<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید بہتر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281554/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 280.00 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 280.01 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو امریکی ڈالر اپنی گراوٹ پر قائم رہا، جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے خلاف فوجداری تحقیقات شروع کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ اس اقدام کو مرکزی بینک کی خودمختاری اور امریکی اثاثوں پر اعتماد کے لیے خطرہ قرار دیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار اب بھی اتوار کی رات گئے سامنے آنے والی تحقیقات (انکوائری) کی خبر کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، یہ ایک ایسا اقدام تھا جس کی فیڈرل ریزرو کے سابق سربراہان نے بھی مذمت کی اور اسے مرکزی بینک پر شرحِ سود میں تیزی سے کمی لانے کے لیے امریکی صدر کے دباؤ کی مہم میں ایک ڈرامائی شدت کے طور پر دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال پر مارکیٹ کا ردِعمل یہ رہا کہ ڈالر اور امریکی ٹریژریز فروخت کی گئیں، جبکہ بے چینی کے باعث بعض سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سونے کا رخ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ فروخت اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر عائد کردہ ٹیرف کے بعد ہونے والی شدید فروخت کے مقابلے میں خاصی محدود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں ابتدائی کاروبار کے دوران یورو 1.1663 ڈالر پر مستحکم رہا جو گزشتہ سیشن میں 0.5 فیصد تک بڑھا تھا جبکہ پاؤنڈ اسٹرلنگ بھی معمولی تبدیلی کے ساتھ 1.3463 ڈالر پر برقرار رہا اور پیر کی 0.47 فیصد بڑھوتری کو تھامے رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئس فرانک کی مانگ میں ’محفوظ سرمایہ کاری‘ کے طور پر مزید اضافہ دیکھا گیا اور یہ معمولی بہتری کے ساتھ 0.7974 فی ڈالر پر رہا جبکہ ڈالر انڈیکس 98.92 کی سطح پر پایا گیا، گزشتہ سیشن میں ڈالر نے تین ہفتوں کی اپنی بدترین مندی ریکارڈ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کے تازہ اقدام نے رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید دو مرتبہ شرحِ سود میں کمی کی مارکیٹ توقعات کو زیادہ متاثر نہیں کیا، تاہم اس نے مرکزی بینک کی خودمختاری پر سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں، جو امریکی معاشی پالیسی کی بنیاد اور مالیاتی نظام کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 280.00 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 280.01 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو امریکی ڈالر اپنی گراوٹ پر قائم رہا، جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے خلاف فوجداری تحقیقات شروع کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ اس اقدام کو مرکزی بینک کی خودمختاری اور امریکی اثاثوں پر اعتماد کے لیے خطرہ قرار دیا جارہا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کار اب بھی اتوار کی رات گئے سامنے آنے والی تحقیقات (انکوائری) کی خبر کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، یہ ایک ایسا اقدام تھا جس کی فیڈرل ریزرو کے سابق سربراہان نے بھی مذمت کی اور اسے مرکزی بینک پر شرحِ سود میں تیزی سے کمی لانے کے لیے امریکی صدر کے دباؤ کی مہم میں ایک ڈرامائی شدت کے طور پر دیکھا گیا۔</p>
<p>اس صورتحال پر مارکیٹ کا ردِعمل یہ رہا کہ ڈالر اور امریکی ٹریژریز فروخت کی گئیں، جبکہ بے چینی کے باعث بعض سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سونے کا رخ بھی کیا۔</p>
<p>تاہم یہ فروخت اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر عائد کردہ ٹیرف کے بعد ہونے والی شدید فروخت کے مقابلے میں خاصی محدود رہی۔</p>
<p>ایشیا میں ابتدائی کاروبار کے دوران یورو 1.1663 ڈالر پر مستحکم رہا جو گزشتہ سیشن میں 0.5 فیصد تک بڑھا تھا جبکہ پاؤنڈ اسٹرلنگ بھی معمولی تبدیلی کے ساتھ 1.3463 ڈالر پر برقرار رہا اور پیر کی 0.47 فیصد بڑھوتری کو تھامے رکھا۔</p>
<p>سوئس فرانک کی مانگ میں ’محفوظ سرمایہ کاری‘ کے طور پر مزید اضافہ دیکھا گیا اور یہ معمولی بہتری کے ساتھ 0.7974 فی ڈالر پر رہا جبکہ ڈالر انڈیکس 98.92 کی سطح پر پایا گیا، گزشتہ سیشن میں ڈالر نے تین ہفتوں کی اپنی بدترین مندی ریکارڈ کی تھی۔</p>
<p>اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کے تازہ اقدام نے رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید دو مرتبہ شرحِ سود میں کمی کی مارکیٹ توقعات کو زیادہ متاثر نہیں کیا، تاہم اس نے مرکزی بینک کی خودمختاری پر سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں، جو امریکی معاشی پالیسی کی بنیاد اور مالیاتی نظام کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281554</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 16:12:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/131123314c703b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/131123314c703b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
