<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپر ٹیکس کیس، وفاقی آئینی عدالت سے 27ویں ترمیم کو مدنظر رکھنے کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281631/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی آئینی عدالت میں بدھ کے روز سپر ٹیکس سے متعلق اہم سماعت کے دوران عدالت کو یاد دہانی کرائی گئی کہ 4B اور 4C کے تحت سپر ٹیکس پر فیصلہ سناتے ہوئے 27ویں آئینی ترمیم سمیت دیگر قانونی حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔ چیف جسٹس امین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اُن اپیلوں کی سماعت کی جو سندھ، لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ یہ اپیلیں ان عدالتی فیصلوں سے متعلق ہیں جن میں انکم ٹیکس آرڈی نینس 2001 کے سیکشن 4سی کے تحت عائد سپر ٹیکس کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے ٹیکس دہندگان کی نمائندگی کرتے ہوئےفروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کو اپنے فیصلے میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے سے قائم شدہ قانونی اصولوں کو تبدیل نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے عدالتی نظام میں انتشار پیدا ہوگا۔ ان کے مطابق کسی بھی قانون کا اطلاق مستقبل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، اور ماضی میں قائم نظائر کو نظر انداز کرنے سے قانون کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاروق نذیر نے مزید کہا کہ عدالت کے پاس گزشتہ 75 برسوں کی عدالتی تاریخ ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمنٹ کو ماضی سے مؤثر قوانین بنانے کی اجازت دی گئی تو اس کے نتیجے میں کاروباری ماحول سنگین طور پر متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہائی کورٹس نے اُس وقت کے لاگو قانون کے برخلاف فیصلے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ سپر ٹیکس کو بڑے اداروں اور انفرادی کمائی والوں پر مالیاتی ضرورت کے تحت نافذ کیا گیا، لیکن ان پالیسیوں سے نہ صرف سرمایہ کار بددل ہوں گے بلکہ ٹیکس ادا کرنے والے ادارے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو بڑھانے کے دیگر راستے موجود ہیں جنہیں اختیار کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے وفاقی آئینی عدالت پر لازم ہیں، تاہم آئینی عدالت کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ فیصلے 27ویں ترمیم سے قبل ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے دیے تھے۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ ہائی کورٹس نے اُس وقت نافذ قانون کے مطابق سیکشن 4بی اور 4سی کو درست طور پر کالعدم قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی آئینی عدالت میں بدھ کے روز سپر ٹیکس سے متعلق اہم سماعت کے دوران عدالت کو یاد دہانی کرائی گئی کہ 4B اور 4C کے تحت سپر ٹیکس پر فیصلہ سناتے ہوئے 27ویں آئینی ترمیم سمیت دیگر قانونی حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔ چیف جسٹس امین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اُن اپیلوں کی سماعت کی جو سندھ، لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ یہ اپیلیں ان عدالتی فیصلوں سے متعلق ہیں جن میں انکم ٹیکس آرڈی نینس 2001 کے سیکشن 4سی کے تحت عائد سپر ٹیکس کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>کراچی کے ٹیکس دہندگان کی نمائندگی کرتے ہوئےفروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کو اپنے فیصلے میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے سے قائم شدہ قانونی اصولوں کو تبدیل نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے عدالتی نظام میں انتشار پیدا ہوگا۔ ان کے مطابق کسی بھی قانون کا اطلاق مستقبل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، اور ماضی میں قائم نظائر کو نظر انداز کرنے سے قانون کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔</p>
<p>فاروق نذیر نے مزید کہا کہ عدالت کے پاس گزشتہ 75 برسوں کی عدالتی تاریخ ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمنٹ کو ماضی سے مؤثر قوانین بنانے کی اجازت دی گئی تو اس کے نتیجے میں کاروباری ماحول سنگین طور پر متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہائی کورٹس نے اُس وقت کے لاگو قانون کے برخلاف فیصلے دیے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ سپر ٹیکس کو بڑے اداروں اور انفرادی کمائی والوں پر مالیاتی ضرورت کے تحت نافذ کیا گیا، لیکن ان پالیسیوں سے نہ صرف سرمایہ کار بددل ہوں گے بلکہ ٹیکس ادا کرنے والے ادارے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو بڑھانے کے دیگر راستے موجود ہیں جنہیں اختیار کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے وفاقی آئینی عدالت پر لازم ہیں، تاہم آئینی عدالت کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ فیصلے 27ویں ترمیم سے قبل ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے دیے تھے۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ ہائی کورٹس نے اُس وقت نافذ قانون کے مطابق سیکشن 4بی اور 4سی کو درست طور پر کالعدم قرار دیا تھا۔</p>
<p>سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281631</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Jan 2026 09:24:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/150919256cc98d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/150919256cc98d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
