز ریمیٹنس (ترسیلاتِ زر) کی رقم 3.59 ارب ڈالر رہی جو کہ نومبر 2025 کے 3.19 ارب ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 13 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 1,174 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ پچھلے سال اسی مدت کے دوران 957 ملین ڈالر کا سرپلس (بچت) ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل اقبال سیکورٹیز میں ریسرچ کے سربراہ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس خسارے کی بنیادی وجہ اشیاء کی تجارت کے فرق میں ہونے والا تیزی سے اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ درآمدات، کمزور برآمدات اور خدمات کے توازن میں بگاڑ نے ترسیلاتِ زر کی مسلسل مضبوط آمد کو بھی مات دے دی جس کے نتیجے میں نومبر کا سرپلس خسارے میں بدل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 16.19 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جو سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد کے نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کرنٹ اکاؤنٹ پر جاری ساختی دباؤ کے باوجود بیرونی ادائیگیوں کی بہتر صلاحیت کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق دسمبر 2025 کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 244 ملین ڈالر کے خسارے میں رہا۔</strong></p>
<p>یہ خسارہ (دسمبر 2025 کا 244 ملین ڈالر خسارہ) نومبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 98 ملین ڈالر کے سرپلس (بچت) کے بعد سامنے آیا ہے جسے ابتدائی طور پر 100 ملین ڈالر رپورٹ کیا گیا تھا جب کہ اس کے برعکس دسمبر 2024 میں 454 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>کرنٹ اکاؤنٹ میں یہ خسارہ اس مہینے کے دوران درآمدی بل میں ہونے والے نمایاں اضافے کے باعث سامنے آیا۔</p>
<p>دسمبر 2025 کے دوران ملک کی اشیاء اور خدمات کی مجموعی برآمدات 3.69 ارب ڈالر رہیں جو کہ پچھلے مہینے کی 3.08 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>اسی دوران اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2025 میں مجموعی درآمدات 7.04 ارب ڈالر رہیں جو کہ نومبر 2025 کی 5.69 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>دسمبر 2025 کے دوران پاکستان کو موصول ہونے والی ورکرز ریمیٹنس (ترسیلاتِ زر) کی رقم 3.59 ارب ڈالر رہی جو کہ نومبر 2025 کے 3.19 ارب ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 13 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 1,174 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ پچھلے سال اسی مدت کے دوران 957 ملین ڈالر کا سرپلس (بچت) ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>اسماعیل اقبال سیکورٹیز میں ریسرچ کے سربراہ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس خسارے کی بنیادی وجہ اشیاء کی تجارت کے فرق میں ہونے والا تیزی سے اضافہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ درآمدات، کمزور برآمدات اور خدمات کے توازن میں بگاڑ نے ترسیلاتِ زر کی مسلسل مضبوط آمد کو بھی مات دے دی جس کے نتیجے میں نومبر کا سرپلس خسارے میں بدل گیا۔</p>
<p>پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 16.19 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جو سالانہ بنیادوں پر 36 فیصد کے نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کرنٹ اکاؤنٹ پر جاری ساختی دباؤ کے باوجود بیرونی ادائیگیوں کی بہتر صلاحیت کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281787</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 16:23:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/19114714a13097c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/19114714a13097c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
