<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کے معاملے پر امریکہ سے رابطے میں ہیں، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281650/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا ہے کہ پاکستان امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ کے معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے، کیونکہ جنوبی ایشیائی ملک (پاکستان) کا نام ان 75 ممالک میں شامل کیا گیا ہے جن کی امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ روک دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران امیگریشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ پاکستان امیگرنٹ پالیسیوں کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی طور پر یہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کردہ مختصر بیان تھا جو امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ کے اندرونی جائزے سے متعلق ہے کہ وہ اس عمل سے گزر رہے ہیں۔ ہم مزید تفصیلات معلوم کرنے کے لیے امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ یہ ایک ابھرتی ہوئی صورتحال ہے جس کا ہم جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے کہا کہ ان کی سمجھ کے مطابق یہ امریکی امیگریشن پالیسی اور نظام کے جائزے کا ایک اندرونی اور جاری عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امیگرنٹ ویزوں کی معمول کے مطابق پروسیسنگ جلد دوبارہ شروع ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت امریکی محکمہ خارجہ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ 75 ممالک سے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ کو روک دے گا جن کے تارکینِ وطن امریکی عوام سے ناقابلِ قبول شرح پر مراعات (ویلفیئر) حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندی تب تک فعال رہے گی جب تک امریکہ اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتا کہ نئے آنے والے مہاجرین امریکی عوام کی دولت نہیں نکالیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ امریکی عوام کی سخاوت کا مزید غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateDept/status/2011478658964230261?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2011478658964230261%7Ctwgr%5Ee376b8644020b4517bba2ecdfeaf86207b3f5972%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40402354'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateDept/status/2011478658964230261?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2011478658964230261%7Ctwgr%5Ee376b8644020b4517bba2ecdfeaf86207b3f5972%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40402354"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس معاملے کا پرامن حل چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ایران کی موجودہ صورتحال، امریکی امیگریشن پالیسیوں اور علاقائی سفارتی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پرامن تصفیے کی امید رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ایران جلد اپنے اندرونی مسائل پر قابو پا لے گا اور صورتحال معمول پر آ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے صومالیہ کی خودمختاری پر حملے کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور پاکستان ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا ہے کہ پاکستان امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ کے معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے، کیونکہ جنوبی ایشیائی ملک (پاکستان) کا نام ان 75 ممالک میں شامل کیا گیا ہے جن کی امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ روک دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران امیگریشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ پاکستان امیگرنٹ پالیسیوں کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی طور پر یہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کردہ مختصر بیان تھا جو امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ کے اندرونی جائزے سے متعلق ہے کہ وہ اس عمل سے گزر رہے ہیں۔ ہم مزید تفصیلات معلوم کرنے کے لیے امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ یہ ایک ابھرتی ہوئی صورتحال ہے جس کا ہم جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے کہا کہ ان کی سمجھ کے مطابق یہ امریکی امیگریشن پالیسی اور نظام کے جائزے کا ایک اندرونی اور جاری عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امیگرنٹ ویزوں کی معمول کے مطابق پروسیسنگ جلد دوبارہ شروع ہو جائے گی۔</p>
<p>یہ پیش رفت امریکی محکمہ خارجہ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ 75 ممالک سے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ کو روک دے گا جن کے تارکینِ وطن امریکی عوام سے ناقابلِ قبول شرح پر مراعات (ویلفیئر) حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندی تب تک فعال رہے گی جب تک امریکہ اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتا کہ نئے آنے والے مہاجرین امریکی عوام کی دولت نہیں نکالیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ امریکی عوام کی سخاوت کا مزید غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateDept/status/2011478658964230261?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2011478658964230261%7Ctwgr%5Ee376b8644020b4517bba2ecdfeaf86207b3f5972%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40402354'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateDept/status/2011478658964230261?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2011478658964230261%7Ctwgr%5Ee376b8644020b4517bba2ecdfeaf86207b3f5972%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40402354"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس معاملے کا پرامن حل چاہتا ہے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ایران کی موجودہ صورتحال، امریکی امیگریشن پالیسیوں اور علاقائی سفارتی تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پرامن تصفیے کی امید رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ایران جلد اپنے اندرونی مسائل پر قابو پا لے گا اور صورتحال معمول پر آ جائے گی۔</p>
<p>ترجمان نے صومالیہ کی خودمختاری پر حملے کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور پاکستان ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281650</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Jan 2026 14:50:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/1mfWjlLKmTo/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/1mfWjlLKmTo/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=1mfWjlLKmTo"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
