<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عرب امارات کے انخلاء کے بعد سعودی عرب کا یمن کی ترقی کے لیے 500 ملین ڈالر کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب نے جنوبی یمن میں تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کے وسیع تر ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن میں اسپتالوں، اسکولوں اور سڑکوں کی تعمیر سمیت بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی فراہمی شامل ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان علاقوں میں کیا جا رہا ہے جو طویل عرصے تک متحدہ عرب امارات اور اس کے ہمنوا علیحدگی پسندوں کے زیرِ کنٹرول رہے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کار اسے یمن میں متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور جارحانہ سفارتی و عسکری حکمتِ عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے علیحدگی پسند ’سدرن ٹرانزیشنل کونسل‘ کی پیش قدمی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات سے انخلاء کا مطالبہ کیا تھا اور ایک بھرپور کارروائی کے ذریعے ان کی طاقت کو محدود کر دیا۔ تزویراتی اہمیت کے حامل جزیرہ سقطریٰ پر سعودی شاہ کے نام سے مسجد کی تعمیر کا اعلان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دونوں ممالک ماضی میں حوثیوں کے خلاف اتحادی رہے ہیں، لیکن اب جغرافیائی سیاست اور تیل کی پیداوار جیسے معاملات پر ان کے اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب نے جنوبی یمن میں تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کے وسیع تر ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن میں اسپتالوں، اسکولوں اور سڑکوں کی تعمیر سمیت بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی فراہمی شامل ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان علاقوں میں کیا جا رہا ہے جو طویل عرصے تک متحدہ عرب امارات اور اس کے ہمنوا علیحدگی پسندوں کے زیرِ کنٹرول رہے تھے۔</strong></p>
<p>تجزیہ کار اسے یمن میں متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور جارحانہ سفارتی و عسکری حکمتِ عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب نے علیحدگی پسند ’سدرن ٹرانزیشنل کونسل‘ کی پیش قدمی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات سے انخلاء کا مطالبہ کیا تھا اور ایک بھرپور کارروائی کے ذریعے ان کی طاقت کو محدود کر دیا۔ تزویراتی اہمیت کے حامل جزیرہ سقطریٰ پر سعودی شاہ کے نام سے مسجد کی تعمیر کا اعلان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔</p>
<p>اگرچہ دونوں ممالک ماضی میں حوثیوں کے خلاف اتحادی رہے ہیں، لیکن اب جغرافیائی سیاست اور تیل کی پیداوار جیسے معاملات پر ان کے اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281668</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Jan 2026 15:28:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/15151737948c301.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/15151737948c301.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
