<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کی ایس ایم ایز کیلئے قرضوں تک رسائی بڑھانے پر توجہ مرکوز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281724/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو سہولت فراہم کرنے، بالخصوص ان کے قرضوں اور مالی مسائل کے حل کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں قرضوں تک رسائی بڑھانے اور سپلائی چین فنانس کے نظام کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران کیش ناؤ سپلائی چین فنانس تھنک ٹینک نے پاکستان میں ایس ایم ایز کی مالی اعانت کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پریزنٹیشن میں ایس ایم ایز کو باضابطہ مالی سہولتوں کے حصول میں درپیش کلیدی چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی اور قرضوں کی دستیابی اور مالی شمولیت کو بہتر بنانے کے لیے اسٹریٹجک اقدامات تجویز کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں تقریباً پچاس لاکھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے سرگرمِ عمل ہیں تاہم ان میں سے اکثریت ریگولیٹری اداروں اور ٹیکس حکام کے ساتھ رجسٹریشن کے لیے تیار نہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ رجسٹریشن کے بعد ہراسانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے یہ کاروباری ادارے بینکوں سے قرضوں کے لیے بھی درخواست نہیں دیتے جبکہ دوسری جانب بینکاری شعبہ بھی ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب حکومت اس شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں توسیع کرنا چاہتی ہے کیونکہ دیگر ممالک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے  معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ایس ایم ایز کو دیے جانے والے قرضے جی ڈی پی  کے 2 فیصد سے بھی کم ہی، جبکہ دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں یہ شرح 18 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک نے نشاندہی کی کہ خطے کی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں پاکستان میں ایس ایم ای فنانسنگ نہایت کم ہے جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ساختی اصلاحات اور جدید مالیاتی حل کی فوری ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے کے لیے قرضوں اور فنانسنگ تک رسائی بڑھانے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان بھر میں لاکھوں ایس ایم ایز سرگرمِ عمل ہیں اور ان کی پائیداری اور ترقی کے لیے سپلائی چین فنانس ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ایز کی بڑی تعداد غیر رسمی شعبے میں کام کر رہی ہے اور اکثر رسمی فنانسنگ کو سہولت کے بجائے رکاوٹ سمجھتی ہے۔ ان کے بقول بہتر فنانسنگ اور قرضوں کی سہولیات ایس ایم ایز کو بااختیار بنائیں گی، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں گی اور کاروبار کی رفتار تیز کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمولیتی معاشی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے معاونِ خصوصی نے کہا کہ زرعی شعبے اور کسانوں کے لیے فنانسنگ بھی مجموعی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے یکساں طور پر ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بینکوں کو غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کے بغیر ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ کاروبار دوست اور معاون مالیاتی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ ایس ایم ای فنانسنگ اور سپلائی چین سپورٹ کے لیے ایک جامع بزنس پلان کی تیاری میں کیش ناؤ کے ساتھ اشتراک کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سمیڈا کو مزید ہدایت دی کہ ملک بھر میں تمام ایس ایم ایز کے لیے فنانسنگ اور قرضہ جاتی معاونت کے مؤثر نظام کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے اعادے پر ہوا کہ حکومت پاکستان کی معاشی ترقی اور صنعتی فروغ کے لیے ایس ایم ای فنانسنگ کو ایک بنیادی ستون کے طور پر مضبوط کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو سہولت فراہم کرنے، بالخصوص ان کے قرضوں اور مالی مسائل کے حل کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں قرضوں تک رسائی بڑھانے اور سپلائی چین فنانس کے نظام کو مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس کے دوران کیش ناؤ سپلائی چین فنانس تھنک ٹینک نے پاکستان میں ایس ایم ایز کی مالی اعانت کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پریزنٹیشن میں ایس ایم ایز کو باضابطہ مالی سہولتوں کے حصول میں درپیش کلیدی چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی اور قرضوں کی دستیابی اور مالی شمولیت کو بہتر بنانے کے لیے اسٹریٹجک اقدامات تجویز کیے گئے۔</p>
<p>اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں تقریباً پچاس لاکھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے سرگرمِ عمل ہیں تاہم ان میں سے اکثریت ریگولیٹری اداروں اور ٹیکس حکام کے ساتھ رجسٹریشن کے لیے تیار نہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ رجسٹریشن کے بعد ہراسانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے یہ کاروباری ادارے بینکوں سے قرضوں کے لیے بھی درخواست نہیں دیتے جبکہ دوسری جانب بینکاری شعبہ بھی ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا ہے۔</p>
<p>اب حکومت اس شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں توسیع کرنا چاہتی ہے کیونکہ دیگر ممالک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے  معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ایس ایم ایز کو دیے جانے والے قرضے جی ڈی پی  کے 2 فیصد سے بھی کم ہی، جبکہ دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں یہ شرح 18 فیصد ہے۔</p>
<p>تھنک ٹینک نے نشاندہی کی کہ خطے کی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں پاکستان میں ایس ایم ای فنانسنگ نہایت کم ہے جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ساختی اصلاحات اور جدید مالیاتی حل کی فوری ضرورت ہے۔</p>
<p>اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے کے لیے قرضوں اور فنانسنگ تک رسائی بڑھانے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان بھر میں لاکھوں ایس ایم ایز سرگرمِ عمل ہیں اور ان کی پائیداری اور ترقی کے لیے سپلائی چین فنانس ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ایز کی بڑی تعداد غیر رسمی شعبے میں کام کر رہی ہے اور اکثر رسمی فنانسنگ کو سہولت کے بجائے رکاوٹ سمجھتی ہے۔ ان کے بقول بہتر فنانسنگ اور قرضوں کی سہولیات ایس ایم ایز کو بااختیار بنائیں گی، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں گی اور کاروبار کی رفتار تیز کریں گی۔</p>
<p>شمولیتی معاشی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے معاونِ خصوصی نے کہا کہ زرعی شعبے اور کسانوں کے لیے فنانسنگ بھی مجموعی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے یکساں طور پر ناگزیر ہے۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بینکوں کو غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کے بغیر ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ کاروبار دوست اور معاون مالیاتی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔ عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے انہوں نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ ایس ایم ای فنانسنگ اور سپلائی چین سپورٹ کے لیے ایک جامع بزنس پلان کی تیاری میں کیش ناؤ کے ساتھ اشتراک کرے۔</p>
<p>انہوں نے سمیڈا کو مزید ہدایت دی کہ ملک بھر میں تمام ایس ایم ایز کے لیے فنانسنگ اور قرضہ جاتی معاونت کے مؤثر نظام کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے اعادے پر ہوا کہ حکومت پاکستان کی معاشی ترقی اور صنعتی فروغ کے لیے ایس ایم ای فنانسنگ کو ایک بنیادی ستون کے طور پر مضبوط کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281724</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jan 2026 11:07:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/171059013bcaad6.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/171059013bcaad6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
