<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آڈیٹر جنرل نے پاور ڈویژن کے تھنک ٹینک میں بے ضابطگیوں پر سوال اٹھا دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281589/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی، جو پاور ڈویژن کا تھنک ٹینک ہے، میں بھاری مراعات اور غیر شفاف بھرتیوں پر سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔ یہ کمپنی سابق پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی جگہ قائم کی گئی تھی اور اسے توانائی شعبے میں منصوبہ بندی و نگرانی کا اہم کردار دیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پالیسی اور عملدرآمد سے متعلق متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے فروری 2025 میں مینجمنٹ ٹرینی آفیسرز کی نو آسامیاں مشتہر کی تھیں جن کے لیے 2 ہزار 940 درخواستیں موصول ہوئیں اور 822 امیدوار شارٹ لسٹ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بھرتی کے دوران بغیر کوئی اشتہار یا اصلاحی نوٹیفکیشن جاری کیے، آسامیاں مرحلہ وار بڑھا کر پہلے 25 اور پھر 28 کر دی گئیں جو شفاف بھرتی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ آڈیٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف شعبوں میں منتخب امیدواروں کے دستیاب نہ ہونے کے باوجود متبادل امیدواروں کو پیشکش کی گئی، مگر مالیاتی شعبے میں دستیاب امیدواروں کے باوجود آفر لیٹر جاری نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ بھی دیکھا گیا کہ مختلف کیٹیگریز کے لیے مختلف انتخابی معیار استعمال کیے گئے۔ بعض شعبوں میں کم اسسمنٹ اسکور والے امیدوار منتخب ہوئے جبکہ ایم ٹی او فنانس میں زیادہ معیار لگایا گیا جس کے نتیجے میں اسامی خالی رہ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 28 منظور شدہ نشستوں میں سے 16 اب تک خالی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل نے ان معاملات کی وجہ کمزور عمل درآمد، افرادی قوت کی غیر واضح منصوبہ بندی اور شفافیت کی کمی قرار دی ہے۔ ان بے ضابطگیوں کے باعث ادارہ افرادی قلت، تاخیر کی وجہ سے کام کے دباؤ اور بھرتی کے نظام پر اعتماد میں کمی جیسے مسائل سے دوچار رہا۔ معاملہ دسمبر 2025 میں انتظامیہ کے سامنے رکھا گیا، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر عابد لودھی کو بورڈ میٹنگ فیس کی مد میں 0.780 ملین روپے کی ادائیگی پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ادائیگی کی اجازت کسی تحریری دستاویز یا بورڈ کے باضابطہ فیصلے سے ثابت نہیں ہو سکی۔ جبکہ ایم ڈی پہلے ہی باقاعدہ تنخواہ وصول کر رہے تھے، اس کے باوجود بورڈ فیس کی علیحدہ ادائیگی کو دوہری مراعات کے مترادف قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کمپنی مستقبل میں بھرتیوں میں شفافیت، یکساں معیار اور بروقت عمل درآمد کو یقینی بنائے، اور کسی بھی انتظامی مراعات کی ادائیگی واضح منظوری کے ساتھ کی جائے تاکہ قواعد کی خلاف ورزی اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی روک تھام ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی، جو پاور ڈویژن کا تھنک ٹینک ہے، میں بھاری مراعات اور غیر شفاف بھرتیوں پر سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔ یہ کمپنی سابق پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی جگہ قائم کی گئی تھی اور اسے توانائی شعبے میں منصوبہ بندی و نگرانی کا اہم کردار دیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پالیسی اور عملدرآمد سے متعلق متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے فروری 2025 میں مینجمنٹ ٹرینی آفیسرز کی نو آسامیاں مشتہر کی تھیں جن کے لیے 2 ہزار 940 درخواستیں موصول ہوئیں اور 822 امیدوار شارٹ لسٹ کیے گئے۔</p>
<p>تاہم بھرتی کے دوران بغیر کوئی اشتہار یا اصلاحی نوٹیفکیشن جاری کیے، آسامیاں مرحلہ وار بڑھا کر پہلے 25 اور پھر 28 کر دی گئیں جو شفاف بھرتی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ آڈیٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف شعبوں میں منتخب امیدواروں کے دستیاب نہ ہونے کے باوجود متبادل امیدواروں کو پیشکش کی گئی، مگر مالیاتی شعبے میں دستیاب امیدواروں کے باوجود آفر لیٹر جاری نہیں کیے گئے۔</p>
<p>مزید یہ بھی دیکھا گیا کہ مختلف کیٹیگریز کے لیے مختلف انتخابی معیار استعمال کیے گئے۔ بعض شعبوں میں کم اسسمنٹ اسکور والے امیدوار منتخب ہوئے جبکہ ایم ٹی او فنانس میں زیادہ معیار لگایا گیا جس کے نتیجے میں اسامی خالی رہ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 28 منظور شدہ نشستوں میں سے 16 اب تک خالی ہیں۔</p>
<p>آڈیٹر جنرل نے ان معاملات کی وجہ کمزور عمل درآمد، افرادی قوت کی غیر واضح منصوبہ بندی اور شفافیت کی کمی قرار دی ہے۔ ان بے ضابطگیوں کے باعث ادارہ افرادی قلت، تاخیر کی وجہ سے کام کے دباؤ اور بھرتی کے نظام پر اعتماد میں کمی جیسے مسائل سے دوچار رہا۔ معاملہ دسمبر 2025 میں انتظامیہ کے سامنے رکھا گیا، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔</p>
<p>علاوہ ازیں کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر عابد لودھی کو بورڈ میٹنگ فیس کی مد میں 0.780 ملین روپے کی ادائیگی پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ادائیگی کی اجازت کسی تحریری دستاویز یا بورڈ کے باضابطہ فیصلے سے ثابت نہیں ہو سکی۔ جبکہ ایم ڈی پہلے ہی باقاعدہ تنخواہ وصول کر رہے تھے، اس کے باوجود بورڈ فیس کی علیحدہ ادائیگی کو دوہری مراعات کے مترادف قرار دیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کمپنی مستقبل میں بھرتیوں میں شفافیت، یکساں معیار اور بروقت عمل درآمد کو یقینی بنائے، اور کسی بھی انتظامی مراعات کی ادائیگی واضح منظوری کے ساتھ کی جائے تاکہ قواعد کی خلاف ورزی اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی روک تھام ہو سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281589</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Jan 2026 09:12:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1409112345ae546.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1409112345ae546.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
