<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویزہ پابندیاں سیاسی نہیں، امریکہ نے صرف پاکستان کو نشانہ نہیں بنایا، حسین حقانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281708/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ کے لیے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ امیگرنٹ ویزوں پر حالیہ امریکی پابندیوں میں پاکستان کو مخصوص طور پر نشانہ نہیں بنایا گیا ہے، یہ اقدام سیاسی طور پر نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسین حقانی نے جمعرات کوآج نیوز کے پروگرام نیوز انسائٹ ود عامر ضیا میں انٹرویو کے دوران کہا کہ اس فہرست میں پاکستان واحد ملک نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  اس  فہرست میں کئی دوسرے ممالک بھی شامل ہیں جن میں سے کچھ امریکہ کے اتحادی ہیں اور کچھ تو ذاتی طور پر ٹرمپ کے قریبی بھی ہیں۔ اس (اقدام) کی بنیاد یہ ہے کہ ان ممالک کے لوگ گرین کارڈ یا امیگریشن کی حیثیت حاصل کرنے کے بعد امریکہ کے سوشل سیکیورٹی سسٹم (سماجی تحفظ کے نظام) تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسین حقانی کا یہ بیان امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزوں کے عمل کو عارضی طور پر روک دے گا جن کے تارکینِ وطن ’ناقابلِ قبول شرح‘ پر امریکی عوام سے حاصل ہونے والے فلاحی فنڈز  لیتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکہ اس بات کو یقینی نہ بنا لے کہ نئے آنے والے مہاجرین امریکی عوام کی دولت (ٹیکس کا پیسہ) نکالنے کا سبب نہیں بنیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ امریکی عوام کی سخاوت کا مزید غلط استعمال نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسین حقانی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایک باقاعدہ نظام وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس (نظام کی تیاری) میں کتنا وقت لگے گا۔ لیکن اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایسا نہیں ہے کہ مخالفین پر پابندیاں لگائی جا رہی ہوں اور دوستوں کو چھوڑ دیا جائے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ان لوگوں کو روکنے کی ایک کوشش ہے جو امریکہ میں آباد ہو کر وہاں کے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی ویزا پابندیاں انتظامی نوعیت کی قرار دی گئی ہیں، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کا پاکستان پر وسیع اقتصادی اثر پڑ سکتا ہے، جس میں ترسیلاتِ زر، ماہر افرادی قوت کی نقل و حرکت، تجارتی تعلقات اور بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندریابی نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کے حوالے سے امریکی حکام سے رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی ویزہ پابندیوں کو انتظامی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان پر اس کے وسیع تر معاشی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں، جو ترسیلاتِ زر ، ہنرمند افرادی قوت کی نقل مکانی، تجارتی روابط اور سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جمعرات کو ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان امیگرنٹ ویزہ پروسیسنگ کے معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ کے لیے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ امیگرنٹ ویزوں پر حالیہ امریکی پابندیوں میں پاکستان کو مخصوص طور پر نشانہ نہیں بنایا گیا ہے، یہ اقدام سیاسی طور پر نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کا ہے۔</strong></p>
<p>حسین حقانی نے جمعرات کوآج نیوز کے پروگرام نیوز انسائٹ ود عامر ضیا میں انٹرویو کے دوران کہا کہ اس فہرست میں پاکستان واحد ملک نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  اس  فہرست میں کئی دوسرے ممالک بھی شامل ہیں جن میں سے کچھ امریکہ کے اتحادی ہیں اور کچھ تو ذاتی طور پر ٹرمپ کے قریبی بھی ہیں۔ اس (اقدام) کی بنیاد یہ ہے کہ ان ممالک کے لوگ گرین کارڈ یا امیگریشن کی حیثیت حاصل کرنے کے بعد امریکہ کے سوشل سیکیورٹی سسٹم (سماجی تحفظ کے نظام) تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>حسین حقانی کا یہ بیان امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزوں کے عمل کو عارضی طور پر روک دے گا جن کے تارکینِ وطن ’ناقابلِ قبول شرح‘ پر امریکی عوام سے حاصل ہونے والے فلاحی فنڈز  لیتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکہ اس بات کو یقینی نہ بنا لے کہ نئے آنے والے مہاجرین امریکی عوام کی دولت (ٹیکس کا پیسہ) نکالنے کا سبب نہیں بنیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ امریکی عوام کی سخاوت کا مزید غلط استعمال نہ ہو۔</p>
<p>حسین حقانی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اس صورتحال کو روکنے کے لیے ایک باقاعدہ نظام وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس (نظام کی تیاری) میں کتنا وقت لگے گا۔ لیکن اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایسا نہیں ہے کہ مخالفین پر پابندیاں لگائی جا رہی ہوں اور دوستوں کو چھوڑ دیا جائے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ان لوگوں کو روکنے کی ایک کوشش ہے جو امریکہ میں آباد ہو کر وہاں کے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ امریکی ویزا پابندیاں انتظامی نوعیت کی قرار دی گئی ہیں، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کا پاکستان پر وسیع اقتصادی اثر پڑ سکتا ہے، جس میں ترسیلاتِ زر، ماہر افرادی قوت کی نقل و حرکت، تجارتی تعلقات اور بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری شامل ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندریابی نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کے حوالے سے امریکی حکام سے رابطے میں ہے۔</p>
<p>اگرچہ امریکی ویزہ پابندیوں کو انتظامی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان پر اس کے وسیع تر معاشی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں، جو ترسیلاتِ زر ، ہنرمند افرادی قوت کی نقل مکانی، تجارتی روابط اور سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب جمعرات کو ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان امیگرنٹ ویزہ پروسیسنگ کے معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281708</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jan 2026 15:39:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/161529418018d9f.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/161529418018d9f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
