<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صوبائی محصولات کی صلاحیت سے بڑے پیمانے پر فائدہ نہیں اٹھایا گیا، خرم شہزاد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281694/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرخزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صوبائی محصولات (ٹیکس) کی صلاحیت سے ابھی تک بڑے پیمانے پر فائدہ نہیں اٹھایا گیا ہے اور یہ دعوے کہ صوبوں نے ٹیکس جمع کرنے میں وفاقی حکومت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، حقائق پر مبنی جائزے پر پورا نہیں اترتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایف بی آر کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئینی طور پر ٹیکس کے وسیع اختیارات حاصل ہونے کے باوجود صوبائی محصولات اپنی اصل استعداد سے اب بھی بہت کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ دعویٰ گردش کررہا ہے کہ صوبوں کی ٹیکس کارکردگی وفاق سے بہتر رہی ہے اور اس سے اس بحث کو ختم ہو جانا چاہیے کہ وسائل کی تقسیم (این ایف سی ایوارڈ) پر نظرثانی کی ضرورت ہے یا نہیں، تاہم حقائق اس کے برعکس کسی اور نتیجے کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد کی جانب سے شیئر کیے گئے مالی سال 2025 کے ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت نے ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں 13 ٹریلین (130 کھرب) روپے سے زائد جمع کیے، جو کہ جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کے 11.3 فیصد کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس وصولی جون 2028 تک جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2012005852715368766?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2012005852715368766?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس تمام صوبوں کی مجموعی ٹیکس وصولی محض 979 ارب روپے رہی جو کہ جی ڈی پی کا صرف 0.85 فیصد بنتا ہے۔ یہ شرح ان دیگر ممالک کے وفاقی نظاموں کے مقابلے میں بہت کم ہے جہاں صوبوں کا حصہ عام طور پر جی ڈی پی کا تقریباً 3 فیصد ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ خزانہ نے یہ دلیل دی کہ وسائل کی تقسیم اور مالیاتی وفاقیت سے متعلق بحث کا دارومدار محض تاثرات کے بجائے نتائج پر ہونا چاہیے، اصل مسئلہ ٹیکس شعبوں کی وسعت کا نہیں، بلکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدن کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 18 فیصد ہونا چاہیے جس میں وفاقی ٹیکسوں کا حصہ 15 فیصد اور بقیہ حصہ صوبوں یا ریاستوں کی جانب سے ہونا متوقع ہوتا ہے، جہاں وفاقی ٹیکس وصولی مستقل مزاجی کے ساتھ اس ہدف کی جانب بڑھ رہی ہے، وہیں صوبائی محصولات کو اپنے متوقع حصے تک پہنچنے کے لیے مالی سال 2028 تک اپنی موجودہ وصولی کو تین گنا سے بھی زیادہ کرنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے مزید کہا کہ صوبائی حکومتوں کے پاس آئینی طور پر بڑے ٹیکس بیس ہیں مگر محصولات اب بھی اس سے بہت کم ہیں جو اقتصادی بنیاد ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے شعبہ وار اعداد و شمار کی تفصیل نے محصولات کی کارکردگی میں بڑے تفاوت کو واضح کیا۔ صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والا سروسز سیکٹر تقریباً 29 ٹریلین روپے کے ٹیکس بیس کے ساتھ، صرف 650 ارب روپے کی محصولات جمع کر سکا جو محض 2.2 فیصد کی پیداوار ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں وفاق کے زیر انتظام گڈز سیکٹر، جس کا ٹیکس بیس تقریباً 30 ٹریلین روپے ہے نے 3.9 ٹریلین روپے کی محصولات پیدا کیں، جو 13 فیصد پیداوار کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے کہا کہ محصولات کی کمی زرعی آمدنی ٹیکس میں اور بھی نمایاں ہے جو ایک اور صوبائی موضوع ہے۔ تقریباً 3.7 ٹریلین روپے کے ٹیکس بیس کے باوجود صوبوں نے صرف 8.4 ارب روپے جمع کیے، یعنی پیداوار صرف 0.2 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائیداد سے متعلق ٹیکس بشمول اسٹیمپ ڈیوٹیز اور شہری غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس بھی اب تک نمایاں طور پر غیر مستعمل ہیں۔ ریئل اسٹیٹ کے اثاثوں کی مجموعی مالیت کے 21.7 ٹریلین (217 کھرب) روپے کے تخمینے کے مقابلے میں صوبائی وصولیاں محض 66 ارب روپے رہیں، جو کہ کل مالیت کا صرف 0.3 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے کہا کہ وفاقی محصولات پہلے ہی جی ڈی پی کا 11.3 فیصد ہیں اور معیار کی سطح کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ صوبائی محصولات مجموعی طور پر جی ڈی پی کا صرف 0.85 فیصد ہیں، جو متوقع 3 فیصد سے بہت کم ہیں، حالانکہ خدمات، زراعت اور جائیداد کے شعبوں میں کافی بڑے ٹیکس بیس موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے نوٹ کیا کہ صوبائی محصولات کی صلاحیت زیادہ تر غیر استعمال شدہ رہ گئی ہے۔ ترقی کے لیے ہر سطح پر مضبوط محصولات کے ساتھ متوازن اصلاحاتی ایجنڈے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرخزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صوبائی محصولات (ٹیکس) کی صلاحیت سے ابھی تک بڑے پیمانے پر فائدہ نہیں اٹھایا گیا ہے اور یہ دعوے کہ صوبوں نے ٹیکس جمع کرنے میں وفاقی حکومت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، حقائق پر مبنی جائزے پر پورا نہیں اترتے۔</strong></p>
<p>انہوں نے ایف بی آر کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئینی طور پر ٹیکس کے وسیع اختیارات حاصل ہونے کے باوجود صوبائی محصولات اپنی اصل استعداد سے اب بھی بہت کم ہیں۔</p>
<p>خرم شہزاد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ دعویٰ گردش کررہا ہے کہ صوبوں کی ٹیکس کارکردگی وفاق سے بہتر رہی ہے اور اس سے اس بحث کو ختم ہو جانا چاہیے کہ وسائل کی تقسیم (این ایف سی ایوارڈ) پر نظرثانی کی ضرورت ہے یا نہیں، تاہم حقائق اس کے برعکس کسی اور نتیجے کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>خرم شہزاد کی جانب سے شیئر کیے گئے مالی سال 2025 کے ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت نے ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں 13 ٹریلین (130 کھرب) روپے سے زائد جمع کیے، جو کہ جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کے 11.3 فیصد کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس وصولی جون 2028 تک جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2012005852715368766?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2012005852715368766?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس کے برعکس تمام صوبوں کی مجموعی ٹیکس وصولی محض 979 ارب روپے رہی جو کہ جی ڈی پی کا صرف 0.85 فیصد بنتا ہے۔ یہ شرح ان دیگر ممالک کے وفاقی نظاموں کے مقابلے میں بہت کم ہے جہاں صوبوں کا حصہ عام طور پر جی ڈی پی کا تقریباً 3 فیصد ہوتا ہے۔</p>
<p>مشیرِ خزانہ نے یہ دلیل دی کہ وسائل کی تقسیم اور مالیاتی وفاقیت سے متعلق بحث کا دارومدار محض تاثرات کے بجائے نتائج پر ہونا چاہیے، اصل مسئلہ ٹیکس شعبوں کی وسعت کا نہیں، بلکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدن کا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 18 فیصد ہونا چاہیے جس میں وفاقی ٹیکسوں کا حصہ 15 فیصد اور بقیہ حصہ صوبوں یا ریاستوں کی جانب سے ہونا متوقع ہوتا ہے، جہاں وفاقی ٹیکس وصولی مستقل مزاجی کے ساتھ اس ہدف کی جانب بڑھ رہی ہے، وہیں صوبائی محصولات کو اپنے متوقع حصے تک پہنچنے کے لیے مالی سال 2028 تک اپنی موجودہ وصولی کو تین گنا سے بھی زیادہ کرنا ہو گا۔</p>
<p>خرم شہزاد نے مزید کہا کہ صوبائی حکومتوں کے پاس آئینی طور پر بڑے ٹیکس بیس ہیں مگر محصولات اب بھی اس سے بہت کم ہیں جو اقتصادی بنیاد ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کے شعبہ وار اعداد و شمار کی تفصیل نے محصولات کی کارکردگی میں بڑے تفاوت کو واضح کیا۔ صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والا سروسز سیکٹر تقریباً 29 ٹریلین روپے کے ٹیکس بیس کے ساتھ، صرف 650 ارب روپے کی محصولات جمع کر سکا جو محض 2.2 فیصد کی پیداوار ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اس کے مقابلے میں وفاق کے زیر انتظام گڈز سیکٹر، جس کا ٹیکس بیس تقریباً 30 ٹریلین روپے ہے نے 3.9 ٹریلین روپے کی محصولات پیدا کیں، جو 13 فیصد پیداوار کے برابر ہے۔</p>
<p>خرم شہزاد نے کہا کہ محصولات کی کمی زرعی آمدنی ٹیکس میں اور بھی نمایاں ہے جو ایک اور صوبائی موضوع ہے۔ تقریباً 3.7 ٹریلین روپے کے ٹیکس بیس کے باوجود صوبوں نے صرف 8.4 ارب روپے جمع کیے، یعنی پیداوار صرف 0.2 فیصد رہی۔</p>
<p>جائیداد سے متعلق ٹیکس بشمول اسٹیمپ ڈیوٹیز اور شہری غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس بھی اب تک نمایاں طور پر غیر مستعمل ہیں۔ ریئل اسٹیٹ کے اثاثوں کی مجموعی مالیت کے 21.7 ٹریلین (217 کھرب) روپے کے تخمینے کے مقابلے میں صوبائی وصولیاں محض 66 ارب روپے رہیں، جو کہ کل مالیت کا صرف 0.3 فیصد ہے۔</p>
<p>خرم شہزاد نے کہا کہ وفاقی محصولات پہلے ہی جی ڈی پی کا 11.3 فیصد ہیں اور معیار کی سطح کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ صوبائی محصولات مجموعی طور پر جی ڈی پی کا صرف 0.85 فیصد ہیں، جو متوقع 3 فیصد سے بہت کم ہیں، حالانکہ خدمات، زراعت اور جائیداد کے شعبوں میں کافی بڑے ٹیکس بیس موجود ہیں۔</p>
<p>خرم شہزاد نے نوٹ کیا کہ صوبائی محصولات کی صلاحیت زیادہ تر غیر استعمال شدہ رہ گئی ہے۔ ترقی کے لیے ہر سطح پر مضبوط محصولات کے ساتھ متوازن اصلاحاتی ایجنڈے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281694</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jan 2026 11:36:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/17113608c0ac389.webp" type="image/webp" medium="image" height="854" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/17113608c0ac389.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
