<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپلائی چین میں بہتری، پاکستان کے لیے کروڑوں ڈالر کی بچت کا راستہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تین دہائیوں سے زائد عرصے سے فوٹکو(ایف او ٹی سی او) پاکستان کی بنیادی آئل جیٹی کے طور پر کام کر رہا ہے (جو پورٹ قاسم پر واحد جیٹی ہے)۔ 1995 سے اب تک اس نے بغیر کسی ایک بھی سنگین حفاظتی واقعے کے 3700 سے زائد بحری جہازوں کو ہینڈل کیا ہے۔ سالانہ 150 سے زائد جہازوں کی آمد و رفت کے ساتھ فوٹکو کا کارکردگی کا ریکارڈ ملک کے کسی بھی دوسرے ہم پلہ آئل ٹرمینل سے بہتر ہے۔ تمام درآمدی وائٹ آئل (ڈیزل اور پیٹرول) کا 70 فیصد سے زائد حصہ ہینڈل کرنے کی وجہ سے اس آئل جیٹی کی  اہمیت واضح ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر بین الاقوامی ٹرمینلز کی طرح فوٹکو پر لنگر انداز ہونے والے جہازوں کو تیل اتارنے یا لوڈ کرنے کے لیے 48 گھنٹے دیے جاتے ہیں۔ اس شرح سے یہ جیٹی  ہر ماہ اوسطاً 15 جہازوں کو جگہ دے سکتی ہے، تاہم مالی سال 25-2024 کے آپریشنل اعداد و شمار ایک واضح نااہلی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 40 فیصد سے زائد جہازوں نے 48 گھنٹے کی مقررہ مدت ( سے تجاوز کیا۔ یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے اور یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ اس انتظامی مسئلے کے پیچھے کیا وجہ ہے اور یہ تیل کی سپلائی چین کو کیسے متاثر کرتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم پہلے اس کے اثرات کی بات کریں تو جہاز کے لنگر انداز ہونے اور تیل اتارنے میں تاخیر بنیادی طور پر جہازوں کے ہجوم (بنچنگ) کا باعث بنتی ہے۔ ایک جہاز کی تاخیر اپنے پیچھے آنے والے دیگر جہازوں پر اثر ڈالتی ہے اور جہاز رانی کی انتہائی مسابقتی دنیا میں اس کی وجہ سے جہاز کے مالکان کارگو کے مالکان سے ڈیمرج چارجز وصول کرتے ہیں۔ پاکستان میں ڈیمرج کی یہ لاگت لاکھوں ڈالرز میں ہے جو وہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ادا کرتی ہیں جو مصنوعات کا آرڈر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو اس نااہلی کی وجوہات کیا ہیں؟ فوٹکو میں جمع کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ جہازوں اور تیل وصول کرنے والے اسٹوریج ٹرمینلز کی پمپنگ کی سست رفتار ہے۔ فوٹکو پر آنے والے 500 سے زائد جہازوں کے ڈیٹا پر مبنی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف ان دو عوامل کو درست کرنے سے سالانہ تقریباً 1700 گھنٹے بچائے جا سکتے ہیں (جو کہ جیٹی کی دستیابی کے 70 سے زائد دنوں کے برابر ہے)۔ اگر یہ حاصل کر لیا جائے تو سالانہ مزید 35 اضافی جہازوں کو لنگر انداز کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوٹکو کی جیٹی 5000 ٹن فی گھنٹہ (ٹی پی ایچ) کی رفتار کو سنبھالنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، تاہم فوٹکو آنے والے جہازوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ باضابطہ طور پر اوسطاً صرف 2500 ٹن فی گھنٹہ کی بہت ہی کم رفتار برقرار رکھنے کا عہد کریں (جو فوٹکو کی گنجائش کا صرف 50 فیصد ہے)۔ لنگر اندازی کے وقت ہر جہاز کی طرف سے دیے گئے اس عہد کے باوجود بہت سے جہاز طے شدہ رفتار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں لنگر اندازی کا وقت بڑھ جاتا ہے، جہازوں کی ترتیب درہم برہم ہوتی ہے اور بعد میں آنے والے جہازوں کے لیے رش پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کے کچھ اسٹیک ہولڈرز نے ان تاخیر کی وجہ رات کے وقت جہاز رانی کی محدود سہولت، مون سون کے موسم میں ایچ ڈی آئی پی  کی نمونہ بندی (سیمپلنگ) یا ڈیزل اور پیٹرول دونوں کے لیے ایک ہی پائپ لائن کے استعمال جیسے عوامل کو قرار دیا ہے، تاہم 500 جہازوں کا وہی ڈیٹا سیٹ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عوامل مجموعی تاخیر میں بہت معمولی حصہ ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دعویٰ کہ موٹر گی  سولین اور ڈیزل کے لیے الگ الگ پائپ لائنیں جہازوں کے فارغ ہونے کے وقت میں نمایاں بہتری لائیں گی، اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا۔ اس وقت ایک ہی لائن دونوں مصنوعات کو ”پِگنگ“  کے عمل کے ذریعے ہینڈل کرتی ہے، جو ایک پروڈکٹ کے بعد دوسری کے آنے پر لائن کو صاف کرتا ہے۔ یہ ایک معیاری صنعتی طریقہ ہے جہاں متعدد مصنوعات ایک ہی پائپ لائن استعمال کرتی ہیں (اور یہی طریقہ پاک عرب پائپ لائن کمپنی - پیپکو - کراچی سے محمود کوٹ تک ان دونوں مصنوعات کی منتقلی کے لیے استعمال کرتی ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوٹکو نے حال ہی میں (یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل) ان جہازوں کے لیے جرمانے کا نظام متعارف کرایا ہے جو اوسطاً 2500 ٹن فی گھنٹہ کی رفتار برقرار رکھنے کی اپنی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔ یہ چارجز صرف اس صورت میں لاگو ہوں گے جب جہاز اپنی بتائی ہوئی رفتار برقرار نہیں رکھیں گے اور یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر نہیں بلکہ جہاز پر لاگو ہوں گے۔ اس جرمانے کے نظام سے نظم و ضبط آنے اور 48 گھنٹے کی مقررہ مدت کی پابندی کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صرف سزا کے اقدامات ہی زیادہ سے زیادہ کارکردگی حاصل کرنے میں کامیابی نہیں لائیں گے۔ کیا تیل اتارنے کے وقت کو مقررہ 48 گھنٹوں سے بھی کم کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟ فوٹکو کا ماننا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ وائٹ آئل مختلف کمپنیوں کے ٹینکوں کے بجائے اپنے آلات اور پائپ لائنوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ٹینکوں میں اتاریں تو وہ 75,000 میٹرک ٹن تک کے کسی بھی جہاز کو مقررہ 48 گھنٹوں کے اندر فارغ کرنے کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ ان کا مزید دعویٰ ہے کہ چھوٹے جہازوں کا یہ وقت اس سے بھی کم بعض صورتوں میں صرف 36 گھنٹے تک ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر ملک کی کتنی لاگت آئے گی؟ اس طرح کے انتظامات کی درست سرمایہ کاری کی لاگت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے، تاہم پالیسی سازوں کو جو سوال پوچھنا چاہیے وہ سیدھا ہے کہ اگر لاگت اور فائدے کا تجزیہ  یہ دکھاتا ہے کہ یہ ماڈل معاشی طور پر سودمند ہے، ڈیمرج کو کم کرتا ہے، قومی سپلائی کی بھروسہ مندی کو بہتر بناتا ہے اور بندرگاہ کی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے تو پاکستان اسے کیوں اختیار نہیں کرے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض ایک آپریشنل تبدیلی نہیں ہے۔ یہ قومی تیل کی سپلائی چین کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے جو غیر ملکی زرمبادلہ کے اخراج کو کم کرے گی ، توانائی کی حفاظت کو بہتر  اور بندرگاہ کے اہم انفرااسٹرکچر کا بھرپور استعمال یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تین دہائیوں سے زائد عرصے سے فوٹکو(ایف او ٹی سی او) پاکستان کی بنیادی آئل جیٹی کے طور پر کام کر رہا ہے (جو پورٹ قاسم پر واحد جیٹی ہے)۔ 1995 سے اب تک اس نے بغیر کسی ایک بھی سنگین حفاظتی واقعے کے 3700 سے زائد بحری جہازوں کو ہینڈل کیا ہے۔ سالانہ 150 سے زائد جہازوں کی آمد و رفت کے ساتھ فوٹکو کا کارکردگی کا ریکارڈ ملک کے کسی بھی دوسرے ہم پلہ آئل ٹرمینل سے بہتر ہے۔ تمام درآمدی وائٹ آئل (ڈیزل اور پیٹرول) کا 70 فیصد سے زائد حصہ ہینڈل کرنے کی وجہ سے اس آئل جیٹی کی  اہمیت واضح ہے۔</strong></p>
<p>دیگر بین الاقوامی ٹرمینلز کی طرح فوٹکو پر لنگر انداز ہونے والے جہازوں کو تیل اتارنے یا لوڈ کرنے کے لیے 48 گھنٹے دیے جاتے ہیں۔ اس شرح سے یہ جیٹی  ہر ماہ اوسطاً 15 جہازوں کو جگہ دے سکتی ہے، تاہم مالی سال 25-2024 کے آپریشنل اعداد و شمار ایک واضح نااہلی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 40 فیصد سے زائد جہازوں نے 48 گھنٹے کی مقررہ مدت ( سے تجاوز کیا۔ یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے اور یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ اس انتظامی مسئلے کے پیچھے کیا وجہ ہے اور یہ تیل کی سپلائی چین کو کیسے متاثر کرتا ہے؟</p>
<p>اگر ہم پہلے اس کے اثرات کی بات کریں تو جہاز کے لنگر انداز ہونے اور تیل اتارنے میں تاخیر بنیادی طور پر جہازوں کے ہجوم (بنچنگ) کا باعث بنتی ہے۔ ایک جہاز کی تاخیر اپنے پیچھے آنے والے دیگر جہازوں پر اثر ڈالتی ہے اور جہاز رانی کی انتہائی مسابقتی دنیا میں اس کی وجہ سے جہاز کے مالکان کارگو کے مالکان سے ڈیمرج چارجز وصول کرتے ہیں۔ پاکستان میں ڈیمرج کی یہ لاگت لاکھوں ڈالرز میں ہے جو وہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ادا کرتی ہیں جو مصنوعات کا آرڈر دیتی ہیں۔</p>
<p>تو اس نااہلی کی وجوہات کیا ہیں؟ فوٹکو میں جمع کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ جہازوں اور تیل وصول کرنے والے اسٹوریج ٹرمینلز کی پمپنگ کی سست رفتار ہے۔ فوٹکو پر آنے والے 500 سے زائد جہازوں کے ڈیٹا پر مبنی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف ان دو عوامل کو درست کرنے سے سالانہ تقریباً 1700 گھنٹے بچائے جا سکتے ہیں (جو کہ جیٹی کی دستیابی کے 70 سے زائد دنوں کے برابر ہے)۔ اگر یہ حاصل کر لیا جائے تو سالانہ مزید 35 اضافی جہازوں کو لنگر انداز کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>فوٹکو کی جیٹی 5000 ٹن فی گھنٹہ (ٹی پی ایچ) کی رفتار کو سنبھالنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، تاہم فوٹکو آنے والے جہازوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ باضابطہ طور پر اوسطاً صرف 2500 ٹن فی گھنٹہ کی بہت ہی کم رفتار برقرار رکھنے کا عہد کریں (جو فوٹکو کی گنجائش کا صرف 50 فیصد ہے)۔ لنگر اندازی کے وقت ہر جہاز کی طرف سے دیے گئے اس عہد کے باوجود بہت سے جہاز طے شدہ رفتار حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں لنگر اندازی کا وقت بڑھ جاتا ہے، جہازوں کی ترتیب درہم برہم ہوتی ہے اور بعد میں آنے والے جہازوں کے لیے رش پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>صنعت کے کچھ اسٹیک ہولڈرز نے ان تاخیر کی وجہ رات کے وقت جہاز رانی کی محدود سہولت، مون سون کے موسم میں ایچ ڈی آئی پی  کی نمونہ بندی (سیمپلنگ) یا ڈیزل اور پیٹرول دونوں کے لیے ایک ہی پائپ لائن کے استعمال جیسے عوامل کو قرار دیا ہے، تاہم 500 جہازوں کا وہی ڈیٹا سیٹ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ عوامل مجموعی تاخیر میں بہت معمولی حصہ ڈالتے ہیں۔</p>
<p>یہ دعویٰ کہ موٹر گی  سولین اور ڈیزل کے لیے الگ الگ پائپ لائنیں جہازوں کے فارغ ہونے کے وقت میں نمایاں بہتری لائیں گی، اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا۔ اس وقت ایک ہی لائن دونوں مصنوعات کو ”پِگنگ“  کے عمل کے ذریعے ہینڈل کرتی ہے، جو ایک پروڈکٹ کے بعد دوسری کے آنے پر لائن کو صاف کرتا ہے۔ یہ ایک معیاری صنعتی طریقہ ہے جہاں متعدد مصنوعات ایک ہی پائپ لائن استعمال کرتی ہیں (اور یہی طریقہ پاک عرب پائپ لائن کمپنی - پیپکو - کراچی سے محمود کوٹ تک ان دونوں مصنوعات کی منتقلی کے لیے استعمال کرتی ہے)۔</p>
<p>فوٹکو نے حال ہی میں (یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل) ان جہازوں کے لیے جرمانے کا نظام متعارف کرایا ہے جو اوسطاً 2500 ٹن فی گھنٹہ کی رفتار برقرار رکھنے کی اپنی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔ یہ چارجز صرف اس صورت میں لاگو ہوں گے جب جہاز اپنی بتائی ہوئی رفتار برقرار نہیں رکھیں گے اور یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر نہیں بلکہ جہاز پر لاگو ہوں گے۔ اس جرمانے کے نظام سے نظم و ضبط آنے اور 48 گھنٹے کی مقررہ مدت کی پابندی کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم صرف سزا کے اقدامات ہی زیادہ سے زیادہ کارکردگی حاصل کرنے میں کامیابی نہیں لائیں گے۔ کیا تیل اتارنے کے وقت کو مقررہ 48 گھنٹوں سے بھی کم کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟ فوٹکو کا ماننا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ وائٹ آئل مختلف کمپنیوں کے ٹینکوں کے بجائے اپنے آلات اور پائپ لائنوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ٹینکوں میں اتاریں تو وہ 75,000 میٹرک ٹن تک کے کسی بھی جہاز کو مقررہ 48 گھنٹوں کے اندر فارغ کرنے کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ ان کا مزید دعویٰ ہے کہ چھوٹے جہازوں کا یہ وقت اس سے بھی کم بعض صورتوں میں صرف 36 گھنٹے تک ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس پر ملک کی کتنی لاگت آئے گی؟ اس طرح کے انتظامات کی درست سرمایہ کاری کی لاگت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے، تاہم پالیسی سازوں کو جو سوال پوچھنا چاہیے وہ سیدھا ہے کہ اگر لاگت اور فائدے کا تجزیہ  یہ دکھاتا ہے کہ یہ ماڈل معاشی طور پر سودمند ہے، ڈیمرج کو کم کرتا ہے، قومی سپلائی کی بھروسہ مندی کو بہتر بناتا ہے اور بندرگاہ کی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے تو پاکستان اسے کیوں اختیار نہیں کرے گا؟</p>
<p>یہ محض ایک آپریشنل تبدیلی نہیں ہے۔ یہ قومی تیل کی سپلائی چین کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے جو غیر ملکی زرمبادلہ کے اخراج کو کم کرے گی ، توانائی کی حفاظت کو بہتر  اور بندرگاہ کے اہم انفرااسٹرکچر کا بھرپور استعمال یقینی بنائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281765</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Jan 2026 13:44:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اُم ایمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/181332284ed7c79.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/181332284ed7c79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
