<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں اضافہ، صنعتکاروں کی حکومت پر کڑی تنقید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281739/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتکاروں اور تاجر برادری نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مقامی مارکیٹ تک منتقل کیا جائے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور ملک میں کاروبار کی بلند لاگت کو کم کیا جاسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بابر خان نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ان ٹیکسوں کے فوائد عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود میں منتقل نہیں ہورہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام اور کاروباری برادری مسلسل زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود حکومت کم ٹیکس وصولی کی شکایت کرتی ہے حالانکہ ملک میں بدعنوانی عام ہے اور ترقیاتی عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے لاجسٹکس (نقل و حمل) کے اخراجات بلند سطح پر برقرار ہیں، جبکہ سڑکوں کا انفرااسٹرکچر خستہ حالی کا شکار ہے، خاص طور پر کراچی میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 جنوری کو حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھا۔ عوام کو اس کمی کا فائدہ پہنچانے کے بجائے، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے ہر لیٹر پر لیوی (ٹیکس) میں اضافہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق جنوری 2026 کے دوسرے پندرہ دنوں کے لیے ڈیزل اور پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 4.65 روپے فی لٹر تک کا اضافہ کر دیا گیا جبکہ ان مصنوعات کی قیمتیں 253.17 روپے فی لیٹر کی موجودہ سطح پر برقرار رکھی گئیں۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی قیمت بھی 257.08 روپے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے سابق صدر سید رضا حسین نے کہا کہ جب بھی عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے، حکومت کو اسی طرح عوام کو ریلیف دینا چاہیے جیسے وہ عالمی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نرخ بڑھا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ کاروبار کی بلند لاگت ملک کی برآمدات کو پائیدار بنیادوں پر کبھی فروغ نہیں دے سکتی، کیونکہ خطے کے دیگر اور مسابقتی ممالک پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مسابقت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بجلی کے نرخ زیادہ ہیں، پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہیں اور پالیسی ریٹ بھی بلند سطح پر برقرار ہے۔ یہ عوامل ملک میں برآمد کنندگان اور کاروباری طبقے کے لیے سازگار ماحول پیدا نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صنعتکاروں اور تاجر برادری نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مقامی مارکیٹ تک منتقل کیا جائے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور ملک میں کاروبار کی بلند لاگت کو کم کیا جاسکے۔</strong></p>
<p>پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بابر خان نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ان ٹیکسوں کے فوائد عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود میں منتقل نہیں ہورہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام اور کاروباری برادری مسلسل زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود حکومت کم ٹیکس وصولی کی شکایت کرتی ہے حالانکہ ملک میں بدعنوانی عام ہے اور ترقیاتی عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے لاجسٹکس (نقل و حمل) کے اخراجات بلند سطح پر برقرار ہیں، جبکہ سڑکوں کا انفرااسٹرکچر خستہ حالی کا شکار ہے، خاص طور پر کراچی میں۔</p>
<p>15 جنوری کو حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھا۔ عوام کو اس کمی کا فائدہ پہنچانے کے بجائے، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے ہر لیٹر پر لیوی (ٹیکس) میں اضافہ کر دیا۔</p>
<p>ان کے مطابق جنوری 2026 کے دوسرے پندرہ دنوں کے لیے ڈیزل اور پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 4.65 روپے فی لٹر تک کا اضافہ کر دیا گیا جبکہ ان مصنوعات کی قیمتیں 253.17 روپے فی لیٹر کی موجودہ سطح پر برقرار رکھی گئیں۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی قیمت بھی 257.08 روپے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔</p>
<p>فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے سابق صدر سید رضا حسین نے کہا کہ جب بھی عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے، حکومت کو اسی طرح عوام کو ریلیف دینا چاہیے جیسے وہ عالمی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نرخ بڑھا دیتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ کاروبار کی بلند لاگت ملک کی برآمدات کو پائیدار بنیادوں پر کبھی فروغ نہیں دے سکتی، کیونکہ خطے کے دیگر اور مسابقتی ممالک پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مسابقت رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بجلی کے نرخ زیادہ ہیں، پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہیں اور پالیسی ریٹ بھی بلند سطح پر برقرار ہے۔ یہ عوامل ملک میں برآمد کنندگان اور کاروباری طبقے کے لیے سازگار ماحول پیدا نہیں کرتے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281739</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jan 2026 16:04:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1715565365bd05b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1715565365bd05b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
