<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسمیاتی اہداف کا حصول: پاکستان کو 2035 تک 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو اپنی قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی)  3.0 کے تحت 2035 تک موسمیاتی اہداف کے حصول کیلئے تقریباً 565.7ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ اس بات کا انکشاف اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی میزبانی میں پاکستان گرین ٹیکسومنی (پی جی ٹی)  اور ایس ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز سے متعلق ایک سیشن کے دوران کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیشن میں ممتازکاروباری شخصیات اورمختلف انڈسٹریز کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور پائیدار فنانسنگ اور شفاف ای ایس جی رپورٹنگ کی اہمیت پر زوردیا تاکہ پاکستان کی موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنانے کیلئے درکار سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیشن کا انعقاد سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کی جانب سے لسٹڈ کمپنیوں کیلئے نظر ثانی شدہ ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز کے اجراء کے پس منظر میں کیا گیا جنہیں باضابطہ طورپر پاکستان گرین ٹیکسونومی کے ساتھ ہم آہنگ کردیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پائیداری سے متعلق رپورٹنگ کو مضبوط بنانا، شفافیت میں اضافہ کرنا اور پاکستان کے ماحولیاتی و موسمیاتی اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرناہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر سیشن کے شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان کے این ڈی سی 3.0 اہداف میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 17 فیصد غیر مشروط اور 33 فیصد مشروط  کمی، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں 30 فیصد اضافہ اورتوانائی کے شعبے میں 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی شامل ہے۔ ان اہم اور بلند اہداف کے حصول کیلئے گرین سرمایہ کاری کو متحرک کرنا ناگزیر ہے جس کیلئے پاکستان گرین ٹیکسونومی اور مضبوط ای ایس جی رپورٹنگ فریم ورک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تاکہ سرمایہ کاری کو پائیدار منصوبوں کی جانب درست سمت دی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2024 میں پاکستان گرین ٹیکسونومی (پی جی ٹی) متعارف کرائی تھی جو ماحولیاتی مقاصد کے حصول میں موئثر کردار ادا کرنے والی سرگرمیوں کی واضح درجہ بندی فراہم کرتی ہے جن میں موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی، پانی کے پائیدار استعمال، ماحولیاتی تحفظ، آلودگی کی روک تھام، سرکلر اکانومی اور لینڈ مینجمنٹ جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنزجو 2029اور 2031کے درمیان مرحلہ وار لازمی رپورٹنگ کی طرف منتقل ہوں گی، مالیاتی اور غیر مالیاتی پائیداری رپورٹنگ کیلئے معیاری پیمانے متعارف کراتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین فنانسنگ سے متعلق سیشن کا انعقاد موسمیاتی ریگولیٹری کمپلائنس کے ماہراور آئی کیپ کے سابق صدر فرخ رحمان نے کیا۔ انہوں نے اس بات پر زوردیاکہ پاکستان گرین ٹیکسونومی کا ای ایس جی رپورٹنگ میں انضمام کاروباری اداروں کیلئے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتاہے تاکہ وہ اپنے آپریشنز کو قومی موسمیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرسکیں۔ شفاف اور منظم رپورٹنگ پائیدار سرمایہ کاری کو راغب کرے گی اور کمپنیوں کو پاکستان کے ماحولیاتی اور سماجی اہداف میں موئثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر او آئی سی سی آئی سیکریٹری جنرل ایم عبد العلیم نے کہاکہ کارپوریٹ سیکٹر کاروباری حکمتِ عملی میں احتساب اور پائیداری کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ ای ایس جی ڈسکلوزر اور پاکستان گرین ٹیکسونومی سے ہم آہنگ طریقہ کار اپنانے سے کمپنیاں سرمایہ کاری حاصل، جدّت کو فروغ اور موسمیاتی خطرات کے خلاف اپنی مزاحمت کو بہتر بناسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیشن میں پاکستان گرین ٹیکسونومی سے ہم آہنگی کیلئے درکار تکنیکی معیارات پرروشنی ڈالی گئی جن میں نمایاں شراکت کا معیار،کسی بڑے نقصان سے اجتناب کے اصول اور اخلاقی اور ذمہ دارانہ طریقہ کار کو یقینی بنانے کیلئے کم ازکم سماجی تحفظات شامل ہیں۔ شرکاء کو رپورٹنگ کے مختلف فارمیٹس، جی آر آئی، آئی ایس ایس بی، ٹی سی ایف ڈی جیسے بین الاقوامی معیارات اور ای ایس جی رپورٹنگ کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا تاکہ ضابطہ جاتی تقاضوں کی تعمیل اور رپورٹنگ میں یکسانیت کو یقینی بنایاجاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کو اپنی قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی)  3.0 کے تحت 2035 تک موسمیاتی اہداف کے حصول کیلئے تقریباً 565.7ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ اس بات کا انکشاف اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی میزبانی میں پاکستان گرین ٹیکسومنی (پی جی ٹی)  اور ایس ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز سے متعلق ایک سیشن کے دوران کیا گیا۔</strong></p>
<p>سیشن میں ممتازکاروباری شخصیات اورمختلف انڈسٹریز کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور پائیدار فنانسنگ اور شفاف ای ایس جی رپورٹنگ کی اہمیت پر زوردیا تاکہ پاکستان کی موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنانے کیلئے درکار سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکے۔</p>
<p>سیشن کا انعقاد سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) کی جانب سے لسٹڈ کمپنیوں کیلئے نظر ثانی شدہ ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز کے اجراء کے پس منظر میں کیا گیا جنہیں باضابطہ طورپر پاکستان گرین ٹیکسونومی کے ساتھ ہم آہنگ کردیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پائیداری سے متعلق رپورٹنگ کو مضبوط بنانا، شفافیت میں اضافہ کرنا اور پاکستان کے ماحولیاتی و موسمیاتی اہداف کے حصول میں معاونت فراہم کرناہے۔</p>
<p>اس موقع پر سیشن کے شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان کے این ڈی سی 3.0 اہداف میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 17 فیصد غیر مشروط اور 33 فیصد مشروط  کمی، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں 30 فیصد اضافہ اورتوانائی کے شعبے میں 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی شامل ہے۔ ان اہم اور بلند اہداف کے حصول کیلئے گرین سرمایہ کاری کو متحرک کرنا ناگزیر ہے جس کیلئے پاکستان گرین ٹیکسونومی اور مضبوط ای ایس جی رپورٹنگ فریم ورک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تاکہ سرمایہ کاری کو پائیدار منصوبوں کی جانب درست سمت دی جاسکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2024 میں پاکستان گرین ٹیکسونومی (پی جی ٹی) متعارف کرائی تھی جو ماحولیاتی مقاصد کے حصول میں موئثر کردار ادا کرنے والی سرگرمیوں کی واضح درجہ بندی فراہم کرتی ہے جن میں موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی، پانی کے پائیدار استعمال، ماحولیاتی تحفظ، آلودگی کی روک تھام، سرکلر اکانومی اور لینڈ مینجمنٹ جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنزجو 2029اور 2031کے درمیان مرحلہ وار لازمی رپورٹنگ کی طرف منتقل ہوں گی، مالیاتی اور غیر مالیاتی پائیداری رپورٹنگ کیلئے معیاری پیمانے متعارف کراتی ہیں۔</p>
<p>گرین فنانسنگ سے متعلق سیشن کا انعقاد موسمیاتی ریگولیٹری کمپلائنس کے ماہراور آئی کیپ کے سابق صدر فرخ رحمان نے کیا۔ انہوں نے اس بات پر زوردیاکہ پاکستان گرین ٹیکسونومی کا ای ایس جی رپورٹنگ میں انضمام کاروباری اداروں کیلئے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتاہے تاکہ وہ اپنے آپریشنز کو قومی موسمیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرسکیں۔ شفاف اور منظم رپورٹنگ پائیدار سرمایہ کاری کو راغب کرے گی اور کمپنیوں کو پاکستان کے ماحولیاتی اور سماجی اہداف میں موئثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گی۔</p>
<p>اس موقع پر او آئی سی سی آئی سیکریٹری جنرل ایم عبد العلیم نے کہاکہ کارپوریٹ سیکٹر کاروباری حکمتِ عملی میں احتساب اور پائیداری کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ ای ایس جی ڈسکلوزر اور پاکستان گرین ٹیکسونومی سے ہم آہنگ طریقہ کار اپنانے سے کمپنیاں سرمایہ کاری حاصل، جدّت کو فروغ اور موسمیاتی خطرات کے خلاف اپنی مزاحمت کو بہتر بناسکتی ہیں۔</p>
<p>سیشن میں پاکستان گرین ٹیکسونومی سے ہم آہنگی کیلئے درکار تکنیکی معیارات پرروشنی ڈالی گئی جن میں نمایاں شراکت کا معیار،کسی بڑے نقصان سے اجتناب کے اصول اور اخلاقی اور ذمہ دارانہ طریقہ کار کو یقینی بنانے کیلئے کم ازکم سماجی تحفظات شامل ہیں۔ شرکاء کو رپورٹنگ کے مختلف فارمیٹس، جی آر آئی، آئی ایس ایس بی، ٹی سی ایف ڈی جیسے بین الاقوامی معیارات اور ای ایس جی رپورٹنگ کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا تاکہ ضابطہ جاتی تقاضوں کی تعمیل اور رپورٹنگ میں یکسانیت کو یقینی بنایاجاسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281643</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Jan 2026 11:31:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1511290271deb47.webp" type="image/webp" medium="image" height="575" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1511290271deb47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
