<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:40:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:40:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میگا پراجیکٹس اور ٹیکنالوجی کی مانگ، 2025 میں 5 لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب منتقل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281645/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2025 میں 5 لاکھ سے زائد پاکستانی ورکرز اور پیشہ ور افراد روزگار کے بہتر مواقع اور بہتر معیارِ زندگی کی تلاش میں سعودی عرب منتقل ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے مطابق سال 2025 کے دوران 530,256 پاکستانی ورکرز سعودی عرب کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے جب کہ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال یہ تعداد 452,562 تھی۔ یہ سالانہ بنیادوں پر 17 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت 77,694 مزید ورکرز سعودی عرب گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ای او ای کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 1972 سے اب تک تقریباً 76 لاکھ 90 ہزار پاکستانی ورکرز سعودی عرب منتقل ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی ایکسپورٹر سعد شاہ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کہ سعودی عرب نہ صرف حج اور عمرہ جیسے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے پاکستانیوں کی پسندیدہ منزل ہے بلکہ یہ بیرونِ ملک روزگار کے خواہش مند ورکرز اور پیشہ ور افراد کیلئے بھی اولین ترجیح بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں غیر ملکی ورکرز، خاص طور پر ہائی ٹیک (اعلیٰ ٹیکنالوجی) کے پیشہ ور افراد کی مانگ بہت زیادہ ہے، کیونکہ مملکت مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت دیگر میگا پراجیکٹس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد شاہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کئی پاکستانی کاروباری گروپس، خاص طور پر آئی ٹی کمپنیوں اور فن ٹیک آپریٹرز نے اپنی ذیلی کمپنیوں کے ذریعے مملکت میں اپنے کام کا دائرہ کار وسیع کردیا ہے۔ مزید برآں بہت سی پاکستانی کمپنیوں نے اپنے پیشہ ور افراد کو سعودی عرب میں قائم اپنے آف شور دفاتر میں منتقل کردیا ہے جس کی وجہ سے بیرونِ ملک جانے والوں کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد شاہ نے حکومت اور نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ ہنر والے انسانی وسائل کی برآمد کے لیے تربیت اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے ذریعے تعاون کو مضبوط کریں، ساتھ ہی ملکی ورک فورس کی ضروریات کو بھی متوازن رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں مختلف ممالک کو پاکستان کی افرادی قوت کی مجموعی برآمد 762,499 رہی جس میں سے 69.5 فیصد اکیلے سعودی عرب منتقل ہوئے۔ یہ شرح گزشتہ سال ریکارڈ کی گئی 62 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ اور مالیاتی امور کے ماہر اور ٹرائی اسٹار انٹرنیشنل کنسلٹنٹس کے چیئرمین ابراہیم امین نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اضافے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں بہتر ہوتے ہوئے دوطرفہ تعلقات، سعودی وژن 2030 اور سخت قوانین کی وجہ سے پاکستانی ورکرز کا متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب کی طرف منتقل ہونا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے نے دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید تقویت دی ہے جس سے سفارتی، تجارتی اور لیبر سیکٹرز میں تعاون کو فروغ ملا ہے اور پاکستانی ورکرز کے لیے ترجیح میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم امین نے تجویز دی کہ پاکستانی حکام کو سعودی بینکنگ ریگولیٹرز کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی ورکرز اور ان کے خاندانوں کے لیے رسمی بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی منتقلی کو زیادہ آسان اور موثر بنایا جاسکے۔ اس سے ملک میں آنے والے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور پائیدار بنیادوں پر پاکستان کے معاشی استحکام کو سہارا ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں نے سال 2025 میں سعودی عرب سے 9.64 ارب ڈالر پاکستان بھیجے جبکہ سال 2024 میں یہ رقم 8.34 ارب ڈالر تھی۔ یہ سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2025 میں 5 لاکھ سے زائد پاکستانی ورکرز اور پیشہ ور افراد روزگار کے بہتر مواقع اور بہتر معیارِ زندگی کی تلاش میں سعودی عرب منتقل ہوئے۔</strong></p>
<p>اعدادوشمار کے مطابق سال 2025 کے دوران 530,256 پاکستانی ورکرز سعودی عرب کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے جب کہ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال یہ تعداد 452,562 تھی۔ یہ سالانہ بنیادوں پر 17 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت 77,694 مزید ورکرز سعودی عرب گئے۔</p>
<p>بی ای او ای کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 1972 سے اب تک تقریباً 76 لاکھ 90 ہزار پاکستانی ورکرز سعودی عرب منتقل ہوچکے ہیں۔</p>
<p>آئی ٹی ایکسپورٹر سعد شاہ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کہ سعودی عرب نہ صرف حج اور عمرہ جیسے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے پاکستانیوں کی پسندیدہ منزل ہے بلکہ یہ بیرونِ ملک روزگار کے خواہش مند ورکرز اور پیشہ ور افراد کیلئے بھی اولین ترجیح بنا ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں غیر ملکی ورکرز، خاص طور پر ہائی ٹیک (اعلیٰ ٹیکنالوجی) کے پیشہ ور افراد کی مانگ بہت زیادہ ہے، کیونکہ مملکت مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت دیگر میگا پراجیکٹس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔</p>
<p>سعد شاہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کئی پاکستانی کاروباری گروپس، خاص طور پر آئی ٹی کمپنیوں اور فن ٹیک آپریٹرز نے اپنی ذیلی کمپنیوں کے ذریعے مملکت میں اپنے کام کا دائرہ کار وسیع کردیا ہے۔ مزید برآں بہت سی پاکستانی کمپنیوں نے اپنے پیشہ ور افراد کو سعودی عرب میں قائم اپنے آف شور دفاتر میں منتقل کردیا ہے جس کی وجہ سے بیرونِ ملک جانے والوں کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>سعد شاہ نے حکومت اور نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ ہنر والے انسانی وسائل کی برآمد کے لیے تربیت اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے ذریعے تعاون کو مضبوط کریں، ساتھ ہی ملکی ورک فورس کی ضروریات کو بھی متوازن رکھیں۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں مختلف ممالک کو پاکستان کی افرادی قوت کی مجموعی برآمد 762,499 رہی جس میں سے 69.5 فیصد اکیلے سعودی عرب منتقل ہوئے۔ یہ شرح گزشتہ سال ریکارڈ کی گئی 62 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>بینکنگ اور مالیاتی امور کے ماہر اور ٹرائی اسٹار انٹرنیشنل کنسلٹنٹس کے چیئرمین ابراہیم امین نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اضافے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں بہتر ہوتے ہوئے دوطرفہ تعلقات، سعودی وژن 2030 اور سخت قوانین کی وجہ سے پاکستانی ورکرز کا متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب کی طرف منتقل ہونا شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے نے دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید تقویت دی ہے جس سے سفارتی، تجارتی اور لیبر سیکٹرز میں تعاون کو فروغ ملا ہے اور پاکستانی ورکرز کے لیے ترجیح میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ابراہیم امین نے تجویز دی کہ پاکستانی حکام کو سعودی بینکنگ ریگولیٹرز کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی ورکرز اور ان کے خاندانوں کے لیے رسمی بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی منتقلی کو زیادہ آسان اور موثر بنایا جاسکے۔ اس سے ملک میں آنے والے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور پائیدار بنیادوں پر پاکستان کے معاشی استحکام کو سہارا ملے گا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں نے سال 2025 میں سعودی عرب سے 9.64 ارب ڈالر پاکستان بھیجے جبکہ سال 2024 میں یہ رقم 8.34 ارب ڈالر تھی۔ یہ سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد کا نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281645</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Jan 2026 12:11:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/15113531e2f3cfc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/15113531e2f3cfc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
