<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معیشت کے بارے میں محتاط پرامیدی کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281604/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے موقف اختیار کیا کہ ملکی معیشت استحکام اور ترقی کی جانب مسلسل گامزن ہے اور بین الاقوامی مالی ادارے بھی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ استحکام حاصل کرلیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں وزراء کی جانب سے بتائے گئے معاشی اشاریے استحکام اور نمو کی علامت ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 جنوری 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 16,055.7 ملین (16 ارب) ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو کہ 21 جنوری 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر بڑھ کر 16,190.1 ملین ڈالر ہو گئے تھے۔ تاہم، ان ذخائر کا بڑا حصہ تین دوست ممالک (چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کی جانب سے فراہم کردہ 12 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) پر مشتمل ہے۔ بقیہ رقم کثیر الجہتی اداروں (بشمول بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری 36 ماہ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام) اور دیگر دو طرفہ قرضوں سے حاصل ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، امدادی ادارے عام طور پر ذخائر میں اس اضافے کو معاشی استحکام کی علامت سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے اپنے قرضہ پروگرام بھی ان ذخائر کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال 3 بڑے عالمی ریٹنگ ایجنسیوں میں سے دو نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی۔ ریٹنگ میں اس طرح کا اضافہ عام طور پر آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بننے سے جڑا ہوتا ہے کیونکہ اس سے حکام کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اطمینان بخش صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ملک کے ڈیفالٹ  کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کو انویسٹمنٹ کیٹیگری (سرمایہ کاری کے لیے محفوظ درجہ) میں شامل نہیں کیا جو پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی حاصل نہیں کیا بلکہ ملک کو سپیکولیٹیو گریڈ’ (غیر یقینی یا جوکھم والا درجہ) میں ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ درجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں سرمایہ کاری میں خطرہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے بیرونِ ملک کمرشل بینکنگ سیکٹر سے قرض لینے کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس حوالے سے دو مشاہدات انتہائی اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا مشاہدہ یہ ہے کہ اگر ملک آئی ایم ایف پروگرام میں نہیں رہتا یعنی اگر آئی ایم ایف طے شدہ شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری نہیں دیتا، یا حکومت اس پروگرام کو درمیان میں ہی چھوڑ دیتی ہےتو ایسی صورت میں دوست ممالک کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے قرضوں کے ’رول اوورز‘ (ادائیگی میں توسیع) ملنے کا امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا جولائی تا نومبر 2025 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر 313.7 ملین ڈالر رہی (جس میں 927.4 ملین ڈالر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور منفی 613.8 ملین ڈالر پورٹ فولیو سرمایہ کاری شامل ہے) جبکہ پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 1,391.1 ملین ڈالر تھی (جس میں 1,242.4 ملین ڈالر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور 148.7 ملین ڈالر پورٹ فولیو سرمایہ کاری شامل تھی)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ مالی سال (جولائی تا دسمبر 2025) کے ہر مہینے میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بہتر رہی ہیں، مجموعی طور پر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں تاہم اس میں موجودہ سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے والے تجارتی خسارے  میں اضافے کو مدنظر نہیں رکھا گیا جو کہ 19,204 ملین ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ خسارہ 14,271 ملین ڈالر تھا۔ دوسرے لفظوں میں ترسیلاتِ زر میں ہونے والا تمام فائدہ تجارتی خسارے میں اضافے کی نظر ہو گیا (یعنی اس نے اضافی خسارے کو جذب کر لیا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ایک دو برسوں میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو میں اضافہ ہوا ہے لیکن انتہائی سکڑاؤ والی مانیٹری پالیسی کے نفاذ اور فسکل پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ شرحِ نمو پیداوار میں حقیقی اضافے کے بجائے گزشتہ برسوں کی کم سطح کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ مانیٹری پالیسی کے تحت اگرچہ ڈسکاؤنٹ ریٹ 22 فیصد سے نصف سے بھی کم کر کے 10.5 فیصد کر دیا گیا ہے، لیکن یہ اب بھی 5 سے 6 فیصد کی علاقائی اوسط سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے کی صنعت  کی کارکردگی مسلسل خراب رہی ہے۔ دوسری جانب فسکل پالیسی میں آڈٹ پر زیادہ توجہ کی وجہ سے بہت سے ٹیکس گزار قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کے ساتھ ان کے مذاکرات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال سیلاب نے زرعی شعبے کی نمو متاثر کی ہے حالانکہ اس کی تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی ان 93 فیصد افراد کے لیے بدستور تشویش کا باعث ہے جو نجی شعبے سے وابستہ ہیں، کیونکہ گزشتہ چھ سے سات سال سے ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جو معیشت کی پست حالی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ریاست کے ملازم ان 7 فیصد افراد کو اس صورتحال کا سامنا نہیں ہے کیونکہ حکومت ہر سال ان کی تنخواہوں میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح سے بھی زیادہ اضافہ کرتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وقت خود اطمینانی  یا مگن رہنے کا نہیں ہے اور کوئی بھی شخص کابینہ کے ارکان سے محض ان کامیابیوں کی رٹ لگانے کے بجائے جو عام جنتا کو نہ تو نظر آرہی ہیں اور نہ ہی ان کا تجربہ ہو رہا ہے ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور باخبر بیانیے کی امید ہی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے موقف اختیار کیا کہ ملکی معیشت استحکام اور ترقی کی جانب مسلسل گامزن ہے اور بین الاقوامی مالی ادارے بھی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ استحکام حاصل کرلیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں وزراء کی جانب سے بتائے گئے معاشی اشاریے استحکام اور نمو کی علامت ہیں۔</strong></p>
<p>2 جنوری 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 16,055.7 ملین (16 ارب) ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو کہ 21 جنوری 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر بڑھ کر 16,190.1 ملین ڈالر ہو گئے تھے۔ تاہم، ان ذخائر کا بڑا حصہ تین دوست ممالک (چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کی جانب سے فراہم کردہ 12 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) پر مشتمل ہے۔ بقیہ رقم کثیر الجہتی اداروں (بشمول بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری 36 ماہ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام) اور دیگر دو طرفہ قرضوں سے حاصل ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، امدادی ادارے عام طور پر ذخائر میں اس اضافے کو معاشی استحکام کی علامت سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے اپنے قرضہ پروگرام بھی ان ذخائر کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال 3 بڑے عالمی ریٹنگ ایجنسیوں میں سے دو نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی۔ ریٹنگ میں اس طرح کا اضافہ عام طور پر آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بننے سے جڑا ہوتا ہے کیونکہ اس سے حکام کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اطمینان بخش صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ملک کے ڈیفالٹ  کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کو انویسٹمنٹ کیٹیگری (سرمایہ کاری کے لیے محفوظ درجہ) میں شامل نہیں کیا جو پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی حاصل نہیں کیا بلکہ ملک کو سپیکولیٹیو گریڈ’ (غیر یقینی یا جوکھم والا درجہ) میں ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ درجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں سرمایہ کاری میں خطرہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے بیرونِ ملک کمرشل بینکنگ سیکٹر سے قرض لینے کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس حوالے سے دو مشاہدات انتہائی اہم ہیں۔</p>
<p>پہلا مشاہدہ یہ ہے کہ اگر ملک آئی ایم ایف پروگرام میں نہیں رہتا یعنی اگر آئی ایم ایف طے شدہ شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری نہیں دیتا، یا حکومت اس پروگرام کو درمیان میں ہی چھوڑ دیتی ہےتو ایسی صورت میں دوست ممالک کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے قرضوں کے ’رول اوورز‘ (ادائیگی میں توسیع) ملنے کا امکان نہیں ہے۔</p>
<p>دوسرا جولائی تا نومبر 2025 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر 313.7 ملین ڈالر رہی (جس میں 927.4 ملین ڈالر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور منفی 613.8 ملین ڈالر پورٹ فولیو سرمایہ کاری شامل ہے) جبکہ پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 1,391.1 ملین ڈالر تھی (جس میں 1,242.4 ملین ڈالر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور 148.7 ملین ڈالر پورٹ فولیو سرمایہ کاری شامل تھی)۔</p>
<p>موجودہ مالی سال (جولائی تا دسمبر 2025) کے ہر مہینے میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بہتر رہی ہیں، مجموعی طور پر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں تاہم اس میں موجودہ سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے والے تجارتی خسارے  میں اضافے کو مدنظر نہیں رکھا گیا جو کہ 19,204 ملین ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ خسارہ 14,271 ملین ڈالر تھا۔ دوسرے لفظوں میں ترسیلاتِ زر میں ہونے والا تمام فائدہ تجارتی خسارے میں اضافے کی نظر ہو گیا (یعنی اس نے اضافی خسارے کو جذب کر لیا)۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ایک دو برسوں میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو میں اضافہ ہوا ہے لیکن انتہائی سکڑاؤ والی مانیٹری پالیسی کے نفاذ اور فسکل پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ شرحِ نمو پیداوار میں حقیقی اضافے کے بجائے گزشتہ برسوں کی کم سطح کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ مانیٹری پالیسی کے تحت اگرچہ ڈسکاؤنٹ ریٹ 22 فیصد سے نصف سے بھی کم کر کے 10.5 فیصد کر دیا گیا ہے، لیکن یہ اب بھی 5 سے 6 فیصد کی علاقائی اوسط سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے کی صنعت  کی کارکردگی مسلسل خراب رہی ہے۔ دوسری جانب فسکل پالیسی میں آڈٹ پر زیادہ توجہ کی وجہ سے بہت سے ٹیکس گزار قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کے ساتھ ان کے مذاکرات جاری ہیں۔</p>
<p>اس سال سیلاب نے زرعی شعبے کی نمو متاثر کی ہے حالانکہ اس کی تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئی ۔</p>
<p>مہنگائی ان 93 فیصد افراد کے لیے بدستور تشویش کا باعث ہے جو نجی شعبے سے وابستہ ہیں، کیونکہ گزشتہ چھ سے سات سال سے ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جو معیشت کی پست حالی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ریاست کے ملازم ان 7 فیصد افراد کو اس صورتحال کا سامنا نہیں ہے کیونکہ حکومت ہر سال ان کی تنخواہوں میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح سے بھی زیادہ اضافہ کرتی رہی ہے۔</p>
<p>یہ وقت خود اطمینانی  یا مگن رہنے کا نہیں ہے اور کوئی بھی شخص کابینہ کے ارکان سے محض ان کامیابیوں کی رٹ لگانے کے بجائے جو عام جنتا کو نہ تو نظر آرہی ہیں اور نہ ہی ان کا تجربہ ہو رہا ہے ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور باخبر بیانیے کی امید ہی کر سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281604</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Jan 2026 13:59:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1411591066c5599.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1411591066c5599.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
