<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غذائی عدم تحفظ میں اضافہ، پالیسی کے نقائص عیاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281563/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 2024-25 کے خوراک کی عدم تحفظ کے تجرباتی پیمانے (ایف آئی ای ایس) سے حاصل ہونے والے نتائج اس زبان سے کہیں زیادہ تشویشناک حقیقت پیش کرتے ہیں جو انہیں بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ اگرچہ رپورٹ میں خوراک تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کے باوجود برقرار چیلنجز کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اعدادوشمار خود واضح اور مسلسل تنزلی کی نشاندہی کررہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی سطح پر خوراک کا متوسط یا شدید عدم تحفظ 2018-19 میں 15.92 فیصد سے تیزی سے بڑھ کر 2024-25 میں 24.35 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ تقریباً61 ملین پاکستانی اب ایسے گھرانوں میں زندگی بسر کررہے ہیں جہاں خوراک تک رسائی غیر یقینی ہے۔ خوراک کا شدید ترین عدم تحفظ بھی دوگنا سے زیادہ بڑھ کر 2.37 فیصد سے 5.04 فیصد ہو گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 12.6 ملین افراد شدید ترین محرومی کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار ترقی کی علامت نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارے ایف اے او کے مطابق خوراک کا متوسط عدم تحفظ اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس میں گھرانوں کو کافی مقدار میں خوراک تک قابلِ بھروسہ رسائی حاصل نہیں ہوتی اور وہ کھانے کے معیار، تنوع یا باقاعدگی پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ شدید عدم تحفظ اس سے کہیں زیادہ سنگین حالت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں گھرانوں کے پاس کھانا مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور وہ ایک یا اس سے زیادہ دن بغیر کچھ کھائے گزار سکتے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو ایچ آئی ای ایس کے نتائج نہ صرف بڑھتی ہوئی تکلیف کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ایک بڑی تعداد مسلسل غذائی دباؤ اور کھانے کی کمی کا سامنا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری گھرانے، جنہیں عام طور پر نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، وہاں صورتحال میں سب سے زیادہ تیزی سے بگاڑ دیکھا گیا ہے۔ شہری علاقوں میں خوراک کا متوسط یا شدید عدم تحفظ 9.22 فیصد سے دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 20.58 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ شدید عدم تحفظ 1.24 فیصد سے بڑھ کر 5.12 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب شہری آبادی کا ایک بڑا حصہ کھانا چھوڑ رہا ہے، کھانے کی مقدار (پورشن) کم کر رہا ہے یا پھر ایسی سستی خوراک پر گزارا کر رہا ہے جس میں کیلوریز تو زیادہ ہیں مگر غذائیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری جانب، دیہی گھرانے اپنی ذاتی پیداوار (فصلوں/مویشیوں) کی بدولت کسی حد تک سہارے کے باوجود خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہوئے ہیں، جہاں متوسط یا شدید عدم تحفظ 19.96 فیصد سے بڑھ کر 26.72 فیصد ہو گیا ہے۔ یہ حقیقت کہ ’شدید عدم تحفظ‘ اب شہری علاقوں میں (دیہی علاقوں کے مقابلے میں) قدرے زیادہ ہے، اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ کس طرح آمدنی میں کمی اور اشیائے خوردونوش کی مہنگائی محرومی کے بنیادی عوامل بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی عدم مساوات بدستور نمایاں ہے۔ بلوچستان میں اب بھی ایسے گھرانوں کی شرح سب سے زیادہ ہے جو معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، یہ شرح 30.26 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد سندھ 29.42 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس کا تناسب سب سے کم یعنی 21.54 فیصد ہے اور شدید غذائی عدم تحفظ کی شرح بھی وہاں سب سے کم 1.38 فیصد رہی ہے، یہ فرق غیر مساوی معاشی مواقع، ناگہانی حالات (جھٹکوں) کے اثرات اور سماجی تحفظ کے اقدامات کی رسائی میں تفاوت کی عکاسی کرتا ہے، تاہم نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے والے صوبوں میں بھی غذائی عدم تحفظ میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حفاظتی انتظامات (بفرز) اب کمزور پڑرہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آمدنی کا فرق صورتحال کو مزید واضح کردیتا ہے۔ سب سے کم آمدنی والے طبقے کے تقریباً 46 فیصد گھرانے معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ اس کے برعکس سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے میں یہ شرح 9 فیصد سے بھی کم ہے۔غریب گھرانوں کے لیے معتدل غذائی عدم تحفظ’ کا مطلب اکثر خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صحت، تعلیم یا دیگر بنیادی ضروریات کی قربانی دینا ہوتا ہے جبکہ ’شدید غذائی عدم تحفظ‘ خاندانوں کو بار بار فاقہ کشی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ 2018-19 کے بعد سے تمام آمدنی والے گروہوں میں غذائی عدم تحفظ کا بڑھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بحران اب ہمہ گیر ہو چکا ہے۔ یہ صرف غربت کا نتیجہ نہیں بلکہ کووڈ-19، 2022 کے سیلاب اور طویل عرصے سے جاری بلند مہنگائی جیسے پے در پے صدمات کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج صرف خالی پیٹ تک محدود نہیں رہتے۔ عالمی ادارے (ایف اے او) کے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ معتدل غذائی عدم تحفظ کا گہرا تعلق غذا کے ناقص معیار، مائیکرو نیوٹرینٹس (نشاستہ، وٹامنز وغیرہ) کی کمی اور پروسیسڈ فوڈ پر انحصار کی وجہ سے بڑھتے ہوئے موٹاپے سے ہے۔ شدید غذائی عدم تحفظ کے نقصانات اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں جو جسمانی بیماریوں، ذہنی تناؤ اور صحت کو طویل مدتی نقصان پہنچانے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے بار بار غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے سے ان کا قد نہ بڑھنے، عمر کے لحاظ سے وزن کم ہونے، ذہنی نشوونما میں رکاوٹ اور تعلیمی نتائج میں کمزوری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ وہ اثرات ہیں جو مستقل طور پر انسانی سرمائے اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں رپورٹ کا نمایاں پیش رفت کا حوالہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پیمائش  میں ہونے والی ترقی اور نتائج  میں ہونے والی ترقی کے درمیان واضح فرق کیا جائے۔ایچ آئی ای ایس اور پی ایس ایل ایم جیسے بڑے سروے کے فریم ورک میں غذائی عدم تحفظ کے تجربے کے پیمانے کو شامل کرنا ایک اہم ادارہ جاتی کامیابی ہے لیکن بہتر نگرانی  کو خود غذائی تحفظ میں بہتری نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب اشاریے یہ ظاہر کررہے ہوں کہ زیادہ سے زیادہ گھرانے خوراک کے معیار پر سمجھوتہ کر رہے ہیں اور زیادہ خاندان مکمل طور پر خوراک کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں، تو تبدیلی کی سمت (یعنی صورتحال کا بگڑنا) بالکل واضح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے غذائی عدم تحفظ کا چیلنج اب محض ایک سماجی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ابھرتا ہوا عوامی صحت اور معاشی خطرہ ہے۔ جب تقریباً ہر چار میں سے ایک پاکستانی، یعنی 6 کروڑ سے زائد افراد، معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوں، تو اس کے اثرات صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مزدوروں کی کم ہوتی ہوئی پیداواری صلاحیت، اور نسل در نسل منتقل ہونے والی گہری غربت کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ ایچ آئی ای ایس 2024۔25 کے اعداد و شمار محض تسلیوں سے بڑھ کر کسی اقدام کے متقاضی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایسے ہدف پر مبنی اور مناسب مالی امداد سے چلنے والے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں جو خوراک کی قیمتوں کو مستحکم کریں، حقیقی آمدنی کا تحفظ کریں اور معاشی پالیسی میں صرف کیلوریز (پیٹ بھرنے) کو نہیں بلکہ غذائیت (نشوونما) کو مرکزی اہمیت دیں۔ اس تبدیلی کے بغیر، غذائی عدم تحفظ خاموشی مگر مستقل مزاجی سے پاکستان کی انسانی اور معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 2024-25 کے خوراک کی عدم تحفظ کے تجرباتی پیمانے (ایف آئی ای ایس) سے حاصل ہونے والے نتائج اس زبان سے کہیں زیادہ تشویشناک حقیقت پیش کرتے ہیں جو انہیں بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ اگرچہ رپورٹ میں خوراک تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کے باوجود برقرار چیلنجز کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اعدادوشمار خود واضح اور مسلسل تنزلی کی نشاندہی کررہے ہیں۔</strong></p>
<p>قومی سطح پر خوراک کا متوسط یا شدید عدم تحفظ 2018-19 میں 15.92 فیصد سے تیزی سے بڑھ کر 2024-25 میں 24.35 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ تقریباً61 ملین پاکستانی اب ایسے گھرانوں میں زندگی بسر کررہے ہیں جہاں خوراک تک رسائی غیر یقینی ہے۔ خوراک کا شدید ترین عدم تحفظ بھی دوگنا سے زیادہ بڑھ کر 2.37 فیصد سے 5.04 فیصد ہو گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 12.6 ملین افراد شدید ترین محرومی کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار ترقی کی علامت نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>عالمی ادارے ایف اے او کے مطابق خوراک کا متوسط عدم تحفظ اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس میں گھرانوں کو کافی مقدار میں خوراک تک قابلِ بھروسہ رسائی حاصل نہیں ہوتی اور وہ کھانے کے معیار، تنوع یا باقاعدگی پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ شدید عدم تحفظ اس سے کہیں زیادہ سنگین حالت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں گھرانوں کے پاس کھانا مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور وہ ایک یا اس سے زیادہ دن بغیر کچھ کھائے گزار سکتے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو ایچ آئی ای ایس کے نتائج نہ صرف بڑھتی ہوئی تکلیف کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ایک بڑی تعداد مسلسل غذائی دباؤ اور کھانے کی کمی کا سامنا کر رہی ہے۔</p>
<p>شہری گھرانے، جنہیں عام طور پر نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، وہاں صورتحال میں سب سے زیادہ تیزی سے بگاڑ دیکھا گیا ہے۔ شہری علاقوں میں خوراک کا متوسط یا شدید عدم تحفظ 9.22 فیصد سے دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 20.58 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ شدید عدم تحفظ 1.24 فیصد سے بڑھ کر 5.12 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب شہری آبادی کا ایک بڑا حصہ کھانا چھوڑ رہا ہے، کھانے کی مقدار (پورشن) کم کر رہا ہے یا پھر ایسی سستی خوراک پر گزارا کر رہا ہے جس میں کیلوریز تو زیادہ ہیں مگر غذائیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری جانب، دیہی گھرانے اپنی ذاتی پیداوار (فصلوں/مویشیوں) کی بدولت کسی حد تک سہارے کے باوجود خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہوئے ہیں، جہاں متوسط یا شدید عدم تحفظ 19.96 فیصد سے بڑھ کر 26.72 فیصد ہو گیا ہے۔ یہ حقیقت کہ ’شدید عدم تحفظ‘ اب شہری علاقوں میں (دیہی علاقوں کے مقابلے میں) قدرے زیادہ ہے، اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ کس طرح آمدنی میں کمی اور اشیائے خوردونوش کی مہنگائی محرومی کے بنیادی عوامل بن چکے ہیں۔</p>
<p>صوبائی عدم مساوات بدستور نمایاں ہے۔ بلوچستان میں اب بھی ایسے گھرانوں کی شرح سب سے زیادہ ہے جو معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، یہ شرح 30.26 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد سندھ 29.42 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ خیبر پختونخوا میں اس کا تناسب سب سے کم یعنی 21.54 فیصد ہے اور شدید غذائی عدم تحفظ کی شرح بھی وہاں سب سے کم 1.38 فیصد رہی ہے، یہ فرق غیر مساوی معاشی مواقع، ناگہانی حالات (جھٹکوں) کے اثرات اور سماجی تحفظ کے اقدامات کی رسائی میں تفاوت کی عکاسی کرتا ہے، تاہم نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے والے صوبوں میں بھی غذائی عدم تحفظ میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حفاظتی انتظامات (بفرز) اب کمزور پڑرہے ہیں۔</p>
<p>آمدنی کا فرق صورتحال کو مزید واضح کردیتا ہے۔ سب سے کم آمدنی والے طبقے کے تقریباً 46 فیصد گھرانے معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ اس کے برعکس سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے میں یہ شرح 9 فیصد سے بھی کم ہے۔غریب گھرانوں کے لیے معتدل غذائی عدم تحفظ’ کا مطلب اکثر خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صحت، تعلیم یا دیگر بنیادی ضروریات کی قربانی دینا ہوتا ہے جبکہ ’شدید غذائی عدم تحفظ‘ خاندانوں کو بار بار فاقہ کشی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ 2018-19 کے بعد سے تمام آمدنی والے گروہوں میں غذائی عدم تحفظ کا بڑھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ بحران اب ہمہ گیر ہو چکا ہے۔ یہ صرف غربت کا نتیجہ نہیں بلکہ کووڈ-19، 2022 کے سیلاب اور طویل عرصے سے جاری بلند مہنگائی جیسے پے در پے صدمات کا عکاس ہے۔</p>
<p>اس کے نتائج صرف خالی پیٹ تک محدود نہیں رہتے۔ عالمی ادارے (ایف اے او) کے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ معتدل غذائی عدم تحفظ کا گہرا تعلق غذا کے ناقص معیار، مائیکرو نیوٹرینٹس (نشاستہ، وٹامنز وغیرہ) کی کمی اور پروسیسڈ فوڈ پر انحصار کی وجہ سے بڑھتے ہوئے موٹاپے سے ہے۔ شدید غذائی عدم تحفظ کے نقصانات اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں جو جسمانی بیماریوں، ذہنی تناؤ اور صحت کو طویل مدتی نقصان پہنچانے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے بار بار غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے سے ان کا قد نہ بڑھنے، عمر کے لحاظ سے وزن کم ہونے، ذہنی نشوونما میں رکاوٹ اور تعلیمی نتائج میں کمزوری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ وہ اثرات ہیں جو مستقل طور پر انسانی سرمائے اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>اسی تناظر میں رپورٹ کا نمایاں پیش رفت کا حوالہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پیمائش  میں ہونے والی ترقی اور نتائج  میں ہونے والی ترقی کے درمیان واضح فرق کیا جائے۔ایچ آئی ای ایس اور پی ایس ایل ایم جیسے بڑے سروے کے فریم ورک میں غذائی عدم تحفظ کے تجربے کے پیمانے کو شامل کرنا ایک اہم ادارہ جاتی کامیابی ہے لیکن بہتر نگرانی  کو خود غذائی تحفظ میں بہتری نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب اشاریے یہ ظاہر کررہے ہوں کہ زیادہ سے زیادہ گھرانے خوراک کے معیار پر سمجھوتہ کر رہے ہیں اور زیادہ خاندان مکمل طور پر خوراک کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں، تو تبدیلی کی سمت (یعنی صورتحال کا بگڑنا) بالکل واضح ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے غذائی عدم تحفظ کا چیلنج اب محض ایک سماجی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ابھرتا ہوا عوامی صحت اور معاشی خطرہ ہے۔ جب تقریباً ہر چار میں سے ایک پاکستانی، یعنی 6 کروڑ سے زائد افراد، معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوں، تو اس کے اثرات صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مزدوروں کی کم ہوتی ہوئی پیداواری صلاحیت، اور نسل در نسل منتقل ہونے والی گہری غربت کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ ایچ آئی ای ایس 2024۔25 کے اعداد و شمار محض تسلیوں سے بڑھ کر کسی اقدام کے متقاضی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایسے ہدف پر مبنی اور مناسب مالی امداد سے چلنے والے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں جو خوراک کی قیمتوں کو مستحکم کریں، حقیقی آمدنی کا تحفظ کریں اور معاشی پالیسی میں صرف کیلوریز (پیٹ بھرنے) کو نہیں بلکہ غذائیت (نشوونما) کو مرکزی اہمیت دیں۔ اس تبدیلی کے بغیر، غذائی عدم تحفظ خاموشی مگر مستقل مزاجی سے پاکستان کی انسانی اور معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281563</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 15:21:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/13132600894f86d.webp" type="image/webp" medium="image" height="1333" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/13132600894f86d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
