<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لائن فل فنانسنگ لاگت کی ریکوری کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے،آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کا اوگرا سے مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281776/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل(او سی اے سی) نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ لائن فل کی مد میں وصول کیے جانے والے فنانسنگ لاگت کے طریقہ کار کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ان کے اصل فنانسنگ ریٹ کے مطابق وصولی کی اجازت دی جائے تاکہ صنعت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوگرا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فنانس الطاف حسین کو لکھے گئے خط میں او سی اے سی کے سیکریٹری جنرل سید نذیر عباس زیدی نے تیرہ جنوری 2026 کو جاری اوگرا کے مراسلے اور چودہ جنوری کو چیئرمین اوگرا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیا، جس میں لائن فل فنانسنگ لاگت سمیت صنعت کے مختلف مسائل پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی نے اس امر پر زور دیا کہ لائن فل فنانسنگ لاگت کی وصولی، خصوصاً شرح کے تعین سے متعلق مسئلہ پہلے بھی چار جولائی 2024 کی خط و کتابت میں اجاگر کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود معاملہ حل نہیں ہو سکا اور یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مالی بقا پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم شعبے کے مطابق کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ کو عام طور پر بینچ مارک ریٹ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم یہ کمپنیوں کی اصل قرض لاگت کی صحیح عکاسی نہیں کرتا کیونکہ عملاً بینک او ایم سیز کو کائبور سے زائد شرح پر قرض فراہم کرتے ہیں جو عام طور پر کائبور پلس دو فیصد ہوتا ہے۔ لہٰذا صرف کائبور کی بنیاد پر لائن فل لاگت کی وصولی صنعت پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2025 تک لائن فل کی مد میں پیدا ہونے والا فرق 814 ملین روپے سے زائد رہا، جو او ایم سیز نے خود برداشت کیا۔ اس جزوی ریکوری کی وجہ سے صنعت کے کیش فلو، ورکنگ کیپیٹل اور مجموعی مالی صحت پر سنگین دباؤ پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی نے واضح کیا کہ لائن فل ایک ریگولیٹری ضرورت ہے جس کا مقصد پائپ لائنوں کے ذریعے ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے، لہٰذا اس سے متعلق فنانسنگ لاگت جائز اور ناگزیر ہے۔ کونسل کے مطابق کائبور پریمیم کو نہ ماننے کا مطلب حقیقی اخراجات کی جزوی عدم تسلیم ہے، جو اصولی طور پر درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی کا کہنا ہے کہ اوگرا کا کردار یہ یقینی بنانا ہے کہ صنعت کے حقیقی اخراجات پورے طور پر وصول کیے جا سکیں۔ کونسل نے مطالبہ کیا کہ فنانسنگ شرح کو حقیقی لاگت کے مطابق لایا جائے تاکہ مالی استحکام برقرار رہ سکے اور قومی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل(او سی اے سی) نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ لائن فل کی مد میں وصول کیے جانے والے فنانسنگ لاگت کے طریقہ کار کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ان کے اصل فنانسنگ ریٹ کے مطابق وصولی کی اجازت دی جائے تاکہ صنعت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔</strong></p>
<p>اوگرا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فنانس الطاف حسین کو لکھے گئے خط میں او سی اے سی کے سیکریٹری جنرل سید نذیر عباس زیدی نے تیرہ جنوری 2026 کو جاری اوگرا کے مراسلے اور چودہ جنوری کو چیئرمین اوگرا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیا، جس میں لائن فل فنانسنگ لاگت سمیت صنعت کے مختلف مسائل پر غور کیا گیا۔</p>
<p>او سی اے سی نے اس امر پر زور دیا کہ لائن فل فنانسنگ لاگت کی وصولی، خصوصاً شرح کے تعین سے متعلق مسئلہ پہلے بھی چار جولائی 2024 کی خط و کتابت میں اجاگر کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود معاملہ حل نہیں ہو سکا اور یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مالی بقا پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم شعبے کے مطابق کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ کو عام طور پر بینچ مارک ریٹ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم یہ کمپنیوں کی اصل قرض لاگت کی صحیح عکاسی نہیں کرتا کیونکہ عملاً بینک او ایم سیز کو کائبور سے زائد شرح پر قرض فراہم کرتے ہیں جو عام طور پر کائبور پلس دو فیصد ہوتا ہے۔ لہٰذا صرف کائبور کی بنیاد پر لائن فل لاگت کی وصولی صنعت پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2025 تک لائن فل کی مد میں پیدا ہونے والا فرق 814 ملین روپے سے زائد رہا، جو او ایم سیز نے خود برداشت کیا۔ اس جزوی ریکوری کی وجہ سے صنعت کے کیش فلو، ورکنگ کیپیٹل اور مجموعی مالی صحت پر سنگین دباؤ پڑ رہا ہے۔</p>
<p>او سی اے سی نے واضح کیا کہ لائن فل ایک ریگولیٹری ضرورت ہے جس کا مقصد پائپ لائنوں کے ذریعے ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے، لہٰذا اس سے متعلق فنانسنگ لاگت جائز اور ناگزیر ہے۔ کونسل کے مطابق کائبور پریمیم کو نہ ماننے کا مطلب حقیقی اخراجات کی جزوی عدم تسلیم ہے، جو اصولی طور پر درست نہیں۔</p>
<p>او سی اے سی کا کہنا ہے کہ اوگرا کا کردار یہ یقینی بنانا ہے کہ صنعت کے حقیقی اخراجات پورے طور پر وصول کیے جا سکیں۔ کونسل نے مطالبہ کیا کہ فنانسنگ شرح کو حقیقی لاگت کے مطابق لایا جائے تاکہ مالی استحکام برقرار رہ سکے اور قومی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281776</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 09:23:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/19091844b0db2ee.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/19091844b0db2ee.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
