<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جے ایف17 دورِ حاضر کی مارکیٹ میں کیوں بہترین ہے؟ سابق ایئر کموڈور کا تجزیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281738/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تمغہِ امتیاز (ملٹری) اور ستارہِ امتیاز (ملٹری) یافتہ سابق ایئر کموڈور عباس پیٹی والا نے کہا ہے کہ جے ایف-17 تھنڈر  کے ثابت شدہ جنگی ریکارڈ، جدید ترین صلاحیتوں اور کم لاگت نے اس طیارے کو جدید لڑاکا طیاروں کے متلاشی ممالک کے لیے ایک پرکشش انتخاب بنا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عباس پیٹی والا نے کہا کہ کوئی بھی ملک جنگی طیارہ خریدنے سے پہلے جس پہلے عنصر کا جائزہ لیتا ہے وہ اس کا جنگی ریکارڈ ہے۔ حالیہ پاک-بھارت فضائی جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الحمدللہ جے ایف-17 کا جنگی ریکارڈ بارہا ثابت ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جھڑپ کے دوران طیارے نے اپنی عملی کارکردگی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ممالک نے اس شہرہ آفاق جے ایف-17  لڑاکا طیارے کو حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس کی ساکھ میں اپنے پڑوسی حریف کے خلاف مئی 2025 کی جنگ میں اپنی صلاحیتوں کے مظاہرے کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہلکا لڑاکا طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے اور یہ پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17  لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں جو گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد عسکری تعاون کو مزید وسعت دینے کی ایک کڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنے کا معاہدہ بھی حاصل کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/17140453948f83f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/17140453948f83f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کی تاکہ ہوا بازی کے شعبے میں اسٹریٹجک تعاون، بشمول جے ایف-17 تھنڈر طیاروں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے پیٹی والا نے فضائی معرکہ آرائی کے ارتقاء پر روشنی ڈالی اور 1960 سے 1980 کی دہائی کے لڑاکا طیاروں، جیسے کہ سیبر (Sabre) اور ایف-104 اسٹار فائٹر کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان طیاروں کو اڑانے کیلئے آپ کو دشمن کے طیارے کے بہت قریب جانا پڑتا تھا، ہم اسے ودِ اِن ویژول رینج (بصری حد کے اندر) کہتے تھے یعنی 10 میل کے فاصلے کے اندر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جدید جنگ اب بیونڈ ویژول رینج (بصری حد سے دور) کے معرکوں کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی پذیر ممالک میں بی وی آر  کی صلاحیت تقریباً 30 سے 40 میل تک محدود تھی، آج جدید ریڈار سسٹم کی مدد سے آپ 150 سے 200 میل کے فاصلے سے ہی دشمن کے طیارے کا پتا لگا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام صلاحیتیں جے ایف-17  میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس پٹی والا نے کہا کہ دفاعی اور جارحانہ دونوں نکتہ نظر سے یہ طیارہ طویل فاصلے سے اہداف کو لاک (نشانہ بنانا) کر سکتا ہے اور ان پر مؤثر طریقے سے حملہ آور ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگی تجربہ کار (وار ویٹرن) نےبتایا کہ جے ایف-17  کے ہم عصر طیارے، جن میں مارکیٹ میں دستیاب امریکی اور یورپی لڑاکا طیارے شامل ہیں، ان کی قیمت 70 ملین ڈالر سے 90 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جبکہ اس کے مقابلے میں جے ایف-17 کی قیمت فی طیارہ تقریباً 25 سے 30 ملین ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمت سے ہٹ کر عباس پیٹی والا نے کہا کہ ممالک طیارے کی سپلائی چین (رسد کا نظام) اور تربیتی ماحولیاتی نظام (ٹریننگ ایکو سسٹم) کی مضبوطی کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ تربیت کے لحاظ سے خود کفیل ہے اور کئی غیر ملکی فضائی افواج کو بھی تربیت فراہم کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایف 17 کی تیاری کے پیچھے موجود صنعتی بنیادوں کا ذکر کرتے ہوئے پیٹی والا نے 1970 کی دہائی میں کامرہ میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) کے قیام کی طرف اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پی اے سی کی ابتدائی توجہ چینی اور فرانسیسی طیاروں بشمول معراج، اے-5 اور ایف-7 کی اوور ہالنگ (مرمت اور دیکھ بھال) پر تھی، اس مہارت کے حصول کے بعد ان اوور ہالنگ کی سہولتوں کو مینوفیکچرنگ (تیاری) کی سہولتوں میں تبدیل کردیا گیا جس نے ہمیں پیداواری لاگت کو کم سے کم کرنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تمغہِ امتیاز (ملٹری) اور ستارہِ امتیاز (ملٹری) یافتہ سابق ایئر کموڈور عباس پیٹی والا نے کہا ہے کہ جے ایف-17 تھنڈر  کے ثابت شدہ جنگی ریکارڈ، جدید ترین صلاحیتوں اور کم لاگت نے اس طیارے کو جدید لڑاکا طیاروں کے متلاشی ممالک کے لیے ایک پرکشش انتخاب بنا دیا ہے۔</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عباس پیٹی والا نے کہا کہ کوئی بھی ملک جنگی طیارہ خریدنے سے پہلے جس پہلے عنصر کا جائزہ لیتا ہے وہ اس کا جنگی ریکارڈ ہے۔ حالیہ پاک-بھارت فضائی جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الحمدللہ جے ایف-17 کا جنگی ریکارڈ بارہا ثابت ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جھڑپ کے دوران طیارے نے اپنی عملی کارکردگی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔</p>
<p>کئی ممالک نے اس شہرہ آفاق جے ایف-17  لڑاکا طیارے کو حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس کی ساکھ میں اپنے پڑوسی حریف کے خلاف مئی 2025 کی جنگ میں اپنی صلاحیتوں کے مظاہرے کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہلکا لڑاکا طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے اور یہ پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17  لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں جو گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد عسکری تعاون کو مزید وسعت دینے کی ایک کڑی ہے۔</p>
<p>اسی طرح پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنے کا معاہدہ بھی حاصل کرلیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/17140453948f83f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/01/17140453948f83f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مزید برآں انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کی تاکہ ہوا بازی کے شعبے میں اسٹریٹجک تعاون، بشمول جے ایف-17 تھنڈر طیاروں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے پیٹی والا نے فضائی معرکہ آرائی کے ارتقاء پر روشنی ڈالی اور 1960 سے 1980 کی دہائی کے لڑاکا طیاروں، جیسے کہ سیبر (Sabre) اور ایف-104 اسٹار فائٹر کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان طیاروں کو اڑانے کیلئے آپ کو دشمن کے طیارے کے بہت قریب جانا پڑتا تھا، ہم اسے ودِ اِن ویژول رینج (بصری حد کے اندر) کہتے تھے یعنی 10 میل کے فاصلے کے اندر۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جدید جنگ اب بیونڈ ویژول رینج (بصری حد سے دور) کے معرکوں کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔</p>
<p>ترقی پذیر ممالک میں بی وی آر  کی صلاحیت تقریباً 30 سے 40 میل تک محدود تھی، آج جدید ریڈار سسٹم کی مدد سے آپ 150 سے 200 میل کے فاصلے سے ہی دشمن کے طیارے کا پتا لگا سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام صلاحیتیں جے ایف-17  میں موجود ہیں۔</p>
<p>عباس پٹی والا نے کہا کہ دفاعی اور جارحانہ دونوں نکتہ نظر سے یہ طیارہ طویل فاصلے سے اہداف کو لاک (نشانہ بنانا) کر سکتا ہے اور ان پر مؤثر طریقے سے حملہ آور ہو سکتا ہے۔</p>
<p>جنگی تجربہ کار (وار ویٹرن) نےبتایا کہ جے ایف-17  کے ہم عصر طیارے، جن میں مارکیٹ میں دستیاب امریکی اور یورپی لڑاکا طیارے شامل ہیں، ان کی قیمت 70 ملین ڈالر سے 90 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جبکہ اس کے مقابلے میں جے ایف-17 کی قیمت فی طیارہ تقریباً 25 سے 30 ملین ڈالر ہے۔</p>
<p>قیمت سے ہٹ کر عباس پیٹی والا نے کہا کہ ممالک طیارے کی سپلائی چین (رسد کا نظام) اور تربیتی ماحولیاتی نظام (ٹریننگ ایکو سسٹم) کی مضبوطی کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ تربیت کے لحاظ سے خود کفیل ہے اور کئی غیر ملکی فضائی افواج کو بھی تربیت فراہم کر چکی ہے۔</p>
<p>جے ایف 17 کی تیاری کے پیچھے موجود صنعتی بنیادوں کا ذکر کرتے ہوئے پیٹی والا نے 1970 کی دہائی میں کامرہ میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی) کے قیام کی طرف اشارہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پی اے سی کی ابتدائی توجہ چینی اور فرانسیسی طیاروں بشمول معراج، اے-5 اور ایف-7 کی اوور ہالنگ (مرمت اور دیکھ بھال) پر تھی، اس مہارت کے حصول کے بعد ان اوور ہالنگ کی سہولتوں کو مینوفیکچرنگ (تیاری) کی سہولتوں میں تبدیل کردیا گیا جس نے ہمیں پیداواری لاگت کو کم سے کم کرنے میں مدد دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281738</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jan 2026 15:52:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/181234429c146f0.webp" type="image/webp" medium="image" height="622" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/181234429c146f0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/yYyVSRwtduI/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/yYyVSRwtduI/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=yYyVSRwtduI"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
