<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:33:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:33:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی غیر یقینی صورتحال معاشی بحران کو ہوا دے رہی ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281533/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عہدے پر اپنی مدتِ ملازمت کا ایک سال مکمل ہونے میں محض ایک ہفتہ باقی تھا کہ صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں (انتہائی سخت محصولات اور پابندیاں) اور بین الاقوامی تعلقات، جو صرف حریفوں اور مسابقتی ممالک ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے سوا روایتی اتحادیوں (یورپ) تک پھیلے ہوئے ہیں، نے عالمی سطح پر ایسی غیر یقینی کیفیت کو جنم دیا جس کی کوئی تاریخی مثال نہیں ملتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک برس کے دوران امریکا کے اقدامات کا جائزہ لینا اس غیر یقینی صورتحال کے حجم اور گہرائی کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے، جو عالمی معاشی سرگرمیوں میں سست روی کا بنیادی محرک بن چکی ہے، اور اس کی زد میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بھی آ رہے ہیں۔ اس ضمن میں چار اہم مشاہدات قابلِ ذکر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، تمام تجارتی شراکت داروں پر انتہائی بلند محصولات کا نفاذ، جن میں پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف شامل ہے، جو اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پہلے عائد کیے گئے 29 فیصد سے کم ہے، تاہم گزشتہ برسوں میں امریکا کے اوسط 10.7 فیصد محصولات سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے نہ صرف امریکا کے بجائے دیگر ممالک سے زرعی مصنوعات کی درآمد شروع کی بلکہ نایاب معدنیات کی عالمی سپلائی چین میں اپنی اجارہ داری کو بھی موثر طور پر استعمال کیا، جہاں عالمی سطح پر ریفائن (خالص) نایاب معدنیات کی 90 سے 92 فیصد تک فراہمی چین کے کنٹرول میں ہے۔ یہ عناصر اسمارٹ فونز، برقی گاڑیوں، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ٹربائنز، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، جدید الیکٹرانکس کے علاوہ جنگی طیاروں، آبدوزوں، ریڈار، سونار اور میزائل رہنمائی نظام کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس یورپی یونین (ای یو) نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے تمام امریکی صنعتی مصنوعات پر محصولات ختم کرنے، امریکی سمندری خوراک اور زرعی مصنوعات کی وسیع رینج کو ترجیحی رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ امریکا نے دستیاب نہ ہونے والے قدرتی وسائل، طیاروں اور ان کے پرزہ جات اور جنرک ادویات کے سوا یورپی یونین کی بیشتر درآمدات پر 15 فیصد جامع ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لیین نے حیران کن طور پر اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یورپی یونین 2028 تک امریکا سے 750 ارب ڈالر مالیت کا تیل، ایل این جی اور جوہری توانائی سے متعلق مصنوعات خریدے گی، جو روس سے پہلے دستیاب نرخوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہیں، اس کے علاوہ 40 ارب ڈالر کے مصنوعی ذہانت کے چپس خریدے جائیں گے اور امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پابندیوں کو بڑھتے ہوئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جن میں خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں اور ممالک پر اثاثے منجمد کرنے، تجارتی قدغنیں عائد کرنے اور سوئفٹ (سوسائٹی فار ورلڈوائیڈ انٹر بینک فنانشل کمیونیکیشن) کے استعمال سے محروم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان پالیسیوں نے ڈالر کے بطور بنیادی ذخائر اور تجارتی کرنسی متبادل کی عالمی خواہش کو تقویت دی ہے (دیگر کرنسیوں خصوصاً چینی یوآن میں تجارت کا آغاز ہو چکا ہے، اگرچہ اس وقت یہ عالمی تجارت کا لگ بھگ 20 فیصد ہے) اور سوئفٹ نظام کے متبادل کی تلاش کو بھی مہمیز دی ہے (چین نے 2015 میں کراس بارڈر انٹر بینک پیمنٹ سسٹم متعارف کرایا جو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، 2022 میں روس پر عائد کی گئی پابندیاں واضح طور پر ناکام ثابت ہوئیں، کیونکہ روس نے متبادل منڈیاں (بالخصوص چین) کامیابی سے تلاش کر لیں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کی شرحِ نمو امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں سے بھی زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے رواں سال روس کی شرحِ نمو 3.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جو برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، اور نشاندہی کی ہے کہ روسی برآمدات مستحکم رہیں جبکہ بلند سرکاری اخراجات نے نمو میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، امریکی فوج نے دنیا کے مختلف حصوں میں کارروائیاں کیں، تاہم صدر ٹرمپ کے ناقدین کے اس دعوے کے باوجود کہ یہ اقدامات ان کے انتخابی وعدے، ”ہمیشہ کی جنگوں“ سے اجتناب، کی خلاف ورزی ہیں، اب تک کی فوجی مصروفیات محدود دائرہ کار اور مختصر مدت کی رہی ہیں، اس لیے اس الزام کو تقویت نہیں ملتی کہ صدر ٹرمپ نیو کنزرویٹو ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، ایک ایسا ایجنڈا جو سماجی انجینئرنگ کا حامی رہا ہے اور بارہا ناکام ہوا ہے، کیونکہ جب بھی امریکی افواج زمینی سطح پر اتریں، قوم پرستی ابھر آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی فوجی کارروائیاں چار ممالک تک محدود رہیں: (اول) یمن میں حوثیوں کے مضبوط ٹھکانوں پر ایک ماہ کی بمباری کے بعد صدر ٹرمپ نے فتح کا اعلان کیا، تاہم غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے ردعمل میں بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حوثی حملے تاحال جاری ہیں اور اسرائیلی بندرگاہ ایلات کو شدید خلل کا سامنا ہے؛ (دوم) ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ ایک وقتی کارروائی تھی، جس کے بارے میں صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم کر دی گئی، ایک دعویٰ جس پر بہت سے حلقے اختلاف کرتے ہیں؛ (سوم) نائجیریا میں داعش سے منسلک حملہ؛ اور (چہارم) وینزویلا میں کارروائی، جس کا اختتام مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری پر ہوا، جبکہ اطلاعات کے مطابق یہ ایک بغاوت تھی کیونکہ وینزویلا کا فضائی دفاعی نظام کبھی فعال ہی نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی افواج زمینی سطح پر موجود نہیں، تاہم امریکا نے وینزویلا کے تیل کی کسی بھی دوسرے ملک کو فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ وینزویلا کی سڑکوں پر قوم پرستی ابھر آئی ہے اور مادورو حکومت کے ارکان کی جانب سے حمایتی بیانات سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں آئس لینڈ کے قریب بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم بردار ایک ٹینکر کی ضبطی کے بعد روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے یہ بیان جاری کیا: ” 1982 کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ دیگر ریاستوں کے دائرۂ اختیار میں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ جہازوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے وینزویلا کے ساتھ تیل کے معاہدے کر رکھے ہیں اور اب اسے یا تو کہیں اور سے (زیادہ قیمت پر) تیل حاصل کرنا پڑے گا، یا امریکا کے خلاف نایاب معدنیات کے اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرنا ہوگا، یا، جیسا کہ بعض کو خدشہ ہے، تائیوان کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یہ واضح نہیں کہ وینزویلا میں امریکی مداخلت کا انجام گزشتہ تین کارروائیوں سے مختلف ہوگا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چہارم، دنیا کے دو دیگر خطوں میں بالواسطہ یا براہِ راست فوجی کارروائی کی مضمر دھمکی ہے۔ ان میں ایک ایران ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے مار-اے-لاگو کے حالیہ دورے کے دوران ٹرمپ سے ایران پر حملے کے لیے گرین سگنل حاصل کیا ہے۔ اتفاق سے ایک دن بعد ایران میں داخلی بدامنی کی خبریں سامنے آئیں،ایک ایسا خطہ جہاں اتفاقات سازشی نظریات کو جنم دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق امریکا ایران پر ممکنہ حملے کے لیے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکا خود اس میں براہِ راست شامل ہوگا یا نہیں۔ اگر امریکا کسی اور محاذ پر مصروفیت کے باعث براہِ راست مداخلت سے گریز کرے یا اس کی سکت نہ رکھتا ہو تو یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ اسرائیل جوہری آپشن پر غور کر سکتا ہے، بالخصوص اس تناظر میں کہ ایران اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائل موثر طور پر داغنے کی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔ ایسی صورت میں پورا خطہ، بشمول پاکستان، شدید اثرات کی زد میں آ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، صدر ٹرمپ کا یہ اصرار کہ وہ گرین لینڈ—ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ—پر کنٹرول چاہتے ہیں، یورپی ممالک میں اجتماعی تشویش کا باعث بنا ہے، تاہم کم ہی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین امریکا کے خلاف کسی فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈنمارک کی وزیرِ اعظم نے قدرے سادہ انداز میں کہا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر قبضہ کر لیا تو نیٹو ختم ہو جائے گا—حالانکہ یہ تنظیم بنیادی طور پر امریکا ہی کے مالی تعاون سے چلتی ہے (2024 میں امریکا نے 900 ارب ڈالر سے زائد فراہم کیے، جبکہ باقی 31 رکن ممالک کا مجموعی حصہ 507 ارب ڈالر تھا)۔ گرین لینڈ کی امریکا کے ہاتھوں خریداری کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں، اور ڈنمارک نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق اس ہفتے ڈینش حکام سے بات چیت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں تنازعات عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال کو مزید ہوا دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر متوقع شرحِ نمو سے کم رفتار کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی تنازع کے حل کا ترجیحی راستہ سفارت کاری ہوتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہ راستہ اختیار ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ امریکا کی قیادت میں مغربی دنیا اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ خود ان کے عوام کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اور باقی دنیا اس کے خلاف ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک نے روس کے ساتھ براہِ راست بات چیت سے گریز کیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی تمام امن تجاویز کو موخر کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یوکرین روزانہ کی بنیاد پر مزید علاقہ کھوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس چین اور روس نے سفارت کاری پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ان کا اصرار ہے کہ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے صرف وہی فریق مذاکرات کریں جو پیچیدہ معاہدوں پر بات چیت اور ان کی تدوین کی اہلیت رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالاخر یہی امید کی جا سکتی ہے کہ عقلِ سلیم غالب آئے اور تین بڑی جوہری طاقتیں،امریکا، چین اور روس، اس مقصد کے تحت مکالمے میں داخل ہوں کہ جوہری تباہی کے خدشے کے ساتھ تیسری عالمی جنگ سے بچا جا سکے اور دنیا کے عوام، بشمول ان کے اپنے شہریوں، کے معیارِ زندگی کو آنے والی دہائیوں تک نقصان نہ پہنچے۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ محض خوش فہمی  ہی دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عہدے پر اپنی مدتِ ملازمت کا ایک سال مکمل ہونے میں محض ایک ہفتہ باقی تھا کہ صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں (انتہائی سخت محصولات اور پابندیاں) اور بین الاقوامی تعلقات، جو صرف حریفوں اور مسابقتی ممالک ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے سوا روایتی اتحادیوں (یورپ) تک پھیلے ہوئے ہیں، نے عالمی سطح پر ایسی غیر یقینی کیفیت کو جنم دیا جس کی کوئی تاریخی مثال نہیں ملتی۔</strong></p>
<p>گزشتہ ایک برس کے دوران امریکا کے اقدامات کا جائزہ لینا اس غیر یقینی صورتحال کے حجم اور گہرائی کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے، جو عالمی معاشی سرگرمیوں میں سست روی کا بنیادی محرک بن چکی ہے، اور اس کی زد میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بھی آ رہے ہیں۔ اس ضمن میں چار اہم مشاہدات قابلِ ذکر ہیں۔</p>
<p>اول، تمام تجارتی شراکت داروں پر انتہائی بلند محصولات کا نفاذ، جن میں پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف شامل ہے، جو اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پہلے عائد کیے گئے 29 فیصد سے کم ہے، تاہم گزشتہ برسوں میں امریکا کے اوسط 10.7 فیصد محصولات سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>چین نے نہ صرف امریکا کے بجائے دیگر ممالک سے زرعی مصنوعات کی درآمد شروع کی بلکہ نایاب معدنیات کی عالمی سپلائی چین میں اپنی اجارہ داری کو بھی موثر طور پر استعمال کیا، جہاں عالمی سطح پر ریفائن (خالص) نایاب معدنیات کی 90 سے 92 فیصد تک فراہمی چین کے کنٹرول میں ہے۔ یہ عناصر اسمارٹ فونز، برقی گاڑیوں، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ٹربائنز، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، جدید الیکٹرانکس کے علاوہ جنگی طیاروں، آبدوزوں، ریڈار، سونار اور میزائل رہنمائی نظام کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس یورپی یونین (ای یو) نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے تمام امریکی صنعتی مصنوعات پر محصولات ختم کرنے، امریکی سمندری خوراک اور زرعی مصنوعات کی وسیع رینج کو ترجیحی رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ امریکا نے دستیاب نہ ہونے والے قدرتی وسائل، طیاروں اور ان کے پرزہ جات اور جنرک ادویات کے سوا یورپی یونین کی بیشتر درآمدات پر 15 فیصد جامع ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لیین نے حیران کن طور پر اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یورپی یونین 2028 تک امریکا سے 750 ارب ڈالر مالیت کا تیل، ایل این جی اور جوہری توانائی سے متعلق مصنوعات خریدے گی، جو روس سے پہلے دستیاب نرخوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہیں، اس کے علاوہ 40 ارب ڈالر کے مصنوعی ذہانت کے چپس خریدے جائیں گے اور امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی جائے گی۔</p>
<p>دوم، امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے پابندیوں کو بڑھتے ہوئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جن میں خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں اور ممالک پر اثاثے منجمد کرنے، تجارتی قدغنیں عائد کرنے اور سوئفٹ (سوسائٹی فار ورلڈوائیڈ انٹر بینک فنانشل کمیونیکیشن) کے استعمال سے محروم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان پالیسیوں نے ڈالر کے بطور بنیادی ذخائر اور تجارتی کرنسی متبادل کی عالمی خواہش کو تقویت دی ہے (دیگر کرنسیوں خصوصاً چینی یوآن میں تجارت کا آغاز ہو چکا ہے، اگرچہ اس وقت یہ عالمی تجارت کا لگ بھگ 20 فیصد ہے) اور سوئفٹ نظام کے متبادل کی تلاش کو بھی مہمیز دی ہے (چین نے 2015 میں کراس بارڈر انٹر بینک پیمنٹ سسٹم متعارف کرایا جو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے)۔</p>
<p>تاہم، 2022 میں روس پر عائد کی گئی پابندیاں واضح طور پر ناکام ثابت ہوئیں، کیونکہ روس نے متبادل منڈیاں (بالخصوص چین) کامیابی سے تلاش کر لیں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کی شرحِ نمو امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں سے بھی زیادہ رہی۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے رواں سال روس کی شرحِ نمو 3.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جو برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، اور نشاندہی کی ہے کہ روسی برآمدات مستحکم رہیں جبکہ بلند سرکاری اخراجات نے نمو میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>سوم، امریکی فوج نے دنیا کے مختلف حصوں میں کارروائیاں کیں، تاہم صدر ٹرمپ کے ناقدین کے اس دعوے کے باوجود کہ یہ اقدامات ان کے انتخابی وعدے، ”ہمیشہ کی جنگوں“ سے اجتناب، کی خلاف ورزی ہیں، اب تک کی فوجی مصروفیات محدود دائرہ کار اور مختصر مدت کی رہی ہیں، اس لیے اس الزام کو تقویت نہیں ملتی کہ صدر ٹرمپ نیو کنزرویٹو ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، ایک ایسا ایجنڈا جو سماجی انجینئرنگ کا حامی رہا ہے اور بارہا ناکام ہوا ہے، کیونکہ جب بھی امریکی افواج زمینی سطح پر اتریں، قوم پرستی ابھر آئی۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی فوجی کارروائیاں چار ممالک تک محدود رہیں: (اول) یمن میں حوثیوں کے مضبوط ٹھکانوں پر ایک ماہ کی بمباری کے بعد صدر ٹرمپ نے فتح کا اعلان کیا، تاہم غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے ردعمل میں بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حوثی حملے تاحال جاری ہیں اور اسرائیلی بندرگاہ ایلات کو شدید خلل کا سامنا ہے؛ (دوم) ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ ایک وقتی کارروائی تھی، جس کے بارے میں صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم کر دی گئی، ایک دعویٰ جس پر بہت سے حلقے اختلاف کرتے ہیں؛ (سوم) نائجیریا میں داعش سے منسلک حملہ؛ اور (چہارم) وینزویلا میں کارروائی، جس کا اختتام مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری پر ہوا، جبکہ اطلاعات کے مطابق یہ ایک بغاوت تھی کیونکہ وینزویلا کا فضائی دفاعی نظام کبھی فعال ہی نہیں ہوا۔</p>
<p>اگرچہ امریکی افواج زمینی سطح پر موجود نہیں، تاہم امریکا نے وینزویلا کے تیل کی کسی بھی دوسرے ملک کو فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ وینزویلا کی سڑکوں پر قوم پرستی ابھر آئی ہے اور مادورو حکومت کے ارکان کی جانب سے حمایتی بیانات سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں آئس لینڈ کے قریب بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم بردار ایک ٹینکر کی ضبطی کے بعد روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے یہ بیان جاری کیا: ” 1982 کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ دیگر ریاستوں کے دائرۂ اختیار میں باضابطہ طور پر رجسٹرڈ جہازوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔“</p>
<p>چین نے وینزویلا کے ساتھ تیل کے معاہدے کر رکھے ہیں اور اب اسے یا تو کہیں اور سے (زیادہ قیمت پر) تیل حاصل کرنا پڑے گا، یا امریکا کے خلاف نایاب معدنیات کے اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرنا ہوگا، یا، جیسا کہ بعض کو خدشہ ہے، تائیوان کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔</p>
<p>لہٰذا یہ واضح نہیں کہ وینزویلا میں امریکی مداخلت کا انجام گزشتہ تین کارروائیوں سے مختلف ہوگا یا نہیں۔</p>
<p>چہارم، دنیا کے دو دیگر خطوں میں بالواسطہ یا براہِ راست فوجی کارروائی کی مضمر دھمکی ہے۔ ان میں ایک ایران ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے مار-اے-لاگو کے حالیہ دورے کے دوران ٹرمپ سے ایران پر حملے کے لیے گرین سگنل حاصل کیا ہے۔ اتفاق سے ایک دن بعد ایران میں داخلی بدامنی کی خبریں سامنے آئیں،ایک ایسا خطہ جہاں اتفاقات سازشی نظریات کو جنم دیتے ہیں۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق امریکا ایران پر ممکنہ حملے کے لیے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ امریکا خود اس میں براہِ راست شامل ہوگا یا نہیں۔ اگر امریکا کسی اور محاذ پر مصروفیت کے باعث براہِ راست مداخلت سے گریز کرے یا اس کی سکت نہ رکھتا ہو تو یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ اسرائیل جوہری آپشن پر غور کر سکتا ہے، بالخصوص اس تناظر میں کہ ایران اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائل موثر طور پر داغنے کی صلاحیت ثابت کر چکا ہے۔ ایسی صورت میں پورا خطہ، بشمول پاکستان، شدید اثرات کی زد میں آ جائے گا۔</p>
<p>دوم، صدر ٹرمپ کا یہ اصرار کہ وہ گرین لینڈ—ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ—پر کنٹرول چاہتے ہیں، یورپی ممالک میں اجتماعی تشویش کا باعث بنا ہے، تاہم کم ہی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین امریکا کے خلاف کسی فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرے گی۔</p>
<p>ڈنمارک کی وزیرِ اعظم نے قدرے سادہ انداز میں کہا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر قبضہ کر لیا تو نیٹو ختم ہو جائے گا—حالانکہ یہ تنظیم بنیادی طور پر امریکا ہی کے مالی تعاون سے چلتی ہے (2024 میں امریکا نے 900 ارب ڈالر سے زائد فراہم کیے، جبکہ باقی 31 رکن ممالک کا مجموعی حصہ 507 ارب ڈالر تھا)۔ گرین لینڈ کی امریکا کے ہاتھوں خریداری کی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں، اور ڈنمارک نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق اس ہفتے ڈینش حکام سے بات چیت کی جائے گی۔</p>
<p>یہ دونوں تنازعات عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال کو مزید ہوا دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر متوقع شرحِ نمو سے کم رفتار کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>کسی بھی تنازع کے حل کا ترجیحی راستہ سفارت کاری ہوتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہ راستہ اختیار ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ امریکا کی قیادت میں مغربی دنیا اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ خود ان کے عوام کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اور باقی دنیا اس کے خلاف ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک نے روس کے ساتھ براہِ راست بات چیت سے گریز کیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی تمام امن تجاویز کو موخر کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یوکرین روزانہ کی بنیاد پر مزید علاقہ کھوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس چین اور روس نے سفارت کاری پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ان کا اصرار ہے کہ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے صرف وہی فریق مذاکرات کریں جو پیچیدہ معاہدوں پر بات چیت اور ان کی تدوین کی اہلیت رکھتے ہوں۔</p>
<p>بالاخر یہی امید کی جا سکتی ہے کہ عقلِ سلیم غالب آئے اور تین بڑی جوہری طاقتیں،امریکا، چین اور روس، اس مقصد کے تحت مکالمے میں داخل ہوں کہ جوہری تباہی کے خدشے کے ساتھ تیسری عالمی جنگ سے بچا جا سکے اور دنیا کے عوام، بشمول ان کے اپنے شہریوں، کے معیارِ زندگی کو آنے والی دہائیوں تک نقصان نہ پہنچے۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ محض خوش فہمی  ہی دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281533</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 17:04:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/12162105216f31e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/12162105216f31e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
