<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:48:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 20:48:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ پلان: روبیو، ٹونی بلیئر اور جیرڈ کشنر غزہ بورڈ میں شامل، فلسطینی نمائندگی غائب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281730/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وائٹ ہاؤس نے بورڈ آف پیس (امن بورڈ) کے نام سے موسوم ادارے کے چند ارکان کا اعلان کیا ہے جو غزہ کے عارضی طرزِ حکمرانی کی نگرانی کرے گا۔ واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر سے ایک کمزور اور غیر یقینی جنگ بندی نافذ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ناموں میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ اکتوبر میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیش کیے گئے ایک منصوبے کے مطابق، ٹرمپ خود اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اور حماس نے ٹرمپ کے اس منصوبے کی توثیق کردی ہے جس کے مطابق فلسطینی ٹیکنوکریٹس (ماہرین) پر مشتمل ایک باڈی اس بین الاقوامی بورڈ کی زیرِ نگرانی کام کرے گی، جو ایک عبوری مدت کے لیے غزہ کے انتظامی معاملات کی نگرانی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی سرزمین کے نظم و نسق کی نگرانی کے لیے ٹرمپ کی سربراہی میں بورڈ کا قیام ایک ’استعماری ڈھانچے سے مشابہت رکھتا ہے۔ دوسری جانب، ٹونی بلیئر کی شمولیت کو گزشتہ سال عراق جنگ میں ان کے کردار اور مشرقِ وسطیٰ میں برطانوی سامراج کی تاریخ کے باعث کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے اس بانی ایگزیکٹو بورڈ کے ہر رکن کی الگ الگ ذمہ داریوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان ناموں میں کوئی بھی فلسطینی شامل نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید ارکان کا اعلان کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ اس بورڈ میں پرائیویٹ ایکویٹی ایگزیکٹو اور ارب پتی مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل بھی شامل ہوں گے جبکہ اقوامِ متحدہ کے سابق مشرقِ وسطیٰ ایلچی نکولائی ملاڈینوف غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکی خصوصی آپریشنز کے کمانڈر، آرمی میجر جنرل جیسپر جیفرز کو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ نومبر کے وسط میں اپنائے گئے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ایک قرارداد نے بورڈ اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کو غزہ میں اس فورس کے قیام کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے 11 ارکان پر مشتمل ایک ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ بھی نامزد کیا ہے جس میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان، مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی کوآرڈینیٹر سگریڈ کاگ، متحدہ عرب امارات کی بین الاقوامی تعاون کی وزیر ریم الہاشمی اور اسرائیلی نژاد قبرصی ارب پتی یاکیر گیبے کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو بورڈ کے کچھ دیگر ارکان بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اضافی بورڈ ملاڈینوف کے دفتر اور فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی کی معاونت کرے گا جس کی تفصیلات کا اعلان رواں ہفتے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وائٹ ہاؤس نے بورڈ آف پیس (امن بورڈ) کے نام سے موسوم ادارے کے چند ارکان کا اعلان کیا ہے جو غزہ کے عارضی طرزِ حکمرانی کی نگرانی کرے گا۔ واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر سے ایک کمزور اور غیر یقینی جنگ بندی نافذ ہے۔</strong></p>
<p>ان ناموں میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ اکتوبر میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیش کیے گئے ایک منصوبے کے مطابق، ٹرمپ خود اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔</p>
<p>اسرائیل اور حماس نے ٹرمپ کے اس منصوبے کی توثیق کردی ہے جس کے مطابق فلسطینی ٹیکنوکریٹس (ماہرین) پر مشتمل ایک باڈی اس بین الاقوامی بورڈ کی زیرِ نگرانی کام کرے گی، جو ایک عبوری مدت کے لیے غزہ کے انتظامی معاملات کی نگرانی کرے گا۔</p>
<p>انسانی حقوق کے متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی سرزمین کے نظم و نسق کی نگرانی کے لیے ٹرمپ کی سربراہی میں بورڈ کا قیام ایک ’استعماری ڈھانچے سے مشابہت رکھتا ہے۔ دوسری جانب، ٹونی بلیئر کی شمولیت کو گزشتہ سال عراق جنگ میں ان کے کردار اور مشرقِ وسطیٰ میں برطانوی سامراج کی تاریخ کے باعث کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے اس بانی ایگزیکٹو بورڈ کے ہر رکن کی الگ الگ ذمہ داریوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان ناموں میں کوئی بھی فلسطینی شامل نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں مزید ارکان کا اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ اس بورڈ میں پرائیویٹ ایکویٹی ایگزیکٹو اور ارب پتی مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل بھی شامل ہوں گے جبکہ اقوامِ متحدہ کے سابق مشرقِ وسطیٰ ایلچی نکولائی ملاڈینوف غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے ہوں گے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکی خصوصی آپریشنز کے کمانڈر، آرمی میجر جنرل جیسپر جیفرز کو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ نومبر کے وسط میں اپنائے گئے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ایک قرارداد نے بورڈ اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کو غزہ میں اس فورس کے قیام کی اجازت دی۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے 11 ارکان پر مشتمل ایک ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ بھی نامزد کیا ہے جس میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان، مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی کوآرڈینیٹر سگریڈ کاگ، متحدہ عرب امارات کی بین الاقوامی تعاون کی وزیر ریم الہاشمی اور اسرائیلی نژاد قبرصی ارب پتی یاکیر گیبے کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو بورڈ کے کچھ دیگر ارکان بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اضافی بورڈ ملاڈینوف کے دفتر اور فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی کی معاونت کرے گا جس کی تفصیلات کا اعلان رواں ہفتے کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281730</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jan 2026 15:58:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1712161920aba7b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1712161920aba7b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
