<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 09:33:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 09:33:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی چیمبر کی پاور سیکٹر سے متعلق دو قوانین میں ترمیم کی مخالفت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281698/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قائم مقام صدر کراچی چیمبر محمد رضا نے نیپرا ایکٹ 1997 اور الیکٹرک پاور ایکٹ 1910 میں مجوزہ ترامیم پر شدید تشویش اور سخت مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو پاور ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں دیا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے محمد رضا نے کہا کہ یہ مجوزہ ترامیم ریگولیٹری خودمختاری کی بنیاد پر ہی ضرب لگانےکےمترادف ہیں جویوٹیلیٹی ریگولیشن میں شفافیت، پیش گوئی کے قابل فیصلوں اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ نیپرا کو کسی انتظامی وزارت کے براہِ راست اثر و رسوخ میں دینے سے اس کی غیر جانبدارانہ، تکنیکی طور پر مضبوط اور لاگت کے حقیقی عکاس فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے پاور سیکٹر کے گورننس فریم ورک پر اعتماد کمزور پڑ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد رضا نے نشاندہی کی کہ آزاد ریگولیٹرز کا قیام اسی لیے عمل میں لایا جاتا ہے کہ وہ حکومت، یوٹیلیٹیز، سرمایہ کاروں اور صارفین کے درمیان ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کریں۔ کوئی بھی ایسا اقدام جو نیپرا کو پاور ڈویژن کا ماتحت ادارہ بنا دے، نہ صرف اس کے اختیارات کو کمزور کرے گا بلکہ ٹیرف کے تعین اور دیگر ریگولیٹری فیصلوں میں سیاست کے اثر و رسوخ کے بارے میں سنگین خدشات کو بھی جنم دے گاحالانکہ ایسے فیصلوں کو قلیل مدتی انتظامی یا سیاسی دباؤ سے محفوظ رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قائم مقام صدر کے سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی ترامیم ایسے وقت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں جب پاکستان کو پاور سیکٹر میں دائمی ناکامیوں، بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اورکپیسٹی پیمنٹس کےمسائل سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے لیے ریگولیٹری استحکام اور خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور انتظامی مداخلت کا کوئی بھی تاثر نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا اور جاری و آئندہ منصوبوں کے لیے سرمایہ کی لاگت میں اضافہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قائم مقام صدر کراچی چیمبر محمد رضا نے نیپرا ایکٹ 1997 اور الیکٹرک پاور ایکٹ 1910 میں مجوزہ ترامیم پر شدید تشویش اور سخت مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو پاور ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں دیا جا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے محمد رضا نے کہا کہ یہ مجوزہ ترامیم ریگولیٹری خودمختاری کی بنیاد پر ہی ضرب لگانےکےمترادف ہیں جویوٹیلیٹی ریگولیشن میں شفافیت، پیش گوئی کے قابل فیصلوں اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ نیپرا کو کسی انتظامی وزارت کے براہِ راست اثر و رسوخ میں دینے سے اس کی غیر جانبدارانہ، تکنیکی طور پر مضبوط اور لاگت کے حقیقی عکاس فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے پاور سیکٹر کے گورننس فریم ورک پر اعتماد کمزور پڑ جائے گا۔</p>
<p>محمد رضا نے نشاندہی کی کہ آزاد ریگولیٹرز کا قیام اسی لیے عمل میں لایا جاتا ہے کہ وہ حکومت، یوٹیلیٹیز، سرمایہ کاروں اور صارفین کے درمیان ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کریں۔ کوئی بھی ایسا اقدام جو نیپرا کو پاور ڈویژن کا ماتحت ادارہ بنا دے، نہ صرف اس کے اختیارات کو کمزور کرے گا بلکہ ٹیرف کے تعین اور دیگر ریگولیٹری فیصلوں میں سیاست کے اثر و رسوخ کے بارے میں سنگین خدشات کو بھی جنم دے گاحالانکہ ایسے فیصلوں کو قلیل مدتی انتظامی یا سیاسی دباؤ سے محفوظ رہنا چاہیے۔</p>
<p>قائم مقام صدر کے سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی ترامیم ایسے وقت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں جب پاکستان کو پاور سیکٹر میں دائمی ناکامیوں، بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اورکپیسٹی پیمنٹس کےمسائل سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے لیے ریگولیٹری استحکام اور خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور انتظامی مداخلت کا کوئی بھی تاثر نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا اور جاری و آئندہ منصوبوں کے لیے سرمایہ کی لاگت میں اضافہ کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281698</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Jan 2026 12:01:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/16115654647ef22.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/16115654647ef22.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
