<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:47:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:47:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چراٹ سیمنٹ کا بیٹری اسٹوریج اور سولر میں 1.85 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281712/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بجلی کے بڑھتے اخراجات کو قابو کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے چراٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے نوشہرہ میں واقع اپنی مینوفیکچرنگ پلانٹ (فیکٹری) میں 5.4 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کے ساتھ 25 میگاواٹ کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کو جاری کردہ اپنے نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ ہمیں یہ مطلع کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سرکولر ریزولوشن کے ذریعے فیکٹری سائٹ، نوشہرہ، خیبر پختونخوا میں 25 میگاواٹ کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) اور مزید 5.4 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کی منظوری دے دی ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چراٹ سیمنٹ نے مطلع کیا ہے کہ بی ای ایس ایس سسٹم اور 5.4 میگاواٹ کے اضافی سولر پاور پلانٹ کی کل لاگت تقریباً 1,850 ملین روپے ہے۔ مزید برآں، کمپنی نے بتایا کہ یہ منصوبہ ’کام کے آغاز کی تاریخ سے چھ ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے کمپنی کی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ سال چراٹ سیمنٹ نے خیبر پختونخوا میں واقع اپنی فیکٹری میں 6.065 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کے ساتھ اپنے قابلِ تجدید توانائی کے پورٹ فولیو میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع، بالخصوص سولر کی جانب منتقلی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو رہائشی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک آزاد تھنک ٹینک پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ’ کے مطابق پاکستان اپنے توانائی کے شعبے میں غیر معمولی ’سولرائزیشن‘ (شمسی توانائی پر منتقلی) کا تجربہ کر رہا ہے، جہاں ملک بھر میں پہلے ہی 33 گیگا واٹ کی صلاحیت کے حامل سولر فوٹو وولٹک  پینلز نصب کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑھتے ہوئے رجحان نے فیصلہ سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے پر اس کے اثرات کے حوالے سے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ بجلی کی مجموعی کھپت جمود کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود نسبتاً سستی توانائی کے اس ذریعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ کوہ نور ملز لمیٹڈ نے اپنی مینوفیکچرنگ سہولت پر قابلِ تجدید توانائی کی اضافی 2.7 میگاواٹ صلاحیت کا افتتاح مکمل کیا جس کے بعد اس کی مجموعی سولر پیداوار 7.2 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بجلی کے بڑھتے اخراجات کو قابو کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے چراٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے نوشہرہ میں واقع اپنی مینوفیکچرنگ پلانٹ (فیکٹری) میں 5.4 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کے ساتھ 25 میگاواٹ کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی نے جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کو جاری کردہ اپنے نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ ہمیں یہ مطلع کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سرکولر ریزولوشن کے ذریعے فیکٹری سائٹ، نوشہرہ، خیبر پختونخوا میں 25 میگاواٹ کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) اور مزید 5.4 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کی منظوری دے دی ہے.</p>
<p>چراٹ سیمنٹ نے مطلع کیا ہے کہ بی ای ایس ایس سسٹم اور 5.4 میگاواٹ کے اضافی سولر پاور پلانٹ کی کل لاگت تقریباً 1,850 ملین روپے ہے۔ مزید برآں، کمپنی نے بتایا کہ یہ منصوبہ ’کام کے آغاز کی تاریخ سے چھ ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔</p>
<p>اس اقدام سے کمپنی کی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی آئے گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ سال چراٹ سیمنٹ نے خیبر پختونخوا میں واقع اپنی فیکٹری میں 6.065 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کے ساتھ اپنے قابلِ تجدید توانائی کے پورٹ فولیو میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>“پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع، بالخصوص سولر کی جانب منتقلی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو رہائشی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہوا ہے۔</p>
<p>ایک آزاد تھنک ٹینک پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ’ کے مطابق پاکستان اپنے توانائی کے شعبے میں غیر معمولی ’سولرائزیشن‘ (شمسی توانائی پر منتقلی) کا تجربہ کر رہا ہے، جہاں ملک بھر میں پہلے ہی 33 گیگا واٹ کی صلاحیت کے حامل سولر فوٹو وولٹک  پینلز نصب کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>اس بڑھتے ہوئے رجحان نے فیصلہ سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے پر اس کے اثرات کے حوالے سے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ بجلی کی مجموعی کھپت جمود کا شکار ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود نسبتاً سستی توانائی کے اس ذریعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ کوہ نور ملز لمیٹڈ نے اپنی مینوفیکچرنگ سہولت پر قابلِ تجدید توانائی کی اضافی 2.7 میگاواٹ صلاحیت کا افتتاح مکمل کیا جس کے بعد اس کی مجموعی سولر پیداوار 7.2 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281712</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jan 2026 16:16:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/16160148447eb81.webp" type="image/webp" medium="image" height="678" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/16160148447eb81.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
