<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:28:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:28:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے لیے WE-Finance Code پر عملدرآمد شروع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281720/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعہ کو ویمن انٹرپرینیورز فنانس کوڈ (ڈبلیو ای فنانس کوڈ) پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا، جو خواتین کی زیرِ قیادت مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز ( ڈبلیو ایس ایم ایز) کو مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کے لیے ایک عالمی اقدام ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ای فنانس کوڈ، جسے ویمن انٹرپرینیورز فنانس انیشی ایٹو (We-Fi) کے نام سے معروف عالمی اقدام کے تحت مربوط کیا گیا ہے، عالمی بینک نے 2023 میں متعارف کرایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے جولائی 2025 میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) کے تعاون اور عالمی بینک کی قیادت میں باضابطہ طور پر ڈبلیو ای فنانس کوڈ میں شمولیت اختیار کی۔ اس اقدام کے تحت اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 500 ملین ڈالر کے نمایاں فنانسنگ پروگرام کے ساتھ شراکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ویمن انٹرپرینیورشپ فنانس (WE-FI) کوڈ کنسلٹیٹو ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا،&lt;br&gt;” ہم ایسے راستے بنا رہے ہیں جو خواتین کاروباری افراد کو پاکستان کی معاشی ترقی میں بھرپور شمولیت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیم اللہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک خواتین کی انٹرپرینیورشپ کے فروغ اور انہیں فنانس تک رسائی فراہم کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، جیسا کہ اس کے اسٹریٹجک پلان 2028 میں واضح کیا گیا ہے، تاکہ ایک جامع اور پائیدار مالیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے بینکنگ آن ایکوالٹی پالیسی اور ڈیجیٹل اقدامات کو آگے بڑھانے کے مرکزی بینک کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اگرچہ مالیاتی خدمات تک رسائی میں بہتری آئی ہے، تاہم ساختی رکاوٹیں اب بھی خواتین کاروباری افراد کے لیے باضابطہ قرضوں کے حصول میں حائل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کوڈ کا مقصد خواتین کی زیرِ قیادت کاروباروں کو درپیش مالی رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق ”پاکستان میں مرکزی عملدرآمدی ادارے کی حیثیت سے SBP نے 23 مالیاتی اداروں پر مشتمل ایک اتحاد کو متحرک کیا ہے، جن میں کمرشل، اسلامی اور مائیکروفنانس بینکس کے ساتھ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن بھی شامل ہے، جو سب کوڈ کے ایکشن پر مبنی فریم ورک کے تحت متحد ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں WE Finance Code پر عملدرآمد کے آغاز کے لیے اسٹیٹ بینک نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) کے اشتراک سے اسلام آباد میں دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں دستخط کنندہ بینکس، ریگولیٹرز اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز نے شرکت کی، تاکہ ایک جامع قومی ایکشن پلان تشکیل دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکشاپ میں خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری اداروں کے لیے موزوں جینڈر انٹیلیجنٹ پروڈکٹ انوویشن، ڈیٹا کلیکشن اور رپورٹنگ میں بہتری، اور کریڈٹ اپریزل میکنزم کو مضبوط بنانے سے متعلق قابلِ عمل حکمتِ عملیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعہ کو ویمن انٹرپرینیورز فنانس کوڈ (ڈبلیو ای فنانس کوڈ) پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا، جو خواتین کی زیرِ قیادت مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز ( ڈبلیو ایس ایم ایز) کو مالی وسائل تک رسائی بڑھانے کے لیے ایک عالمی اقدام ہے۔</strong></p>
<p>ڈبلیو ای فنانس کوڈ، جسے ویمن انٹرپرینیورز فنانس انیشی ایٹو (We-Fi) کے نام سے معروف عالمی اقدام کے تحت مربوط کیا گیا ہے، عالمی بینک نے 2023 میں متعارف کرایا تھا۔</p>
<p>مرکزی بینک نے جولائی 2025 میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) کے تعاون اور عالمی بینک کی قیادت میں باضابطہ طور پر ڈبلیو ای فنانس کوڈ میں شمولیت اختیار کی۔ اس اقدام کے تحت اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 500 ملین ڈالر کے نمایاں فنانسنگ پروگرام کے ساتھ شراکت کی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ویمن انٹرپرینیورشپ فنانس (WE-FI) کوڈ کنسلٹیٹو ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا،<br>” ہم ایسے راستے بنا رہے ہیں جو خواتین کاروباری افراد کو پاکستان کی معاشی ترقی میں بھرپور شمولیت اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔“</p>
<p>سلیم اللہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک خواتین کی انٹرپرینیورشپ کے فروغ اور انہیں فنانس تک رسائی فراہم کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، جیسا کہ اس کے اسٹریٹجک پلان 2028 میں واضح کیا گیا ہے، تاکہ ایک جامع اور پائیدار مالیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے بینکنگ آن ایکوالٹی پالیسی اور ڈیجیٹل اقدامات کو آگے بڑھانے کے مرکزی بینک کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اگرچہ مالیاتی خدمات تک رسائی میں بہتری آئی ہے، تاہم ساختی رکاوٹیں اب بھی خواتین کاروباری افراد کے لیے باضابطہ قرضوں کے حصول میں حائل ہیں۔</p>
<p>اس کوڈ کا مقصد خواتین کی زیرِ قیادت کاروباروں کو درپیش مالی رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق ”پاکستان میں مرکزی عملدرآمدی ادارے کی حیثیت سے SBP نے 23 مالیاتی اداروں پر مشتمل ایک اتحاد کو متحرک کیا ہے، جن میں کمرشل، اسلامی اور مائیکروفنانس بینکس کے ساتھ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن بھی شامل ہے، جو سب کوڈ کے ایکشن پر مبنی فریم ورک کے تحت متحد ہیں۔“</p>
<p>پاکستان میں WE Finance Code پر عملدرآمد کے آغاز کے لیے اسٹیٹ بینک نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) کے اشتراک سے اسلام آباد میں دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں دستخط کنندہ بینکس، ریگولیٹرز اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز نے شرکت کی، تاکہ ایک جامع قومی ایکشن پلان تشکیل دیا جا سکے۔</p>
<p>ورکشاپ میں خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری اداروں کے لیے موزوں جینڈر انٹیلیجنٹ پروڈکٹ انوویشن، ڈیٹا کلیکشن اور رپورٹنگ میں بہتری، اور کریڈٹ اپریزل میکنزم کو مضبوط بنانے سے متعلق قابلِ عمل حکمتِ عملیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281720</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jan 2026 21:54:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/162129077e8d431.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/162129077e8d431.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
