<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 01:34:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 01:34:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا نے یکساں قومی اوسط ٹیرف کی منظوری دیدی، صنعتی اور برآمدی شعبے کے اعتراض نظر انداز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281541/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پیر کو تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے لیے سال 2026 کے لیے یکساں اوسط قومی ٹیرف کی منظوری دے دی ہے، حالانکہ صنعت اور برآمدی شعبے نے اس فیصلے پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ صنعتی نمائندوں نے کہا کہ تقریباً 130 ارب روپے کے کراس سبسڈی بوجھ نے برآمدات اور پیداواری سرگرمیوں کو غیر پائیدار بنا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحفظات وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں بجلی ٹیرف کے تعین کی درخواست پر ہونے والی عوامی سماعت میں پیش کیے گئے، جس سے قبل نیپرا نے موجودہ سال 2026 کے لیے 61 پیسے فی یونٹ کمی کی تجویز دی تھی۔ سات جنوری کو طے کیے گئے ٹیرف کے تحت تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) کا اوسط ٹیرف 34 روپے سے کم ہو کر 33 روپے 38 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا، جسے حکومت نے یکساں ٹیرف لاگو کرنے کے لیے نیپرا کو بھیجا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کی صدارت چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے کی جبکہ اراکین مقصود انور خان اور آمنہ احمد نے بھی شرکت کی۔ پاور ڈویژن کے وفد نے شعبے کے مالیاتی مسائل، بجلی کی طلب و رسد، مستقبل کی پیداوار، نیٹ میٹرنگ اور آف گرڈ سولر کے اثرات پر بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتکاروں کے مطابق ڈسکوز کے اندرونی نرخوں میں 131 ارب روپے کی کراس سبسڈی شامل ہے جبکہ کے الیکٹرک کے نیٹ ورک میں یہ رقم 160 ارب روپے کے قریب پہنچ چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ صنعتی صارفین فی یونٹ تقریباً سات روپے اضافی ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صنعت کو یہ بوجھ نہ اٹھانا پڑے تو ٹیرف کم ہو کر نو سینٹ فی یونٹ تک آسکتا ہے، جس سے برآمدی مسابقت بحال ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل کے نمائندوں نے بتایا کہ پاکستان میں سپنڈلز کی تعداد ساڑھے دس ملین سے گھٹ کر تقریباً نصف رہ گئی ہے، جبکہ چین کے غریب ترین صوبے سنکیانگ میں حکومت نے بجلی پانچ سینٹ فی یونٹ فراہم کر کے تین ملین سے زائد سپنڈلز لگا دیے ہیں اور مزید ڈیڑھ ملین کا اضافہ کر رہی ہے۔ مقابلتاً پاکستان میں صنعتی ٹیرف تقریباً 12.9 سینٹ فی یونٹ ہے جس نے مقامی مصنوعات کی جگہ درآمدی کپڑے کو منڈی میں مضبوط کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکا نے کہا کہ صنعتی صارفین بہتر بل وصولی اور کم نقصانات کے باوجود قرض واپسی سرچارج سمیت فی یونٹ 35 روپے تک ادا کر رہے ہیں جبکہ اصل لاگت 29 روپے بنتی ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے تجویز پیش کی کہ بی کیٹیگری صارفین سے کراس سبسڈی ختم کر کے بڑی صنعتوں کو علاقائی نرخوں کے برابر لایا جائے، جس سے سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے بتایا کہ صنعتی ٹیرف میں کمی کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ برس میں صنعتی نرخوں میں 26 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ ملک کی نصب شدہ صلاحیت 58 ہزار میگاواٹ ہے، جس میں سے قابل تجدید ذرائع کا حصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نیپرا کو آگاہ کیا گیا کہ 2035 تک تنصیب شدہ مجموعی صلاحیت 87 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے اور درآمدی ایندھن کا بوجھ کم ہو کر 30 کروڑ ڈالر رہ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ بڑے پیمانے پر سولرائزیشن سے بجلی کی کھپت میں کمی آئی ہے جس کا مالی بوجھ موجودہ صارفین پر پڑ رہا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق گردشی قرض جون 2025 کے اندازے کے مطابق 1.6 ٹریلین روپے کی سطح پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پیر کو تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے لیے سال 2026 کے لیے یکساں اوسط قومی ٹیرف کی منظوری دے دی ہے، حالانکہ صنعت اور برآمدی شعبے نے اس فیصلے پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ صنعتی نمائندوں نے کہا کہ تقریباً 130 ارب روپے کے کراس سبسڈی بوجھ نے برآمدات اور پیداواری سرگرمیوں کو غیر پائیدار بنا دیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ تحفظات وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں بجلی ٹیرف کے تعین کی درخواست پر ہونے والی عوامی سماعت میں پیش کیے گئے، جس سے قبل نیپرا نے موجودہ سال 2026 کے لیے 61 پیسے فی یونٹ کمی کی تجویز دی تھی۔ سات جنوری کو طے کیے گئے ٹیرف کے تحت تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) کا اوسط ٹیرف 34 روپے سے کم ہو کر 33 روپے 38 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا، جسے حکومت نے یکساں ٹیرف لاگو کرنے کے لیے نیپرا کو بھیجا۔</p>
<p>سماعت کی صدارت چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے کی جبکہ اراکین مقصود انور خان اور آمنہ احمد نے بھی شرکت کی۔ پاور ڈویژن کے وفد نے شعبے کے مالیاتی مسائل، بجلی کی طلب و رسد، مستقبل کی پیداوار، نیٹ میٹرنگ اور آف گرڈ سولر کے اثرات پر بریفنگ دی۔</p>
<p>صنعتکاروں کے مطابق ڈسکوز کے اندرونی نرخوں میں 131 ارب روپے کی کراس سبسڈی شامل ہے جبکہ کے الیکٹرک کے نیٹ ورک میں یہ رقم 160 ارب روپے کے قریب پہنچ چکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ صنعتی صارفین فی یونٹ تقریباً سات روپے اضافی ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صنعت کو یہ بوجھ نہ اٹھانا پڑے تو ٹیرف کم ہو کر نو سینٹ فی یونٹ تک آسکتا ہے، جس سے برآمدی مسابقت بحال ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ٹیکسٹائل کے نمائندوں نے بتایا کہ پاکستان میں سپنڈلز کی تعداد ساڑھے دس ملین سے گھٹ کر تقریباً نصف رہ گئی ہے، جبکہ چین کے غریب ترین صوبے سنکیانگ میں حکومت نے بجلی پانچ سینٹ فی یونٹ فراہم کر کے تین ملین سے زائد سپنڈلز لگا دیے ہیں اور مزید ڈیڑھ ملین کا اضافہ کر رہی ہے۔ مقابلتاً پاکستان میں صنعتی ٹیرف تقریباً 12.9 سینٹ فی یونٹ ہے جس نے مقامی مصنوعات کی جگہ درآمدی کپڑے کو منڈی میں مضبوط کر دیا ہے۔</p>
<p>شرکا نے کہا کہ صنعتی صارفین بہتر بل وصولی اور کم نقصانات کے باوجود قرض واپسی سرچارج سمیت فی یونٹ 35 روپے تک ادا کر رہے ہیں جبکہ اصل لاگت 29 روپے بنتی ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے تجویز پیش کی کہ بی کیٹیگری صارفین سے کراس سبسڈی ختم کر کے بڑی صنعتوں کو علاقائی نرخوں کے برابر لایا جائے، جس سے سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے بتایا کہ صنعتی ٹیرف میں کمی کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ برس میں صنعتی نرخوں میں 26 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ ملک کی نصب شدہ صلاحیت 58 ہزار میگاواٹ ہے، جس میں سے قابل تجدید ذرائع کا حصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نیپرا کو آگاہ کیا گیا کہ 2035 تک تنصیب شدہ مجموعی صلاحیت 87 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے اور درآمدی ایندھن کا بوجھ کم ہو کر 30 کروڑ ڈالر رہ جائے گا۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ بڑے پیمانے پر سولرائزیشن سے بجلی کی کھپت میں کمی آئی ہے جس کا مالی بوجھ موجودہ صارفین پر پڑ رہا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق گردشی قرض جون 2025 کے اندازے کے مطابق 1.6 ٹریلین روپے کی سطح پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281541</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 08:58:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/130855304662a05.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/130855304662a05.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
