<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے مزید رہنماؤں کو غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281747/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے بعد غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے ’’بورڈ آف پیس‘‘ نے ہفتے کے روز اس وقت عملی شکل اختیار کرنا شروع کر دی جب مصر، ترکیہ، ارجنٹینا اور کینیڈا کے رہنماؤں کو اس میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان رہنماؤں کی جانب سے اعلانات اس پیش رفت کے بعد سامنے آئے جب امریکی صدر نے اپنے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر اور سینئر مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور اسٹیو وِٹکوف کو اس پینل کا رکن نامزد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ پہلے ہی خود کو اس ادارے کا چیئرمین قرار دے چکے ہیں، کیونکہ وہ فلسطینی علاقے میں اقتصادی ترقی کے ایک وژن کو فروغ دے رہے ہیں، جو دو سال سے زائد عرصے کی مسلسل اسرائیلی بمباری کے بعد کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب غزہ کے انتظام کے لیے قائم فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی ایک کمیٹی نے قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے شرکت کی۔ کشنر گزشتہ کئی ماہ سے اس معاملے پر وِٹکوف کے ساتھ شراکت میں کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا میں وزیرِ اعظم مارک کارنی کے ایک سینئر معاون نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی دعوت قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ ترکیہ میں صدر رجب طیب اردوان کے ترجمان نے بتایا ہے کہ انہیں بورڈ کا ’’بانی رکن‘‘ بننے کی درخواست کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ قاہرہ صدر عبدالفتاح السیسی کی شمولیت سے متعلق درخواست کا ’’جائزہ‘‘ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دعوت نامے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ” ایکس“ پر لکھا ہے کہ اس اقدام میں شرکت کرنا ان کے لیے ’’باعثِ اعزاز‘‘ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کو ارسال کردہ ایک بیان میں ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ” میں بورڈ آف پیس کے قیام پر صدر ٹرمپ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس کے ایگزیکٹو بورڈ میں تقرری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیئر مشرقِ وسطیٰ میں ایک متنازع شخصیت سمجھے جاتے ہیں، جس کی وجہ 2003 میں عراق پر حملے میں ان کا کردار ہے۔ خود ٹرمپ نے گزشتہ برس کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بلیئر سب کے لیے ایک ” قابلِ قبول انتخاب“ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیئر نے 2007 میں ڈاؤننگ اسٹریٹ چھوڑنے کے بعد کئی برس اسرائیل۔فلسطین تنازع پر توجہ مرکوز رکھی، جب وہ ” مڈل ایسٹ کوارٹیٹ“ — اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، امریکا اور روس — کے نمائندے کے طور پر کام کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ آف پیس ایسے امور سے نمٹے گا جن میں ”حکمرانی کی صلاحیت میں اضافہ، علاقائی تعلقات، تعمیرِ نو، سرمایہ کاری کی ترغیب، بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمایہ کی فراہمی“ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک بورڈ کے دیگر اراکین میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا، جو بھارتی نژاد امریکی تاجر ہیں، امریکی ارب پتی فنانسر مارک روون اور رابرٹ گیبریل شامل ہیں، جو ٹرمپ کے قریبی معاون اور امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ایک دوسرا ” غزہ ایگزیکٹو بورڈ“ بھی قائم کیا ہے، جو بظاہر زیادہ مشاورتی کردار کے لیے بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ کن عالمی رہنماؤں کو کس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس، جس نے جمعے کے روز کہا تھا کہ دونوں اداروں میں مزید اراکین نامزد کیے جائیں گے، نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی حملے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کا کہنا ہے کہ غزہ سے متعلق منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں جنگ بندی کے نفاذ سے حماس کو غیر مسلح کرنے کی جانب پیش رفت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز ٹرمپ نے امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کو بین الاقوامی استحکامی فورس کا سربراہ نامزد کیا ہے، جسے غزہ میں سکیورٹی کی فراہمی اور حماس کی جگہ نئی پولیس فورس کی تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ میں خصوصی آپریشنز سے وابستہ جیفرز کو 2024 کے اواخر میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی سونپی گئی تھی، جس کے باوجود حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے وقفے وقفے سے حملے جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ سے تعلق رکھنے والے اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث کو اس سے قبل حکومتی کمیٹی کا سربراہ نامزد کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے طور پر شہرت رکھنے والے ٹرمپ ماضی میں تباہ حال غزہ کو رِویرا طرز کے سیاحتی خطے میں تبدیل کرنے کا خیال ظاہر کر چکے ہیں،تاہم انہوں نے آبادی کو زبردستی بے دخل کرنے کے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے بعد غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے ’’بورڈ آف پیس‘‘ نے ہفتے کے روز اس وقت عملی شکل اختیار کرنا شروع کر دی جب مصر، ترکیہ، ارجنٹینا اور کینیڈا کے رہنماؤں کو اس میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔</strong></p>
<p>ان رہنماؤں کی جانب سے اعلانات اس پیش رفت کے بعد سامنے آئے جب امریکی صدر نے اپنے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر اور سینئر مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور اسٹیو وِٹکوف کو اس پینل کا رکن نامزد کیا۔</p>
<p>ٹرمپ پہلے ہی خود کو اس ادارے کا چیئرمین قرار دے چکے ہیں، کیونکہ وہ فلسطینی علاقے میں اقتصادی ترقی کے ایک وژن کو فروغ دے رہے ہیں، جو دو سال سے زائد عرصے کی مسلسل اسرائیلی بمباری کے بعد کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب غزہ کے انتظام کے لیے قائم فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی ایک کمیٹی نے قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے شرکت کی۔ کشنر گزشتہ کئی ماہ سے اس معاملے پر وِٹکوف کے ساتھ شراکت میں کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>کینیڈا میں وزیرِ اعظم مارک کارنی کے ایک سینئر معاون نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی دعوت قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ ترکیہ میں صدر رجب طیب اردوان کے ترجمان نے بتایا ہے کہ انہیں بورڈ کا ’’بانی رکن‘‘ بننے کی درخواست کی گئی ہے۔</p>
<p>مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ قاہرہ صدر عبدالفتاح السیسی کی شمولیت سے متعلق درخواست کا ’’جائزہ‘‘ لے رہا ہے۔</p>
<p>ادھر دعوت نامے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ” ایکس“ پر لکھا ہے کہ اس اقدام میں شرکت کرنا ان کے لیے ’’باعثِ اعزاز‘‘ ہوگا۔</p>
<p>اے ایف پی کو ارسال کردہ ایک بیان میں ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ” میں بورڈ آف پیس کے قیام پر صدر ٹرمپ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس کے ایگزیکٹو بورڈ میں تقرری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔“</p>
<p>بلیئر مشرقِ وسطیٰ میں ایک متنازع شخصیت سمجھے جاتے ہیں، جس کی وجہ 2003 میں عراق پر حملے میں ان کا کردار ہے۔ خود ٹرمپ نے گزشتہ برس کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بلیئر سب کے لیے ایک ” قابلِ قبول انتخاب“ ہوں۔</p>
<p>بلیئر نے 2007 میں ڈاؤننگ اسٹریٹ چھوڑنے کے بعد کئی برس اسرائیل۔فلسطین تنازع پر توجہ مرکوز رکھی، جب وہ ” مڈل ایسٹ کوارٹیٹ“ — اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، امریکا اور روس — کے نمائندے کے طور پر کام کرتے رہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ آف پیس ایسے امور سے نمٹے گا جن میں ”حکمرانی کی صلاحیت میں اضافہ، علاقائی تعلقات، تعمیرِ نو، سرمایہ کاری کی ترغیب، بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمایہ کی فراہمی“ شامل ہیں۔</p>
<p>اب تک بورڈ کے دیگر اراکین میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا، جو بھارتی نژاد امریکی تاجر ہیں، امریکی ارب پتی فنانسر مارک روون اور رابرٹ گیبریل شامل ہیں، جو ٹرمپ کے قریبی معاون اور امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے ایک دوسرا ” غزہ ایگزیکٹو بورڈ“ بھی قائم کیا ہے، جو بظاہر زیادہ مشاورتی کردار کے لیے بنایا گیا ہے۔</p>
<p>یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ کن عالمی رہنماؤں کو کس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس، جس نے جمعے کے روز کہا تھا کہ دونوں اداروں میں مزید اراکین نامزد کیے جائیں گے، نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p><strong>اسرائیلی حملے</strong></p>
<p>واشنگٹن کا کہنا ہے کہ غزہ سے متعلق منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں جنگ بندی کے نفاذ سے حماس کو غیر مسلح کرنے کی جانب پیش رفت شامل ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز ٹرمپ نے امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کو بین الاقوامی استحکامی فورس کا سربراہ نامزد کیا ہے، جسے غزہ میں سکیورٹی کی فراہمی اور حماس کی جگہ نئی پولیس فورس کی تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ میں خصوصی آپریشنز سے وابستہ جیفرز کو 2024 کے اواخر میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی سونپی گئی تھی، جس کے باوجود حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے وقفے وقفے سے حملے جاری رہے۔</p>
<p>غزہ سے تعلق رکھنے والے اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث کو اس سے قبل حکومتی کمیٹی کا سربراہ نامزد کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے طور پر شہرت رکھنے والے ٹرمپ ماضی میں تباہ حال غزہ کو رِویرا طرز کے سیاحتی خطے میں تبدیل کرنے کا خیال ظاہر کر چکے ہیں،تاہم انہوں نے آبادی کو زبردستی بے دخل کرنے کے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281747</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jan 2026 22:25:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/172204270e2f4c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/172204270e2f4c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
