<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے مشرق وسطیٰ کو تباہ کن نتائج بھگتنے پڑینگے، قطر کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281581/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطر نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی فوجی کشیدگی کے سنگین نتائج خطے کے لیے تباہ کن ہوں گے، جب کہ واشنگٹن نے ایران میں احتجاج پر حکومت کے کریک ڈاؤن کے جواب میں ممکنہ حملوں کی دھمکی دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ” ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی کشیدگی کے نتائج… خطے اور اس سے باہر تباہ کن ہوں گے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس سے ہر ممکن حد تک بچا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے گزشتہ سال جون میں قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے العُدید کو نشانہ بنایا، جوامریکہ کے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملوں کا رد عمل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے اپنے ہاں ہونے والے اس غیر معمولی حملے کو بروئے کار لاتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان &lt;strong&gt;تیز رفتار جنگ بندی&lt;/strong&gt; کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات سے ایران میں جاری بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے 1979 میں شاہ ایران کے اقتدار کے خاتمے اور اسلامی انقلاب کے بعد سے لے کر اب تک ملک کی مذہبی قیادت کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے پیر کو یہ دہرائی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی مظاہرین پر کریک ڈاؤن کو روکنے کے لیے فضائی حملوں پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے گروپس نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی اطلاعات دی ہیں، حالانکہ کئی روز تک جاری رہنے والے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے باوجود معلومات بتدریج سامنے آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی بار بار مداخلت کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران جواب دینے کے لیے تیار ہے اور ریاستی ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں امریکی فوج اور شپنگ کو ”قابل جواز عسکری ہدف“ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے تصدیق کی ہے کہ احتجاجات کے دوران 648 افراد ہلاک ہوئے، جن میں نو نابالغ شامل ہیں، لیکن اس نے خبردار کیا کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے،“ بعض تخمینوں کے مطابق 6,000 سے زائد۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے یہ بھی کہا ہے کہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے، اور ایران نے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ نجی مذاکرات میں ”بالکل مختلف موقف“ اپنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ” ہم اب بھی ایسے مقام پر ہیں جہاں ہمیں یقین ہے کہ اس سے سفارتی حل نکل سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ” ہم تمام فریقوں سے بات چیت میں مصروف ہیں، ظاہر ہے کہ اپنے ہمسایہ ممالک اور خطے میں شراکت داروں کے ساتھ، تاکہ کسی سفارتی حل تک پہنچا جا سکے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قطر نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی فوجی کشیدگی کے سنگین نتائج خطے کے لیے تباہ کن ہوں گے، جب کہ واشنگٹن نے ایران میں احتجاج پر حکومت کے کریک ڈاؤن کے جواب میں ممکنہ حملوں کی دھمکی دی ہے۔</strong></p>
<p>دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ ” ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی کشیدگی کے نتائج… خطے اور اس سے باہر تباہ کن ہوں گے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس سے ہر ممکن حد تک بچا جائے۔“</p>
<p>ایران نے گزشتہ سال جون میں قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے العُدید کو نشانہ بنایا، جوامریکہ کے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملوں کا رد عمل تھا۔</p>
<p>قطر نے اپنے ہاں ہونے والے اس غیر معمولی حملے کو بروئے کار لاتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان <strong>تیز رفتار جنگ بندی</strong> کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔</p>
<p>جمعرات سے ایران میں جاری بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے 1979 میں شاہ ایران کے اقتدار کے خاتمے اور اسلامی انقلاب کے بعد سے لے کر اب تک ملک کی مذہبی قیادت کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن گئے ہیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے پیر کو یہ دہرائی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی مظاہرین پر کریک ڈاؤن کو روکنے کے لیے فضائی حملوں پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>انسانی حقوق کے گروپس نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی اطلاعات دی ہیں، حالانکہ کئی روز تک جاری رہنے والے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے باوجود معلومات بتدریج سامنے آ رہی ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کی بار بار مداخلت کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران جواب دینے کے لیے تیار ہے اور ریاستی ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں امریکی فوج اور شپنگ کو ”قابل جواز عسکری ہدف“ قرار دیا ہے۔</p>
<p>ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے تصدیق کی ہے کہ احتجاجات کے دوران 648 افراد ہلاک ہوئے، جن میں نو نابالغ شامل ہیں، لیکن اس نے خبردار کیا کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے،“ بعض تخمینوں کے مطابق 6,000 سے زائد۔“</p>
<p>واشنگٹن نے یہ بھی کہا ہے کہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے، اور ایران نے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ نجی مذاکرات میں ”بالکل مختلف موقف“ اپنایا ہے۔</p>
<p>قطر کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ” ہم اب بھی ایسے مقام پر ہیں جہاں ہمیں یقین ہے کہ اس سے سفارتی حل نکل سکتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ” ہم تمام فریقوں سے بات چیت میں مصروف ہیں، ظاہر ہے کہ اپنے ہمسایہ ممالک اور خطے میں شراکت داروں کے ساتھ، تاکہ کسی سفارتی حل تک پہنچا جا سکے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281581</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 20:09:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1319455291451c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1319455291451c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
