<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:57:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 21:57:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیوچر منرلز فورم ریاض، پاکستان کے پاس وسیع اور متنوع معدنی صلاحیت موجود ہے، وزیر پٹرولیم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281745/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ریگولیٹری ماحول کو آسان بنا کر اور معدنیات کے شعبے کے فریم ورک کو ہم آہنگ کرکے نظام میں موجود رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دے کر کہا کہ ” پاکستان کے پاس وسیع اور متنوع معدنی صلاحیت موجود ہے، جو عالمی شراکت داری کے لیے اہم مواقع پیش کرتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے یہ بات فیوچر منرلز فورم (ایف ایم ایف)، ریاض، سعودی عرب میں پاکستان کی معدنی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہی، یہ بات پٹرولیم ڈویژن-وزارت توانائی نے ایک ہینڈ آؤٹ میں کہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پیٹرولیم نے ریاض میں ایف ایم ایف میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے اعلیٰ سطح کی بات چیت میں حصہ لیا جس میں دنیا کو پاکستان کی بے پناہ معدنی صلاحیتوں کی نمائش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف ایم ایف کے موقع پر وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطح کی دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ منعقد کیا۔ ان میں سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان السعود کے ساتھ ملاقات بھی شامل تھی، جس کے دوران دونوں فریقین نے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط کرنے کے طریقوں بشمول پٹرولیم کی فراہمی، قابل تجدید توانائی، توانائی کی کارکردگی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے وزیرِ سرمایہ کاری، انجینئر خالد الفالح سے بھی ملاقات کی تاکہ پاکستان کے توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور آمد کو بڑھانے اور شراکت داری کے مواقع کو فروغ دینے پر بات کی جا سکے۔ انہوں نے بین الاقوامی انرجی فورم کے سیکرٹری جنرل جاسم الشیروا، میتسو کارپوریشن کے سی ای او سامی تاکالوما، ڈیلٹا آئل کے چیئرمین بدر العیبان اور سعودی ایکسِم بینک کے سی ای او انجینئر سعد الخلب سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے ایک نمایاں وزارتی پینل میں بھی حصہ لیا جس کا عنوان تھا ”ڈان آف اے گلوبل کاز: دی رول آف گورنمنٹس ان ڈرائیونگ منرل سپلائی“ اور جس کی صدارت سی این این کی اینکر اور رپورٹر ایلینی جیؤکوس نے کی۔ پینل میں قابلِ ذکر مقررین سعودی عرب کے وزیرِ صنعت و معدنی وسائل بندر الخریّف، مراکش کی وزیرِ برائے متبادل توانائی اور پائیدار ترقی لیلیٰ بن علی، موریطانیا کے وزیرِ کان کنی و صنعت تیام تِجدانی، چلی کی وزیرِ کان کنی اور کینیڈا کے وزارتِ توانائی و قدرتی وسائل کے پارلیمانی سیکرٹری کلاڈ گی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث کے دوران پینل نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کیا اور اسے ابھرتا ہوا اور پرکشش معدنی وسائل کا مرکز قرار دیا۔ جیؤکوس نے کہا کہ پاکستان کی وسیع صلاحیت کے سبب، دنیا ” پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے تاکہ معدنیات حاصل کی جا سکیں“، جو بین الاقوامی دلچسپی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے عالمی اسٹیک ہولڈرز کو باضابطہ طور پر پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی، جو اپریل 2026 میں منعقد ہونے والا ہے، اور اسے سرمایہ کاری، تعاون اور پالیسی گفت و شنید کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، وفاقی وزیر نے ایف ایم ایف کے وزارتی راؤنڈ ٹیبل میں بھی حصہ لیا جس کا عنوان تھا ”ڈان آف اے گلوبل کاز: منرلز فار اے نیو ایرا آف ڈیولپمنٹ“، جس میں 100 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی موجودگی ایف ایم ایف میں پاکستان پیویلین کے ذریعے مزید مضبوط ہوئی، جس کا عنوان تھا &lt;strong&gt;”پاکستان – دی منرل مارول“&lt;/strong&gt;۔ پیویلین میں نیشنل منرلز ڈیٹا سینٹر ( این ایم ڈی ڈی ) کے لائیو مظاہرے بھی شامل تھے، جو پاکستان کے معدنی شعبے کی جدید کاری کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ زائرین نے جدید انٹرایکٹو نمائشوں سے رجوع کیا، جن میں 3D جیولوجیکل ماڈلنگ، ہائی ریزولوشن جی آئی ایس میپنگ اور پاکستان کے معدنی پٹیوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا ویژولائزیشن شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اپنے معدنی وسائل پر 90 منٹ پر مشتمل ایک ملک کی نمائش کا سیشن بھی منعقد کیا، جس میں شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس سیشن کے دوران وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کے اہم معدنیات کے لیے اسٹریٹجک وژن پیش کیا، اور کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے کھلا ہے اور حکومتِ پاکستان سرمایہ کاروں کے ساتھ پختہ موقف اختیار کیے ہوئے ہے، جس سے آپریٹرز اس صلاحیت کو بروئے کار لا کر عالمی سطح پر توانائی نظام کو برقی توانائی کی طرف منتقل کرنے میں حصہ لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ ریکو ڈیک محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ کان کنی کے نئے معیارات قائم کرنے والا ایک بینچ مارک ہے، اور کہا کہ اس سال پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کا موضوع ہوگا ”بِیونڈ ریکو ڈیک“( ریکوڈک سے آگے)۔ سیشن میں وزیرِ معدنی وسائل کے ڈپٹی عبدالرحمن البلُوشی نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ایف ایم ایف میں فعال شرکت نے حکومت کی ذمہ دارانہ معدنی ترقی، عالمی تعاون اور سرمایہ کاری پر مبنی نمو کے عزم کو دوبارہ اجاگر کیا، اور ملک کو مستقبل کی عالمی معدنیات کی طلب کو پورا کرنے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ریگولیٹری ماحول کو آسان بنا کر اور معدنیات کے شعبے کے فریم ورک کو ہم آہنگ کرکے نظام میں موجود رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے زور دے کر کہا کہ ” پاکستان کے پاس وسیع اور متنوع معدنی صلاحیت موجود ہے، جو عالمی شراکت داری کے لیے اہم مواقع پیش کرتا ہے۔“</p>
<p>علی پرویز ملک نے یہ بات فیوچر منرلز فورم (ایف ایم ایف)، ریاض، سعودی عرب میں پاکستان کی معدنی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہی، یہ بات پٹرولیم ڈویژن-وزارت توانائی نے ایک ہینڈ آؤٹ میں کہی ہے۔</p>
<p>وزیر پیٹرولیم نے ریاض میں ایف ایم ایف میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے اعلیٰ سطح کی بات چیت میں حصہ لیا جس میں دنیا کو پاکستان کی بے پناہ معدنی صلاحیتوں کی نمائش کی گئی۔</p>
<p>ایف ایم ایف کے موقع پر وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطح کی دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ منعقد کیا۔ ان میں سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان السعود کے ساتھ ملاقات بھی شامل تھی، جس کے دوران دونوں فریقین نے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط کرنے کے طریقوں بشمول پٹرولیم کی فراہمی، قابل تجدید توانائی، توانائی کی کارکردگی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے وزیرِ سرمایہ کاری، انجینئر خالد الفالح سے بھی ملاقات کی تاکہ پاکستان کے توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور آمد کو بڑھانے اور شراکت داری کے مواقع کو فروغ دینے پر بات کی جا سکے۔ انہوں نے بین الاقوامی انرجی فورم کے سیکرٹری جنرل جاسم الشیروا، میتسو کارپوریشن کے سی ای او سامی تاکالوما، ڈیلٹا آئل کے چیئرمین بدر العیبان اور سعودی ایکسِم بینک کے سی ای او انجینئر سعد الخلب سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے ایک نمایاں وزارتی پینل میں بھی حصہ لیا جس کا عنوان تھا ”ڈان آف اے گلوبل کاز: دی رول آف گورنمنٹس ان ڈرائیونگ منرل سپلائی“ اور جس کی صدارت سی این این کی اینکر اور رپورٹر ایلینی جیؤکوس نے کی۔ پینل میں قابلِ ذکر مقررین سعودی عرب کے وزیرِ صنعت و معدنی وسائل بندر الخریّف، مراکش کی وزیرِ برائے متبادل توانائی اور پائیدار ترقی لیلیٰ بن علی، موریطانیا کے وزیرِ کان کنی و صنعت تیام تِجدانی، چلی کی وزیرِ کان کنی اور کینیڈا کے وزارتِ توانائی و قدرتی وسائل کے پارلیمانی سیکرٹری کلاڈ گی شامل تھے۔</p>
<p>بحث کے دوران پینل نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کیا اور اسے ابھرتا ہوا اور پرکشش معدنی وسائل کا مرکز قرار دیا۔ جیؤکوس نے کہا کہ پاکستان کی وسیع صلاحیت کے سبب، دنیا ” پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے تاکہ معدنیات حاصل کی جا سکیں“، جو بین الاقوامی دلچسپی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے عالمی اسٹیک ہولڈرز کو باضابطہ طور پر پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی، جو اپریل 2026 میں منعقد ہونے والا ہے، اور اسے سرمایہ کاری، تعاون اور پالیسی گفت و شنید کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p>مزید برآں، وفاقی وزیر نے ایف ایم ایف کے وزارتی راؤنڈ ٹیبل میں بھی حصہ لیا جس کا عنوان تھا ”ڈان آف اے گلوبل کاز: منرلز فار اے نیو ایرا آف ڈیولپمنٹ“، جس میں 100 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔</p>
<p>پاکستان کی موجودگی ایف ایم ایف میں پاکستان پیویلین کے ذریعے مزید مضبوط ہوئی، جس کا عنوان تھا <strong>”پاکستان – دی منرل مارول“</strong>۔ پیویلین میں نیشنل منرلز ڈیٹا سینٹر ( این ایم ڈی ڈی ) کے لائیو مظاہرے بھی شامل تھے، جو پاکستان کے معدنی شعبے کی جدید کاری کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ زائرین نے جدید انٹرایکٹو نمائشوں سے رجوع کیا، جن میں 3D جیولوجیکل ماڈلنگ، ہائی ریزولوشن جی آئی ایس میپنگ اور پاکستان کے معدنی پٹیوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا ویژولائزیشن شامل تھی۔</p>
<p>پاکستان نے اپنے معدنی وسائل پر 90 منٹ پر مشتمل ایک ملک کی نمائش کا سیشن بھی منعقد کیا، جس میں شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس سیشن کے دوران وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کے اہم معدنیات کے لیے اسٹریٹجک وژن پیش کیا، اور کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے کھلا ہے اور حکومتِ پاکستان سرمایہ کاروں کے ساتھ پختہ موقف اختیار کیے ہوئے ہے، جس سے آپریٹرز اس صلاحیت کو بروئے کار لا کر عالمی سطح پر توانائی نظام کو برقی توانائی کی طرف منتقل کرنے میں حصہ لے سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ ریکو ڈیک محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ کان کنی کے نئے معیارات قائم کرنے والا ایک بینچ مارک ہے، اور کہا کہ اس سال پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کا موضوع ہوگا ”بِیونڈ ریکو ڈیک“( ریکوڈک سے آگے)۔ سیشن میں وزیرِ معدنی وسائل کے ڈپٹی عبدالرحمن البلُوشی نے بھی شرکت کی۔</p>
<p>پاکستان کی ایف ایم ایف میں فعال شرکت نے حکومت کی ذمہ دارانہ معدنی ترقی، عالمی تعاون اور سرمایہ کاری پر مبنی نمو کے عزم کو دوبارہ اجاگر کیا، اور ملک کو مستقبل کی عالمی معدنیات کی طلب کو پورا کرنے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281745</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Jan 2026 09:53:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/17193250db4c864.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/17193250db4c864.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
