<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایم ایل ون منصوبے کا آغاز رواں سال جولائی میں کراچی پورٹ سے ہوگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281564/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرریلوے  حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز کے فلیگ شپ مین لائن-1 (ایم ایل ون) منصوبے پر کام جولائی 2026 میں شروع ہونے کی توقع ہے جس کے تحت تعمیراتی کام کا آغاز کراچی پورٹ سے کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیر ریلوے نے آگاہ کیا کہ اس اقدام کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ سے پپری تک 54 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ کارگو (مال بردار گاڑیوں) کی بلا تعطل نقل و حمل کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ریلویز اگلے پانچ ماہ کے اندر روزانہ کم از کم چار مال بردار (فریٹ) ٹرینیں چلانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں بلک کارگو (بھاری مال برداری) کی نقل و حمل کو ترجیح دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 جنوری کو کراچی کے دورے کے دوران، حنیف عباسی نے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) شاہد احمد سے ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں کراچی پورٹ سے کارگو کی مؤثر ترسیل کے لیے ریلوے کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کا محور سڑکوں کے بجائے کارگو کی ترسیل کا بڑا حصہ ریل پر منتقل کر کے بندرگاہ اور گردونواح کے روڈ نیٹ ورکس پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنا تھا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ریل کے ذریعے مال برداری ایک سستا اور پائیدار حل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حنیف عباسی نے کارگو کی ترسیل کے شعبے میں بڑی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلویز کی مال برداری کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی تجارت میں کراچی پورٹ کی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت پر زور دیا اور پورٹ لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پاکستان ریلویز اور کے پی ٹی  کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر چیئرمین کے پی ٹی نے کہا کہ کے پی ٹی اپنی اندرومی ریلوے لائنوں کو جدید بنائے گا اور کراچی پورٹ سے منسلک ریلوے انفرااسٹرکچر کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پاکستان ریلوے کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ریلوے کے بہتر رابطوں سے نہ صرف سڑکوں اور بندرگاہوں پر دباؤ کم ہوگا، بلکہ اس سے لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی آئے گی، مال کی ترسیل کے وقت میں بہتری آئے گی اور یہ تجارت، صنعت اور قومی معیشت کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرریلوے  حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز کے فلیگ شپ مین لائن-1 (ایم ایل ون) منصوبے پر کام جولائی 2026 میں شروع ہونے کی توقع ہے جس کے تحت تعمیراتی کام کا آغاز کراچی پورٹ سے کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیر ریلوے نے آگاہ کیا کہ اس اقدام کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ سے پپری تک 54 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ کارگو (مال بردار گاڑیوں) کی بلا تعطل نقل و حمل کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ریلویز اگلے پانچ ماہ کے اندر روزانہ کم از کم چار مال بردار (فریٹ) ٹرینیں چلانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں بلک کارگو (بھاری مال برداری) کی نقل و حمل کو ترجیح دی جائے گی۔</p>
<p>9 جنوری کو کراچی کے دورے کے دوران، حنیف عباسی نے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) شاہد احمد سے ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں کراچی پورٹ سے کارگو کی مؤثر ترسیل کے لیے ریلوے کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات کا محور سڑکوں کے بجائے کارگو کی ترسیل کا بڑا حصہ ریل پر منتقل کر کے بندرگاہ اور گردونواح کے روڈ نیٹ ورکس پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنا تھا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ریل کے ذریعے مال برداری ایک سستا اور پائیدار حل ہے۔</p>
<p>حنیف عباسی نے کارگو کی ترسیل کے شعبے میں بڑی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلویز کی مال برداری کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی تجارت میں کراچی پورٹ کی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت پر زور دیا اور پورٹ لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پاکستان ریلویز اور کے پی ٹی  کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>ادھر چیئرمین کے پی ٹی نے کہا کہ کے پی ٹی اپنی اندرومی ریلوے لائنوں کو جدید بنائے گا اور کراچی پورٹ سے منسلک ریلوے انفرااسٹرکچر کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پاکستان ریلوے کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔</p>
<p>دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ریلوے کے بہتر رابطوں سے نہ صرف سڑکوں اور بندرگاہوں پر دباؤ کم ہوگا، بلکہ اس سے لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی آئے گی، مال کی ترسیل کے وقت میں بہتری آئے گی اور یہ تجارت، صنعت اور قومی معیشت کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281564</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:47:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/1313294277a67bf.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/1313294277a67bf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
