<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرکاری ادارے: نقصانات نے اصلاحات کے کھوکھلے وعدوں کی قلعی کھول دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281700/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلند بانگ یقین دہانیوں، اصلاحاتی روڈ میپس اور ارادوں کے بار بار اظہار کے باوجود جب سنگین مالیاتی حقائق سامنے آتے ہیں تو سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی درستگی سے متعلق حکومت کا بیانیہ کھوکھلا نظر آتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت کے پہلے مکمل مالی سال میں، ریاستی ملکیتی ادارے (ایس او ایز) مالی بحران میں مزید ڈوب گئے اور ان کے مجموعی خالص نقصانات تقریباً 300 فیصد بڑھ کر مالی سال 23-24 میں 30.6 ارب روپے سے مالی سال 2024-25 میں 122.9 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ یہ اعدادوشمار جو گزشتہ ہفتے کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی اداروں کے اجلاس میں وزارت خزانہ نے پیش کیے وعدے اور کارکردگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اعدادوشمار کا قریب سے جائزہ اس تشویش کو اور بڑھاتا ہے۔ مالی سال 24-25 کے دوران ایس او ایز کی مجموعی آمدنی 10 فیصد سے زائد کمی کے بعد 12.4 ٹریلین روپے رہ گئی جب کہ منافع بخش اداروں میں بھی کمائی کی رفتار سست رہی اور مجموعی منافع پچھلے سال کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہوکر 710 ارب روپے پر ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں کوئی خاص بہتری نظر نہیں آئی، ان کے مجموعی نقصانات میں محض دو فیصد کی معمولی کمی ہوئی جو کسی بھی بامعنی تبدیلی یا بہتری کا اشارہ دینے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ اس سے بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ ان اداروں نے سالانہ 2.1 ٹریلین  روپے کی خطیر مالی امداد حاصل کی جو اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ عوامی وسائل کو پیداواری ترقی کے بجائے مسلسل نااہلی کی نذر کیا جارہا ہے۔ یہ مالی بہاؤ زیادہ تر سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے) میں اضافے سے نمٹنے کیلئے ایکویٹی انجیکشنز (سرمایہ کاری) کی صورت میں رہا جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ عوامی پیسہ صرف بحران کو سنبھالنے کیلئے استعمال ہورہا ہے، نہ کہ ان ساختی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے جو ان اداروں اور مجموعی معیشت کی تنزلی کا باعث بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وزارتِ خزانہ سرکاری اداروں کی آمدن میں کمی کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیتی ہے (جس نے تیل کے شعبے میں منافع کی شرح کو کم کیا)، لیکن یہ عنصر سست روی کی صرف ایک جزوی وضاحت کر سکتا ہے، یہ ان بھاری نقصانات کا مکمل جواز پیش نہیں کر سکتا جو اس وقت قومی بجٹ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ نقصانات تمام اداروں میں پھیلے ہوئے نہیں ہیں بلکہ چند مخصوص اداروں تک محدود ہیں، جن میں سب سے نمایاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) اور بجلی کی تقسیم کار متعدد کمپنیاں (ڈسکوز) ہیں۔ اور یہ کوئی نئی صورتحال نہیں ہے۔ یہ ادارے طویل عرصے سے نااہلی اور مستقل مالی خسارے کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالی سال 25-2024 کے نقصانات عارضی مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے بجائے گہری ساختی خرابیوں کا عکاس ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال ڈسکوز ہیں جو اب پاور سیکٹر کی نظامی تنزلی کی علامت بن چکی ہیں: ایک بوسیدہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک جو بجلی چوری، ضرورت سے زیادہ لائن لاسز اور بدانتظامی کے باعث ریونیو کو تیزی سے ضائع کر رہا ہے۔ ڈیپریسی ایشن  اور فنانسنگ کی بلند لاگت اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ پرانا بنیادی ڈھانچہ متناسب آمدن پیدا کیے بغیر بیلنس شیٹ کے بوجھ میں اضافہ کرتا ہے جبکہ نقدی کی کمی کو پورا کرنے اور گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے بار بار لیے جانے والے قرضے سود کے اخراجات بڑھا دیتے ہیں، جس سے یہ ادارے مالی دباؤ کے ایک لامتناہی چکر میں جکڑے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ منافع بخش ریاستی ملکیتی اداروں کے معاملے میں بھی نظام کی حدود واضح ہیں، کیونکہ ان کی آمدنی اکثر حکومت کی ضمانت شدہ معاہدوں پر منحصر ہوتی ہے، جس سے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ آیا یہ ادارے حقیقی آزاد مارکیٹ میں مقابلہ کر کے قائم رہ سکتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے ایس او ایز کے لیے ایک جرات مندانہ اور وسیع اصلاحاتی ایجنڈے کی ضرورت اب بھی  ناگزیر ہے، مگر عملی سطح پر پیش رفت انتہائی سست رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کی کوششیں غیر مربوط اور ٹکڑوں میں رہی ہیں، جن کے پیچھے اکثر خسارے میں چلنے والے اداروں کی تنظیمِ نو کے حقیقی عزم کے بجائے عالمی قرض دہندگان (جیسے آئی ایم ایف) کا دباؤ زیادہ رہا ہے۔ کسی بھی بامعنی تبدیلی کے لیے شعبہ جاتی سطح پر جامع تنظیمِ نو، مقابلے کی فضا پیدا کرنے کے لیے ڈی-ریگولیشن اور نااہلی کے خاتمے کے لیے ٹھوس کارپوریٹ گورننس کے ڈھانچے کی ضرورت ہے، جبکہ شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانا بھی لازم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے وہ سیاسی جمود اور بیوروکریسی کی مزاحمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتظامیہ جس نے بارہا بڑے پیمانے پر سرکاری اداروں  کی اصلاحات کا وعدہ کیا، اس کے منصوبے اب بھی زیادہ تر کاغذوں تک محدود ہیں، ان پر عملدرآمد انتہائی ناقص ہے اور تاخیر کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سرکاری اداروں کی طرزِ حکمرانی ، جوابدہی اور نجکاری پر فیصلہ کن کارروائی کے بغیر، اصلاحات کا بیانیہ بے معنی رہے گا جبکہ مالیاتی نقصان کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلند بانگ یقین دہانیوں، اصلاحاتی روڈ میپس اور ارادوں کے بار بار اظہار کے باوجود جب سنگین مالیاتی حقائق سامنے آتے ہیں تو سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی درستگی سے متعلق حکومت کا بیانیہ کھوکھلا نظر آتا ہے۔</strong></p>
<p>وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت کے پہلے مکمل مالی سال میں، ریاستی ملکیتی ادارے (ایس او ایز) مالی بحران میں مزید ڈوب گئے اور ان کے مجموعی خالص نقصانات تقریباً 300 فیصد بڑھ کر مالی سال 23-24 میں 30.6 ارب روپے سے مالی سال 2024-25 میں 122.9 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ یہ اعدادوشمار جو گزشتہ ہفتے کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی اداروں کے اجلاس میں وزارت خزانہ نے پیش کیے وعدے اور کارکردگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اعدادوشمار کا قریب سے جائزہ اس تشویش کو اور بڑھاتا ہے۔ مالی سال 24-25 کے دوران ایس او ایز کی مجموعی آمدنی 10 فیصد سے زائد کمی کے بعد 12.4 ٹریلین روپے رہ گئی جب کہ منافع بخش اداروں میں بھی کمائی کی رفتار سست رہی اور مجموعی منافع پچھلے سال کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہوکر 710 ارب روپے پر ختم ہوا۔</p>
<p>نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں کوئی خاص بہتری نظر نہیں آئی، ان کے مجموعی نقصانات میں محض دو فیصد کی معمولی کمی ہوئی جو کسی بھی بامعنی تبدیلی یا بہتری کا اشارہ دینے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ اس سے بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ ان اداروں نے سالانہ 2.1 ٹریلین  روپے کی خطیر مالی امداد حاصل کی جو اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ عوامی وسائل کو پیداواری ترقی کے بجائے مسلسل نااہلی کی نذر کیا جارہا ہے۔ یہ مالی بہاؤ زیادہ تر سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے) میں اضافے سے نمٹنے کیلئے ایکویٹی انجیکشنز (سرمایہ کاری) کی صورت میں رہا جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ عوامی پیسہ صرف بحران کو سنبھالنے کیلئے استعمال ہورہا ہے، نہ کہ ان ساختی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے جو ان اداروں اور مجموعی معیشت کی تنزلی کا باعث بن رہی ہیں۔</p>
<p>اگرچہ وزارتِ خزانہ سرکاری اداروں کی آمدن میں کمی کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیتی ہے (جس نے تیل کے شعبے میں منافع کی شرح کو کم کیا)، لیکن یہ عنصر سست روی کی صرف ایک جزوی وضاحت کر سکتا ہے، یہ ان بھاری نقصانات کا مکمل جواز پیش نہیں کر سکتا جو اس وقت قومی بجٹ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ نقصانات تمام اداروں میں پھیلے ہوئے نہیں ہیں بلکہ چند مخصوص اداروں تک محدود ہیں، جن میں سب سے نمایاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) اور بجلی کی تقسیم کار متعدد کمپنیاں (ڈسکوز) ہیں۔ اور یہ کوئی نئی صورتحال نہیں ہے۔ یہ ادارے طویل عرصے سے نااہلی اور مستقل مالی خسارے کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالی سال 25-2024 کے نقصانات عارضی مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے بجائے گہری ساختی خرابیوں کا عکاس ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال ڈسکوز ہیں جو اب پاور سیکٹر کی نظامی تنزلی کی علامت بن چکی ہیں: ایک بوسیدہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک جو بجلی چوری، ضرورت سے زیادہ لائن لاسز اور بدانتظامی کے باعث ریونیو کو تیزی سے ضائع کر رہا ہے۔ ڈیپریسی ایشن  اور فنانسنگ کی بلند لاگت اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ پرانا بنیادی ڈھانچہ متناسب آمدن پیدا کیے بغیر بیلنس شیٹ کے بوجھ میں اضافہ کرتا ہے جبکہ نقدی کی کمی کو پورا کرنے اور گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے بار بار لیے جانے والے قرضے سود کے اخراجات بڑھا دیتے ہیں، جس سے یہ ادارے مالی دباؤ کے ایک لامتناہی چکر میں جکڑے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہاں تک کہ منافع بخش ریاستی ملکیتی اداروں کے معاملے میں بھی نظام کی حدود واضح ہیں، کیونکہ ان کی آمدنی اکثر حکومت کی ضمانت شدہ معاہدوں پر منحصر ہوتی ہے، جس سے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ آیا یہ ادارے حقیقی آزاد مارکیٹ میں مقابلہ کر کے قائم رہ سکتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے ایس او ایز کے لیے ایک جرات مندانہ اور وسیع اصلاحاتی ایجنڈے کی ضرورت اب بھی  ناگزیر ہے، مگر عملی سطح پر پیش رفت انتہائی سست رہی ہے۔</p>
<p>اب تک کی کوششیں غیر مربوط اور ٹکڑوں میں رہی ہیں، جن کے پیچھے اکثر خسارے میں چلنے والے اداروں کی تنظیمِ نو کے حقیقی عزم کے بجائے عالمی قرض دہندگان (جیسے آئی ایم ایف) کا دباؤ زیادہ رہا ہے۔ کسی بھی بامعنی تبدیلی کے لیے شعبہ جاتی سطح پر جامع تنظیمِ نو، مقابلے کی فضا پیدا کرنے کے لیے ڈی-ریگولیشن اور نااہلی کے خاتمے کے لیے ٹھوس کارپوریٹ گورننس کے ڈھانچے کی ضرورت ہے، جبکہ شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانا بھی لازم ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے وہ سیاسی جمود اور بیوروکریسی کی مزاحمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتظامیہ جس نے بارہا بڑے پیمانے پر سرکاری اداروں  کی اصلاحات کا وعدہ کیا، اس کے منصوبے اب بھی زیادہ تر کاغذوں تک محدود ہیں، ان پر عملدرآمد انتہائی ناقص ہے اور تاخیر کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔</p>
<p>حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سرکاری اداروں کی طرزِ حکمرانی ، جوابدہی اور نجکاری پر فیصلہ کن کارروائی کے بغیر، اصلاحات کا بیانیہ بے معنی رہے گا جبکہ مالیاتی نقصان کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281700</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jan 2026 12:37:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/161232386de870b.webp" type="image/webp" medium="image" height="841" width="1601">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/161232386de870b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
