<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:40:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:40:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سولر کی بڑھتی طلب: ٹریٹ کا لیتھیم بیٹریوں کو مقامی سطح پر تیار کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281786/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے متنوع کاروباری گروپ ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے ملک میں لیتھیم آئن بیٹری کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے میں قدم رکھ دیا ہے۔ کمپنی اپنے بیٹری کے کاروبار کو پاکستان میں شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اسٹوریج کے جدید حل کی جانب تیزی سے ہوتی منتقلی کے مطابق ڈھال رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے سی ای او سید شہریار علی نے بی آر ریسرچ  کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم نے لیتھیم آئن بیٹریاں اور انورٹرز متعارف کروانے کے لیے ایک بڑے چینی مینوفیکچرر کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ ہم مختلف سائز کے تقریباً پانچ ایس کے یوز  لانچ کررہے ہیں جن میں ٹاور اور وال ماؤنٹڈ (دیوار پر نصب ہونے والے) سلوشنز بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ پاکستان میں 1977 میں ایک پبلک لسٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹر ہوئی تھی۔ یہ کمپنی ریزرز  اور ریزر بلیڈز کی تیاری اور فروخت کے ساتھ دیگر تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ کمپنی کے پاس 75 سے زائد ایس کے یوز پر مشتمل مصنوعات کی ایک وسیع رینج ہے جس میں شیو کرنے کے ریزرز، باڈی ریزرز اور خواتین کیلئے مخصوص ریزرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مارکیٹ کے دیگر پلیئرز کے برعکس جو مکمل طور پر درآمدات  پر انحصار کرتے ہیں، ٹریٹ ایک مرحلہ وار طریقہ کار اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید شہریار علی نے بتایا ہم پہلے درآمد شدہ حل (مصنوعات) سے آغاز کریں گے تاکہ یہ سیکھ سکیں کہ مقامی طور پر کیا چیز بہتر کام کرتی ہے، کون سے ماڈلز مقبول ہوتے ہیں اور کون سے نہیں، اس کے بعد ہمارا ارادہ مقامی طور پر اسمبلنگ شروع کرنے کا ہے اور آخر کار ہم پاکستان میں ہی بیٹری مینجمنٹ سسٹم  تیار کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع، بالخصوص شمسی توانائی (سولر) کی جانب رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو کہ رہائشی اور تجارتی دونوں شعبوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک آزاد تھنک ٹینک پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈویلپمنٹ  کے مطابق پاکستان اپنے توانائی شعبے میں غیر معمولی سولرائزیشن (شمسی توانائی کی منتقلی) کا تجربہ کررہا ہے، جس میں ملک بھر میں پہلے ہی 33 گیگا واٹ کی صلاحیت کے حامل سولر فوٹو وولٹک  پینلز نصب کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریار علی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ گزشتہ 2 سے 3 سالوں میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اسٹوریج کے حل (بیٹریوں) کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای او کا ماننا ہے کہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی مارکیٹ جو کہ بنیادی طور پروارنٹی پر منحصر ہے، اس میں ٹریٹ کا ملک گیر ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور 7 دہائیوں پر محیط کاروباری تاریخ اسے دیگر حریفوں پر برتری فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریار علی نے کہا کہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی وارنٹی طویل ہوتی ہے تین سال سے لے کر دس سال تک، لہٰذا صارفین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا بیچنے والا 5 سال بعد بھی اپنا وجود برقرار رکھے گا تاکہ وہ وارنٹی کلیم (دعویٰ) پورا کر سکے؟ بہت سے نئے امپورٹرز شاید ایسا نہ کرسکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے متنوع کاروباری گروپ ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے ملک میں لیتھیم آئن بیٹری کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے میں قدم رکھ دیا ہے۔ کمپنی اپنے بیٹری کے کاروبار کو پاکستان میں شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اسٹوریج کے جدید حل کی جانب تیزی سے ہوتی منتقلی کے مطابق ڈھال رہی ہے۔</strong></p>
<p>ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے سی ای او سید شہریار علی نے بی آر ریسرچ  کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم نے لیتھیم آئن بیٹریاں اور انورٹرز متعارف کروانے کے لیے ایک بڑے چینی مینوفیکچرر کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ ہم مختلف سائز کے تقریباً پانچ ایس کے یوز  لانچ کررہے ہیں جن میں ٹاور اور وال ماؤنٹڈ (دیوار پر نصب ہونے والے) سلوشنز بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ پاکستان میں 1977 میں ایک پبلک لسٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹر ہوئی تھی۔ یہ کمپنی ریزرز  اور ریزر بلیڈز کی تیاری اور فروخت کے ساتھ دیگر تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ کمپنی کے پاس 75 سے زائد ایس کے یوز پر مشتمل مصنوعات کی ایک وسیع رینج ہے جس میں شیو کرنے کے ریزرز، باڈی ریزرز اور خواتین کیلئے مخصوص ریزرز شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم مارکیٹ کے دیگر پلیئرز کے برعکس جو مکمل طور پر درآمدات  پر انحصار کرتے ہیں، ٹریٹ ایک مرحلہ وار طریقہ کار اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>سید شہریار علی نے بتایا ہم پہلے درآمد شدہ حل (مصنوعات) سے آغاز کریں گے تاکہ یہ سیکھ سکیں کہ مقامی طور پر کیا چیز بہتر کام کرتی ہے، کون سے ماڈلز مقبول ہوتے ہیں اور کون سے نہیں، اس کے بعد ہمارا ارادہ مقامی طور پر اسمبلنگ شروع کرنے کا ہے اور آخر کار ہم پاکستان میں ہی بیٹری مینجمنٹ سسٹم  تیار کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع، بالخصوص شمسی توانائی (سولر) کی جانب رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو کہ رہائشی اور تجارتی دونوں شعبوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔</p>
<p>ایک آزاد تھنک ٹینک پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈویلپمنٹ  کے مطابق پاکستان اپنے توانائی شعبے میں غیر معمولی سولرائزیشن (شمسی توانائی کی منتقلی) کا تجربہ کررہا ہے، جس میں ملک بھر میں پہلے ہی 33 گیگا واٹ کی صلاحیت کے حامل سولر فوٹو وولٹک  پینلز نصب کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>شہریار علی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ گزشتہ 2 سے 3 سالوں میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی اسٹوریج کے حل (بیٹریوں) کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا۔</p>
<p>سی ای او کا ماننا ہے کہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی مارکیٹ جو کہ بنیادی طور پروارنٹی پر منحصر ہے، اس میں ٹریٹ کا ملک گیر ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اور 7 دہائیوں پر محیط کاروباری تاریخ اسے دیگر حریفوں پر برتری فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>شہریار علی نے کہا کہ لیتھیم آئن بیٹریوں کی وارنٹی طویل ہوتی ہے تین سال سے لے کر دس سال تک، لہٰذا صارفین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا بیچنے والا 5 سال بعد بھی اپنا وجود برقرار رکھے گا تاکہ وہ وارنٹی کلیم (دعویٰ) پورا کر سکے؟ بہت سے نئے امپورٹرز شاید ایسا نہ کرسکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281786</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 12:03:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/19113935af930a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/19113935af930a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
