<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:32:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:32:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور ڈویژن عدالتی حکم کی خلاف ورزی کررہا ہے، ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی پر کے الیکٹرک نے اعتراض کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281775/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کے الیکٹرک نے پاور ڈویژن کی جانب سے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی سے متعلق اقدامات کو سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاور ڈویژن فوری طور پر ایسے تمام اقدامات اور ہدایات روک دے جو نظرثانی شدہ ٹیرف ڈٹرمینیشنز پر عملدرآمد کی بنیاد پر جاری کی جا رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید مونس عبداللہ علوی نے پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری پاور فنانس کو خط لکھا ہے جس میں اس موضوع پر گیارہ نومبر، یکم دسمبر اور پندرہ دسمبر 2025 کو بھیجے گئے کے الیکٹرک کے سابقہ خطوط کا حوالہ دیا گیا ہے۔  مونس علوی نے ڈپٹی سیکریٹری ٹی اینڈ ایس سید متین احمد کے خطوط کا بھی ذکر کیا جن میں کے الیکٹرک کی تازہ ترین خط و کتابت کا کوئی ذکر یا جواب شامل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے اپنے پندرہ دسمبر کے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے موقف اپنایا کہ وزارت توانائی کی جانب سے بھیجے گئے جوابات میں جو نکات پیش کیے گئے ہیں وہ پہلے ہی مکمل طور پر رد اور مسترد کیے جا چکے ہیں۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس کا قانونی اور معاہداتی مؤقف جوں کا توں برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے کہا کہ پاور ڈویژن کے خطوط سے وابستہ ہدایات سندھ ہائی کورٹ کے جاری عبوری احکامات کی خلاف ورزی ہیں، جو متعلقہ حکام کو توہین عدالت کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔ کے الیکٹرک نے مزید کہا کہ پاور ڈویژن کا یہ مؤقف کہ ٹی ڈی ایس معاہدے کی شق دو اعشاریہ ایک بی اس لیے قابل اطلاق نہیں کیونکہ ٹیرف پہلے ہی طے ہو چکا ہے، قانونی طور پر ناقابل قبول اور غلط تشریح پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے مطابق مذکورہ نظرثانی شدہ ٹیرف نہ صرف غیر نوٹیفائیڈ ہیں بلکہ عدالت میں زیر سماعت بھی ہیں، اس لیے ان پر عملدرآمد آرٹیکل کے تحت روکا جا چکا ہے۔ کے الیکٹرک نے نشاندہی کی کہ شق کے مطابق اگر عدالت روک لگائے تو ٹی ڈی ایس کلیمز سابقہ ٹیرف کی بنیاد پر فائل کیے جائیں، جس پر کے الیکٹرک مکمل طور پر عمل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے مزید کہا کہ شق دو اعشاریہ چھ کے تحت ٹی ڈی ایس بیلنس رپورٹ یک طرفہ طور پر تبدیل نہیں کی جا سکتی، جبکہ وزارتِ توانائی کی جانب سے کی گئی ترامیم قانونی طور پر بے اثر ہیں۔ کے الیکٹرک نے وزارت توانائی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایسے تمام اقدامات ترک کرے اور خبردار کیا کہ کے الیکٹرک اپنے قانونی اور معاہداتی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کے الیکٹرک نے پاور ڈویژن کی جانب سے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی سے متعلق اقدامات کو سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاور ڈویژن فوری طور پر ایسے تمام اقدامات اور ہدایات روک دے جو نظرثانی شدہ ٹیرف ڈٹرمینیشنز پر عملدرآمد کی بنیاد پر جاری کی جا رہی ہیں۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید مونس عبداللہ علوی نے پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری پاور فنانس کو خط لکھا ہے جس میں اس موضوع پر گیارہ نومبر، یکم دسمبر اور پندرہ دسمبر 2025 کو بھیجے گئے کے الیکٹرک کے سابقہ خطوط کا حوالہ دیا گیا ہے۔  مونس علوی نے ڈپٹی سیکریٹری ٹی اینڈ ایس سید متین احمد کے خطوط کا بھی ذکر کیا جن میں کے الیکٹرک کی تازہ ترین خط و کتابت کا کوئی ذکر یا جواب شامل نہیں تھا۔</p>
<p>کے الیکٹرک نے اپنے پندرہ دسمبر کے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے موقف اپنایا کہ وزارت توانائی کی جانب سے بھیجے گئے جوابات میں جو نکات پیش کیے گئے ہیں وہ پہلے ہی مکمل طور پر رد اور مسترد کیے جا چکے ہیں۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس کا قانونی اور معاہداتی مؤقف جوں کا توں برقرار ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک نے کہا کہ پاور ڈویژن کے خطوط سے وابستہ ہدایات سندھ ہائی کورٹ کے جاری عبوری احکامات کی خلاف ورزی ہیں، جو متعلقہ حکام کو توہین عدالت کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔ کے الیکٹرک نے مزید کہا کہ پاور ڈویژن کا یہ مؤقف کہ ٹی ڈی ایس معاہدے کی شق دو اعشاریہ ایک بی اس لیے قابل اطلاق نہیں کیونکہ ٹیرف پہلے ہی طے ہو چکا ہے، قانونی طور پر ناقابل قبول اور غلط تشریح پر مبنی ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے مطابق مذکورہ نظرثانی شدہ ٹیرف نہ صرف غیر نوٹیفائیڈ ہیں بلکہ عدالت میں زیر سماعت بھی ہیں، اس لیے ان پر عملدرآمد آرٹیکل کے تحت روکا جا چکا ہے۔ کے الیکٹرک نے نشاندہی کی کہ شق کے مطابق اگر عدالت روک لگائے تو ٹی ڈی ایس کلیمز سابقہ ٹیرف کی بنیاد پر فائل کیے جائیں، جس پر کے الیکٹرک مکمل طور پر عمل کر رہا ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک نے مزید کہا کہ شق دو اعشاریہ چھ کے تحت ٹی ڈی ایس بیلنس رپورٹ یک طرفہ طور پر تبدیل نہیں کی جا سکتی، جبکہ وزارتِ توانائی کی جانب سے کی گئی ترامیم قانونی طور پر بے اثر ہیں۔ کے الیکٹرک نے وزارت توانائی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایسے تمام اقدامات ترک کرے اور خبردار کیا کہ کے الیکٹرک اپنے قانونی اور معاہداتی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281775</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jan 2026 09:09:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/19090510b729f4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/19090510b729f4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
