<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پوٹن نے اسرائیل اور ایران کے رہنماؤں سے کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے کیے ہیں، کریملن کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281719/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعہ کے روز اسرائیل اور ایران کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، اور ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیشکش کی، جنہوں نے خطے میں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے جواب میں ہزاروں افراد کو ہلاک کیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا نے، جو اسرائیل کا اہم حلیف ہے، ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے بارہا امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں بدامنی کو بھڑکا رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ کی قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور اسرائیل نے جون میں ایک مختصر جنگ لڑی تھی، جس میں اسرائیل نے ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات پر غیر معمولی حملے کیے تھے۔ امریکا نے بھی مختصراً ان حملوں میں حصہ لیا اور تین اہم ایرانی جوہری مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ صدر ولادیمیر پوٹن دونوں حریف ممالک، اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ایران کے صدر مسعود پزیشکین سے رابطے میں ہیں، تاکہ دونوں کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن کے ترجمان &lt;strong&gt;دمیتری پیسکوف&lt;/strong&gt; نے کہا ہے کہ ” خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، اور صدر پوتن تناؤ کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن کے مطابق پوٹن نے پزیشکیان کے ساتھ اپنی گفتگو میں دونوں ممالک کے اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا وعدہ کیا۔ ایرانی صدر کے دفتر کے مطابق،پزیشکیان نے اقوام متحدہ میں ایران کے لیے روس کی حمایت پر پوٹن کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس ایران کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے اور کسی بھی تنازع سے محتاط ہے جو ملک کی پرو-ماسکو قیادت کو خطرے میں ڈالے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ رابطہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ پوٹن کی ایران میں صورتحال پر پہلی تبصرہ اور مظاہروں کے بعد اس کے مشرقِ وسطیٰ کے اہم حلیف کے ساتھ پہلی عوامی رابطہ کاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے اسرائیل کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ اکتوبر 7، 2023 کے بعد غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں پر روسی تنقید کے باعث یہ تعلقات کچھ کشیدہ ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ ایرانی عوام کی ’آزادی کی جدوجہد‘ کی حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن کے مطابق جمعہ کو نیتن یاہو کے ساتھ رابطے میں روس نے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کی تیاری ظاہر کی، تاہم واضح نہیں کیا کہ اس وقت کون سی مخصوص کوششیں کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;یاد رہے کہ ماسکو نے جون کی جنگ کے دوران بھی ثالثی کی پیشکش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جلد اس “ظلم کے بوجھ” سے آزاد ہو جائے گا، جبکہ مظاہروں کے دوران یہ نعرے بلند کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;تاہم گزشتہ چند دنوں میں کڑی نگرانی اور ایک ہفتے کے انٹرنیٹ بلاک کے سبب مظاہروں کی شدت کم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر سعودی عہدیدار نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے دوران خطے میں شدید منفی اثرات کے خدشے کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکنے کے لیے رابطے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعہ کے روز اسرائیل اور ایران کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، اور ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیشکش کی، جنہوں نے خطے میں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔</strong></p>
<p>آزاد مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے جواب میں ہزاروں افراد کو ہلاک کیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا نے، جو اسرائیل کا اہم حلیف ہے، ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں۔</p>
<p>ایران نے بارہا امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں بدامنی کو بھڑکا رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ کی قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایران اور اسرائیل نے جون میں ایک مختصر جنگ لڑی تھی، جس میں اسرائیل نے ایرانی فوجی اور جوہری تنصیبات پر غیر معمولی حملے کیے تھے۔ امریکا نے بھی مختصراً ان حملوں میں حصہ لیا اور تین اہم ایرانی جوہری مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔</p>
<p>روس نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ صدر ولادیمیر پوٹن دونوں حریف ممالک، اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ایران کے صدر مسعود پزیشکین سے رابطے میں ہیں، تاکہ دونوں کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>کریملن کے ترجمان <strong>دمیتری پیسکوف</strong> نے کہا ہے کہ ” خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، اور صدر پوتن تناؤ کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔“</p>
<p>کریملن کے مطابق پوٹن نے پزیشکیان کے ساتھ اپنی گفتگو میں دونوں ممالک کے اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا وعدہ کیا۔ ایرانی صدر کے دفتر کے مطابق،پزیشکیان نے اقوام متحدہ میں ایران کے لیے روس کی حمایت پر پوٹن کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>روس ایران کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے اور کسی بھی تنازع سے محتاط ہے جو ملک کی پرو-ماسکو قیادت کو خطرے میں ڈالے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرے۔</p>
<p>تاہم یہ رابطہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ پوٹن کی ایران میں صورتحال پر پہلی تبصرہ اور مظاہروں کے بعد اس کے مشرقِ وسطیٰ کے اہم حلیف کے ساتھ پہلی عوامی رابطہ کاری ہے۔</p>
<p>روس نے اسرائیل کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ اکتوبر 7، 2023 کے بعد غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں پر روسی تنقید کے باعث یہ تعلقات کچھ کشیدہ ہو گئے تھے۔</p>
<p>اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ ایرانی عوام کی ’آزادی کی جدوجہد‘ کی حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>کریملن کے مطابق جمعہ کو نیتن یاہو کے ساتھ رابطے میں روس نے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کی تیاری ظاہر کی، تاہم واضح نہیں کیا کہ اس وقت کون سی مخصوص کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p><br>یاد رہے کہ ماسکو نے جون کی جنگ کے دوران بھی ثالثی کی پیشکش کی تھی۔</p>
<p>نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جلد اس “ظلم کے بوجھ” سے آزاد ہو جائے گا، جبکہ مظاہروں کے دوران یہ نعرے بلند کیے گئے۔</p>
<p><br>تاہم گزشتہ چند دنوں میں کڑی نگرانی اور ایک ہفتے کے انٹرنیٹ بلاک کے سبب مظاہروں کی شدت کم ہو گئی ہے۔</p>
<p>ایک سینئر سعودی عہدیدار نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے دوران خطے میں شدید منفی اثرات کے خدشے کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روکنے کے لیے رابطے کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281719</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jan 2026 20:27:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/16201712ef0f07a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/16201712ef0f07a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
