<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:14:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:14:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جے ایف 17 تھنڈر توجہ کا مرکز ، سربراہ پاک فضائیہ اور انڈونیشین وزیرِ دفاع کے درمیان دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281561/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفری صام الدین کی سربراہی میں انڈونیشیا کے  اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے منگل کو ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اسٹریٹجک ایوی ایشن تعاون اور جے ایف 17 تھنڈر فائٹر جیٹ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملاقات انڈونیشی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد ایک اہم تعاقبی اقدام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ڈی جی پی آر) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، جس میں خاص طور پر دونوں فضائی افواج کے درمیان استعداد کار میں اضافے، خصوصی تربیت اور تکنیکی تبادلے پر توجہ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کئی ممالک نے پاکستان کے مایہ ناز جے ایف-17 تھنڈر طیارے کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے دوران اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے بعد اس طیارے کی عالمی ساکھ اور وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے معزز مہمان کو پاک فضائیہ میں جاری جدید سازی کی مہم کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے فضائیہ میں نئی دفاعی صلاحیتوں کی شمولیت اور انفرااسٹرکچر کی ترقی پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد ہمہ جہت آپریشنز میں برتری برقرار رکھنا ہے۔ ایئر چیف نے اعادہ کیا کہ پاک فضائیہ انڈونیشیا کے ساتھ مستقل ادارہ جاتی روابط اور مشترکہ آپریشنل تعاون کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کا ایک مرکزی حصہ جے ایف 17 تھنڈر طیارہ اور ممکنہ تکنیکی تعاون پر مبنی تھا جو پاکستان کے اس فلیگ شپ لڑاکا طیارے میں انڈونیشیا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر صام الدین نے پاک فضائیہ کی آپریشنل مہارت کی تعریف کی اور بالخصوص ’نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک‘ (این اے ایس ٹی پی) کے ذریعے حاصل کردہ تکنیکی کامیابیوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس پارک کو ایرو اسپیس کے شعبے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے خود انحصاری کا ثبوت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشی وزیر نے ایوی ایشن اور ایرو اسپیس کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا۔ یہ ملاقات پاک انڈونیشیا دفاعی تعلقات میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کی علامت ہے جس کا مقصد جدید فوجی تعاون کے ذریعے دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عراق نے بھی پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور تکنیکی ترقی کو سراہتے ہوئے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کے حصول میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ مہند غالب محمد راضی الاسدی نے اس خواہش کا اظہار ایئر چیف سے ان کے سرکاری دورہ عراق کے دوران ایک ملاقات میں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفری صام الدین کی سربراہی میں انڈونیشیا کے  اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے منگل کو ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اسٹریٹجک ایوی ایشن تعاون اور جے ایف 17 تھنڈر فائٹر جیٹ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔</strong></p>
<p>یہ ملاقات انڈونیشی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد ایک اہم تعاقبی اقدام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ڈی جی پی آر) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، جس میں خاص طور پر دونوں فضائی افواج کے درمیان استعداد کار میں اضافے، خصوصی تربیت اور تکنیکی تبادلے پر توجہ دی گئی۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کئی ممالک نے پاکستان کے مایہ ناز جے ایف-17 تھنڈر طیارے کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے دوران اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے بعد اس طیارے کی عالمی ساکھ اور وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے معزز مہمان کو پاک فضائیہ میں جاری جدید سازی کی مہم کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے فضائیہ میں نئی دفاعی صلاحیتوں کی شمولیت اور انفرااسٹرکچر کی ترقی پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد ہمہ جہت آپریشنز میں برتری برقرار رکھنا ہے۔ ایئر چیف نے اعادہ کیا کہ پاک فضائیہ انڈونیشیا کے ساتھ مستقل ادارہ جاتی روابط اور مشترکہ آپریشنل تعاون کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>مذاکرات کا ایک مرکزی حصہ جے ایف 17 تھنڈر طیارہ اور ممکنہ تکنیکی تعاون پر مبنی تھا جو پاکستان کے اس فلیگ شپ لڑاکا طیارے میں انڈونیشیا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>وزیر صام الدین نے پاک فضائیہ کی آپریشنل مہارت کی تعریف کی اور بالخصوص ’نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک‘ (این اے ایس ٹی پی) کے ذریعے حاصل کردہ تکنیکی کامیابیوں کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے اس پارک کو ایرو اسپیس کے شعبے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے خود انحصاری کا ثبوت قرار دیا۔</p>
<p>انڈونیشی وزیر نے ایوی ایشن اور ایرو اسپیس کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا۔ یہ ملاقات پاک انڈونیشیا دفاعی تعلقات میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کی علامت ہے جس کا مقصد جدید فوجی تعاون کے ذریعے دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط کرنا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب عراق نے بھی پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور تکنیکی ترقی کو سراہتے ہوئے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کے حصول میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ مہند غالب محمد راضی الاسدی نے اس خواہش کا اظہار ایئر چیف سے ان کے سرکاری دورہ عراق کے دوران ایک ملاقات میں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281561</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 23:02:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/13123602f5067c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/13123602f5067c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
