<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:27:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 18:27:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئی گیس کمپنیوں پر1.547 ٹریلین کے واجبات، پیٹرولیم ایسوسی ایشن نے وصولی کیلئے حکومت سے مدد مانگ لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281777/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیز ایسوسی ایشن نے وزارت توانائی سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کمپنیوں کے ذمے واجب الادا 1.547 ٹریلین روپے سے زائد کی ادائیگی کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے میں کردار ادا کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق ایسوسی ایشن نے اس حوالے سے وزارت  توانائی کی اعلیٰ قیادت، بشمول وفاقی وزیر اور سیکریٹری، کو خط ارسال کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں ایسوسی ایشن نے بائیس اگست 2026 کی سابقہ خط کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اپ اسٹریم آئل اینڈ گیس سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو اس وقت تقریباً  2,684  ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر کے پاکستان کی بنیادی توانائی کی ضرورت کا تیس فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ گزرتے وقت کے ساتھ اس شعبے کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ ریاستی ملکیتی سوئی گیس کمپنیوں کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث اپ اسٹریم کمپنیوں پر شدید مالی دباؤ بڑھ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں گیس کی پیداوار چار ارب مکعب فٹ یومیہ کی بلند ترین سطح سے نمایاں کمی کا شکار ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے دس برسوں میں بقایا جات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس سے ای اینڈ پی کمپنیوں کی نقدی صورت حال بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس دوران متعدد کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے تشویش ظاہر کی کہ مالی سال 2024-25 کے دوران صارفین کے لیے گیس ٹیرف میں چار مرتبہ اضافہ کیے جانے کے باوجود واجبات کی صورتحال میں کوئی قابل ذکر بہتری سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ یکم جولائی 2025 کو حالیہ قیمتوں میں ردوبدل بھی مسئلے کے حل میں معاون ثابت نہیں ہوا، جس سے گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں کی لیکویڈیٹی بحران ایک سنگین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ تیس ستمبر 2025 تک مجموعی واجبات 1.547 ٹریلین روپئ تک پہنچ گئے جن میں سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ذمے 826.19 بلین روپے  سے زائد جبکہ سوئی ناردرن گیس کمپنی پر 720.97 بلین روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے مطابق کمپنیوں کو ادائیگی  انوائس موصول ہونے کے تیس روز کے اندر کرنا لازمی ہے، تاہم بقاياجات کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ چونسٹھ فیصد رقم ایک سال سے زائد عرصے سے ادا نہیں کی گئی۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابرار خان نے خبردار کیا کہ ادائیگیوں میں تاخیر نے نقدی بحران پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث تلاش اور پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور ملکی گیس کی پیداوار میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے وزارت توانائی سے اپیل کی ہے کہ فوری اصلاحی اقدامات کے ذریعے واجبات کی ادائیگی ممکن بنائی جائے تاکہ توانائی تحفظ یقینی بنایا جا سکے، سرمایہ کاری کا اعتماد بحال ہو اور مقامی گیس کی سپلائی میں مزید کمی سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیز ایسوسی ایشن نے وزارت توانائی سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کمپنیوں کے ذمے واجب الادا 1.547 ٹریلین روپے سے زائد کی ادائیگی کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے میں کردار ادا کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق ایسوسی ایشن نے اس حوالے سے وزارت  توانائی کی اعلیٰ قیادت، بشمول وفاقی وزیر اور سیکریٹری، کو خط ارسال کیا ہے۔</strong></p>
<p>خط میں ایسوسی ایشن نے بائیس اگست 2026 کی سابقہ خط کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اپ اسٹریم آئل اینڈ گیس سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو اس وقت تقریباً  2,684  ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر کے پاکستان کی بنیادی توانائی کی ضرورت کا تیس فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ گزرتے وقت کے ساتھ اس شعبے کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ ریاستی ملکیتی سوئی گیس کمپنیوں کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث اپ اسٹریم کمپنیوں پر شدید مالی دباؤ بڑھ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں گیس کی پیداوار چار ارب مکعب فٹ یومیہ کی بلند ترین سطح سے نمایاں کمی کا شکار ہو چکی ہے۔</p>
<p>دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے دس برسوں میں بقایا جات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس سے ای اینڈ پی کمپنیوں کی نقدی صورت حال بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس دوران متعدد کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے تشویش ظاہر کی کہ مالی سال 2024-25 کے دوران صارفین کے لیے گیس ٹیرف میں چار مرتبہ اضافہ کیے جانے کے باوجود واجبات کی صورتحال میں کوئی قابل ذکر بہتری سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ یکم جولائی 2025 کو حالیہ قیمتوں میں ردوبدل بھی مسئلے کے حل میں معاون ثابت نہیں ہوا، جس سے گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں کی لیکویڈیٹی بحران ایک سنگین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ تیس ستمبر 2025 تک مجموعی واجبات 1.547 ٹریلین روپئ تک پہنچ گئے جن میں سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ذمے 826.19 بلین روپے  سے زائد جبکہ سوئی ناردرن گیس کمپنی پر 720.97 بلین روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے مطابق کمپنیوں کو ادائیگی  انوائس موصول ہونے کے تیس روز کے اندر کرنا لازمی ہے، تاہم بقاياجات کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ چونسٹھ فیصد رقم ایک سال سے زائد عرصے سے ادا نہیں کی گئی۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابرار خان نے خبردار کیا کہ ادائیگیوں میں تاخیر نے نقدی بحران پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث تلاش اور پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور ملکی گیس کی پیداوار میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے وزارت توانائی سے اپیل کی ہے کہ فوری اصلاحی اقدامات کے ذریعے واجبات کی ادائیگی ممکن بنائی جائے تاکہ توانائی تحفظ یقینی بنایا جا سکے، سرمایہ کاری کا اعتماد بحال ہو اور مقامی گیس کی سپلائی میں مزید کمی سے بچا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281777</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 09:41:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/190934523c58a46.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/190934523c58a46.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
